فلورملز کا 10دسمبر سے غیرمعینہ مدت کیلیے ہڑتال کا فیصلہ

صرف 87 ہزار ٹن گندم فراہم کی گئی،حکومتی عدم توجہی کے باعث آٹامہنگا ہوا، فلورملزایسوسی ایشن


Ehtisham Mufti December 07, 2013
نومبرکے آغاز سے ہی سندھ میں گندم کی قلت پیدا ہوگئی تھی، اس کے باوجود کراچی میں آٹے کی قیمتوں پر کنٹرول رکھا۔ فوٹو: اے ایف پی / فائل

PESHAWAR: کراچی کی فلورملوں نے محکمہ خوراک کی جانب سے مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں 10 دسمبر سے غیرمعینہ مدت کے لیے ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ جمعہ کو پاکستان فلورملزایسوسی ایشن سائوتھ زون کے چیئرمین چوہدری یوسف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کو بتا یا گیا کہ حکومت سندھ کی عدم توجہی کے باعث گندم کی قلت اور 100کلوگرام گندم کی بوری کی قیمت میں400 روپے اضافے سے آٹے کی فی کلوقیمت میں1.50 روپے کا اضافہ ہوگیا،پاکستان فلورملزایسوسی ایشن سائوتھ زون کے چیئرمین چوہدری یوسف نے'' ایکسپریس'' کو بتایا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے بعد نومبرکے آغاز سے ہی سندھ میں گندم کی قلت پیدا ہوگئی تھی،اس کے باوجود کراچی کی فلور ملوں نے آٹے کی قیمتوں پر کنٹرول رکھا ۔



صوبے میں گندم کی قلت کے پیش نظر گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے ملوں کومجموعی طور پر87 ہزار ٹن گندم اس وعدے پر فراہم کی گئی تھی کہ آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلیے فلورملوں کودسمبرمیں ایک لاکھ 74ہزار ٹن گندم کی فراہمی ہوگی لیکن دسمبر میں حکومت نے وعدے کے برعکس صرف78 ہزار ٹن گندم ملوں کو فراہم کی ہیں جو تشویشناک امر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جمعہ کوایسوسی ایشن کے اجلاس کو بتایا گیا کہ لانڈھی فوڈگودام میں ایک لاکھ مضرصحت اور خراب گندم کی بوریوں کے ذخائر موجود ہیں جن میں سے15 فلورملوں کو 600 بوری فی ملز کے حساب سے یہی مضرصحت گندم جبری طور پر فراہم کی گئی لیکن فلور ملوں نے اس خراب گندم کو آٹے کی تیاری میں استعمال نہیں کیا اور اپنے گوداموں میں رکھا ہوا ہے، اجلاس کو بتایا گیا کہ فلور ملوں پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ انسانی صحت کیلیے نقصان دہ ایک لاکھ خراب گندم کی بوریوں کی خریداری کریں۔

مقبول خبریں