طارق ملک… وتعزمّن تشاء …

طارق ملک نادرا کی کسی کارروائی کے ذریعے اگر دو ایک ایم این اے حضرات کو فارغ کر دیتا خواہ ان میں کوئی ایک وزیر۔۔۔


Abdul Qadir Hassan December 06, 2013
[email protected]

برسہا برس سے نسل در نسل رزق حلال کی روکھی سوکھی کھا کر اس کے بزرگوں نے جوں توں کر کے زندگی بسر کر دی۔ سیدنا حضرت علیؓ کی اس غیر فاطمی اولاد کو جب رزق حلال اس قدر ملنے لگا کہ وہ روکھی سوکھی کی جگہ چپڑی ہوئی کھا سکیں تب بھی انھوں نے کفایت اور صبر سے کام لیا اور خدا کے عطا کردہ رزق کو ضایع نہیں کیا۔

ہمارے محترم بھائی فتح محمد ملک اسی اعوان نسل کے وہ عالم فاضل نمایندے اور ایک نمونہ ہیں جن کی رزق حلال پر پرورش ہوئی اور ان کی اولاد بھی اسی غیرت اور خود داری کا ایک ایسا نمونہ بن گئی کہ جب آزمائش کا وقت آیا تو یہ کندن چمکنے دمکنے لگا، دنیا حیران رہ گئی۔ ایک طرف اقتدار اور دوسری طرف درویشانہ صفات کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔ اعوان قوم ایک غریب قوم ہے۔ اعوانوں کے قبیلے کو اعوان قاری بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ جب محمود غزنوی کی فوج کے ساتھ ہندوستان آئے تو ان میں سے کچھ لوگوں نے سپہ گری کا پیشہ اختیار کیا اور کچھ قرآنی علوم کی ترویج میں لگ گئے اور اسی وجہ سے اعوان قاری بھی کہلائے۔ اس بدلتی دنیا میں اس قبیلے کی اکثریت یاد رکھتی ہے کہ وہ کس عظیم ہستی کی اولاد ہیں اور ان کی زندگی کی عزت کس میں ہے۔ وہی عزت جس کے لیے فتح محمد ملک کے بیٹے طارق ملک نے رسک لیا اور قدرت کو اس قدر خوش کیا کہ پوری پاکستانی قوم اس نوجوان کی عزت کرنے لگی بلکہ اس پر فخر کرنے لگی۔

ابھی محترم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا زندہ اور آراستہ و پیراستہ جرنیلوں کو انکار اس حال میں کہ خدا کی زمین پر وہ بالکل تنہا رہ گئے تھے لیکن اس زمین کے مالک نے ان پر رحم کھایا اور ان کے دل کو استقامت اور جرأت سے بھر دیا، دنیا کی چھٹی طاقت ور فوج کے سپہ سالار ایک عدالتی کارکن اور سرکاری ملازم کے سامنے بے بس ہو گئے معلوم نہیں انھیں قدرت کے اس کرشمے کا کچھ شعور اور احساس ہے یا نہیں لیکن پاکستانی قوم اپنے اس جج کی جرأت پر جھوم اٹھی اور اس جج کے لیے جان نثاروں کی قوم بن گئی، آج پاکستانی قوم کو زندگی دینے اور اسے فخر کا تحفہ دینے کے لیے ایک اور پاکستانی نمودار ہوا، ایک اور سرکاری ملازم جس کے گھر رات کے پچھلے پہر چند سرکاری ملازم اس کی برطرفی کا حکم لے کر پہنچے تو وہ گھر پر موجود نہیں تھے، ان کی بیٹی نے ان سرکاری مہمانوں کا سامنا کیا اور سرکاری پروانہ لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ''وہ طارق ملک نہیں ہے''۔ اس خاتون کی آواز میں کیا وقار تھا کہ سرکاری ملازمین ان کے والد کی برطرفی کا یہ پروانہ پھینک کر گویا فرار ہو گئے۔

کھسیانی حکومت اب اس ملازم کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کر رہی ہے، خدا جانے کیا فیصلہ ہوگا اقتدار جیتے گا یا عدالت میں بھی ہار جائے گا جہاں 'انکار' کی رسم شروع کرنے والا اب تک موجود ہے بہرکیف جو بھی ہو گا عوام کی عدالت کے فل بنچ کے سامنے یہ شخص اپنا مقدمہ جیت چکا ہے اور وہ اس لیے کہ اس کے بارے میں جو خبریں چھپی ہیں وہ جعلی ووٹوں کی تصدیق سے انکار کا مسئلہ ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ حکمرانوں کی عقل ماری گئی ہے یا کیا ہے کہ وہ ایسے غلط فیصلے کر رہے ہیں جن کا نتیجہ ان کے حق میں اتنا برا ہے کہ جس کا شاید انھیں خود بھی اندازہ نہیں تھا۔ طارق ملک نادرا کی کسی کارروائی کے ذریعے اگر دو ایک ایم این اے حضرات کو فارغ کر دیتا خواہ ان میں کوئی ایک وزیر بھی ہوتا تو کیا قیامت آ جاتی بلکہ قیامت تو یہ تھی کہ کوئی ایسا جعلی ایم این اے وزیر بنا ہوا ہے اور اپنے فیصلوں سے ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں پر قیامت ڈھا رہا ہے۔ ایک سیاستدان نے ٹی وی پر کہا ہے کہ سوال یہ ہے کہ یہ حکمران حکومت میں رہنا چاہتے ہیں یا نہیں بلکہ ملک میں رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ بہر حال یہ تو ایک مخالف سیاستدان کی بات ہے لیکن اب اس کا کیا جائے کہ صدر پاکستان بھی گرانی پر بلبلا اٹھے ہیں اور بڑی اچھی آمدنی والے بھی گھبرا گئے ہیں۔

میں نے اس شہر میں صرف ایک سو بیس روپے ماہوار کی تنخواہ پر اعلیٰ زندگی بسر کی۔ مال روڈ پر ایک ہوسٹل میں مقیم رہا۔ ہوٹلوں میں کھانا کھایا اور دوسرے اخراجات بھی کھل کر کیے۔ میری تنخواہ مقرر کرتے وقت میرے اخبار کے مینجنگ ایڈیٹر نے ایک ایک خرچ کا حساب کیا اور اس پر بیس روپے اضافہ کر کے میری تنخواہ مقرر کر دی۔ مقصد یہ ہے کہ کہاں اسی شہر میں ایک سو بیس روپے اور کہاں اب لاکھوں روپے مگر اخراجات کو دیکھ کر ہول آتا ہے اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کس خرچ کو موقوف یا کم کر دیں، فضول خرچی پہلے بھی نہیں تھی اب تو کسی عیاشی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بس فقیرانہ زندگی بھی گزرتی رہے تو غنیمت ہے۔ سفید پوشی کا برقرار رہنا بھی ایک عیاشی نہیں تو کیا ہے، طارق ملک اچھی تنخواہ والا ایک ملازم تھا اور باعزت زندگی بسر کر رہا تھا لیکن حکمرانوں کو کیا سوجھی کہ اس کی ملازمانہ عزت میں غیر معمولی اضافہ کرنے کا بندوبست کر دیا، اب طارق ملک اس ملک کے لیے ایک ہیرو بن گیا ہے اور یہ اعزاز اس کی ملازمت باقی رہے یا نہ رہے اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ سوال یہ ہے کہ قدرت نے کس کو عزت دی اور کس کو ذلت کیونکہ عزت و بے عزتی کا فیصلہ اللہ نے اپنے پاس رکھ لیا ہے اور رزق زندگی و موت کی طرح یہ بھی اللہ کی کسی مہربانی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

مقبول خبریں