کراچی پورٹ کے ٹرمینل پررش جہاز برآمدی کنٹینرز لیے بغیر روانہ

درآمدی کنٹینرزپرجرمانے لگنے سے ڈلیوری نہیں لی جارہی،برآمدی کنسائمنٹ کیلیے جگہ تنگ پڑگئی


Ehtisham Mufti December 06, 2013
صورتحال سے نمٹنے کیلیے اجلاس،ڈیمریج کم کرنے پراتفاق،امپورٹر فائدہ اٹھائیں،کسٹمز ایجنٹس فوٹو : آن لائن

کراچی بندرگاہ کے نجی کنٹینرٹرمینل پرکنٹینرز کے رش اور مطلوبہ جگہ کی عدم دستیابی کے باعث بحری جہازبرآمدی مصنوعات کے 1000 کنٹینرز ڈلیوری لیے بغیر روانہ ہوگیا، بندرگاہوں پرفی الفورجگہ کی تنگی ختم نہ ہونے کی صورت میں برآمدی سرگرمیاں منجمد ہونے کا خطرہ ہے۔

بھاری ڈیمریجز اور ڈیٹنشن چارجز عائد ہونے کے سبب درآمدکنندگان کسٹمز کلیئرنس کے باوجود بندرگاہ سے اپنے کنسائنمنٹس کی ڈلیوری لینے میں سست روی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور یہی وجہ پی آئی سی ٹی میں بالخصوص جگہ کی تنگی کا باعث ہے، ٹرمینل کے پاس کسٹمز ایگزامنیشن کے لیے فاضل جگہ نہ ہونے کے سبب پاکستانی برآمدی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر افتخار شیخ نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ درآمدی کنٹینرز ڈلیوری نہ لیے جانے اور ملکی برآمدات کی ترسیل سنگین صورتحال اختیار ہونے کے سبب جمعرات کو کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن اورپاکستان انٹرنیشنل کنٹینرٹرمینل کی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کیے گئے ۔



جس میں پی آئی سی ٹی حکام نے 8 دسمبر کی شب12 بجے تک ٹرمینل میں داخل ہونے والے خالی ٹرکوں پر9 دسمبر 2013 کی صبح 7 بجے تک کنٹینرز کی ڈلیوری لینے والے درآمدکنندگان کو ڈیمریج میں15 فیصد کی چھوٹ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے لہٰذا درآمدکنندگان کو چاہیے کہ وہ پی آئی سی ٹی کی مذکورہ ترغیب سے استفادہ کریں تاکہ ٹرمینل پر برآمدی کنسائنمنٹس کی کسٹمز ایگزامنیشن کے لیے مطلوبہ جگہ کی دستیابی یقینی ہوسکے جو بروقت بحری جہازوں پر لوڈ ہو سکیں۔

افتخارشیخ نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے دوران ترسیل متاثر ہونے اوربھاری ڈیمریج وڈیٹینشن چارجز عائد ہونے کے سبب پی آئی سی ٹی سے درآمدی کنسائنمنٹس کی یومیہ ڈلیوری 500 کنٹینرز سے گھٹ کر 150 کنٹینرز تک پہنچ گئی، درآمدی کنٹینرز کی ڈلیوری محدود ہونے سے بندرگاہوں پرجگہ تنگ پڑگئی ہے جس سے ایکسپورٹ متاثر ہو رہی ہے۔ کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل فیصل مشتاق نے بتایا کہ جگہ کی تنگی میں وزارت بندرگاہ وجہازرانی کا کردار ہے،وزیرپورٹس نے اعلان کے باوجود نجی کنٹینر ٹرمینلز انتظامیہ کوہڑتال کے دوران رکنے والے درآمدی کنٹینرز پر ڈیمریج وڈیٹنشن چارجز معاف کرنے کی ہدایات جاری نہیں کیں جس کے سبب ٹریڈ سیکٹر کی تکالیف میں مزید اضافہ ہوا۔

مقبول خبریں