ایل پی جی منافع خوروں نے خود ساختہ قیمتیں بڑھا کرکروڑوں روپے کما لیے

وفاقی حکومت کی ہدایت پر مقامی پروڈیوسرز نے قیمتیں نہیں بڑھائیں، ڈسٹری بیوٹرزنے ازخود نرخ 46 روپے فی کلوبڑھادیے


Ehtisham Mufti December 07, 2013
3روز میں16.5کروڑکاغیرقانونی منافع کمایاگیا،ذرائع،ایل پی جی ایسوسی ایشن نے نرخ برقراررکھنے کی تصدیق کردی .فوٹو: فائل

وفاقی حکومت کی ہدایت پر مقامی پروڈیوسرز نے عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود رواں ماہ کے لیے بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔

تاہم یکم دسمبر کو ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز نے خود ساختہ طور پر ایل پی جی کی قیمتیں46 روپے فی کلوگرام بڑھادیں اور یکم سے 3 دسمبر یعنی صرف 3روز میں 16 کروڑ50 لاکھ روپے کا غیرقانونی منافع کما لیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ''ایکسپریس'' نے ہفتہ30 نومبر2013 کی اشاعت میں ہی وزارت پٹرولیم کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے اور ڈسٹری بیوٹرزکی جانب سے ناجائز منافع خوری کے لیے خودساختہ طور پرایل پی جی کی قیمت اضافے کی نشاندہی کردی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی فی ٹن قیمت بدستور1لاکھ3 ہزار527 روپے پر مستحکم ہے لیکن مخصوص درآمدکنندگان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایل پی جی کی مقامی قیمتیں خودساختہ طور پر بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں فی الوقت 7000 ٹن سے زائد امپورٹڈ ایل پی جی کے غیرفروخت شدہ ذخائر موجود ہیں جو امپورٹرز نے838 ڈالر فی ٹن کے حساب سے درآمد کیے ہیں لیکن اب ان ذخائر کومتعلقہ درآمدکنندگان مہنگے داموں فروخت کرکے ناجائز منافع خوری کی کوششیں کررہے ہیں۔ ایل پی جی انڈسٹری کے ترجمان اورایل پی جی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندے فصیح اقبال نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ وزارت پٹرولیم کی ہدایت پر ایل پی جی پروڈیوسرز نے دسمبر میں بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا لیکن اس کے باوجود مفاد پرست عناصر نے میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے خودساختہ طور پر29 نومبر2013 کو ایل پی جی کی فی کلوگرام قیمت میں 46 روپے کے اضافے کا اعلان کردیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں سردی شروع ہونے کے باوجود ایل پی جی کی یومیہ کھپت کا حجم1200 ٹن تک محدود ہے ۔



جبکہ مقامی پروڈیوسرز بھی یومیہ1200 ٹن کی پیداوار کررہے ہیں، اس طرح سے ملک میں ایل پی جی کا طلب ورسد متوازن ہے۔ فصیح اقبال نے بتایا کہ کراچی میں ایکس پلانٹ ایل پی جی کے11.8 کلوگرام سلنڈر کی قیمت1300 روپے جبکہ پنجاب وسرحدمیں 1410 روپے پر مستحکم ہے لیکن ڈیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے مہنگے داموں ایل پی جی فروخت کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر مقامی پروڈیوسرز نے ایل پی جی کی پیداواری قیمتیں اکتوبر2013 کی قیمت پر ہی مستحکم کررکھی ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں گزشتہ دو ماہ سے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے لیکن حکومت کا موقف ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی کے مزید بوجھ تلے نہیں دبانا چاہتی لہٰذا پروڈیوسرز اپنی اکتوبر کی قیمت پر ایل پی جی کی پرائس کو مستحکم رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ایل پی جی کے طلب سے کئی گنا زیادہ ذخائر موجود ہیں جس کی وجہ سے پروڈیوسرز اور مارکیٹنگ کمپنیاں آنے والے دنوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید نمایاں کمی کا فیصلہ کریں گی جس سے براہ راست عام صارف مستفید ہو سکے گا۔

مقبول خبریں