سیاسی قیادت کا تاریخ ساز امتحان

ملک بھر میں کورونا وائرس، عالمی و ملکی معیشت، سیاسی کشمکش اور حوادث و واقعات کی چشمک زنی جاری ہے


Editorial June 09, 2020

ملک بھر میں کورونا وائرس، عالمی و ملکی معیشت، سیاسی کشمکش اور حوادث و واقعات کی چشمک زنی جاری ہے۔ کورونا کے رازہائے سربستہ رفتہ رفتہ کھلتے جارہے ہیں، پہلی بار وزیراعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اعتراف کیا ہے کہ کورونا سے جاں بحق74 فی صد افراد ذیابیطس، بلند فشار خون اور دیگر جان لیوا بیماریوں کا شکار تھے، گذشتہ24 گھنٹوں میں2 ہزار ٹیسٹ لیے گئے۔

انھوں نے کہا کہ ماسک کے استعمال پر اب سختی ہوگی، لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ ماسک پہننا خود کو وائرس سے محفوظ رکھنا ہے، انھوں نے کہا کہ حکومت اقدامات کر رہی ہے مگر ڈاکٹرز حضرات بوجوہ ناراض ہیں۔ ملکی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس اب بھی کورونا سے فائدہ اٹھانے کا وقت ہے، یہ ماہرین فضائی آلودگی پر قابو پانے کی سنجیدہ باتیں کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں کورونا سے اموات 4 لاکھ سے بڑھ گئی ہیں، پاکستان کا عالمی سطح پر 16 واں مگر ایکٹیو کیسز میں چھٹا نمبر ہے، سعودی عرب، برازیل، ایران اور بھارت میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ کی اطلاعات ہیں، لاطینی امریکا میں تباہی مچی ہوئی ہے، چین کی برآمدی و درآمدی تجارت زبردست بھونچال کا شکار ہے، سوئیڈن کی معیشت کا برا حال ہے مگر نیوزی لینڈ میں ایک خاتون وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے کورونا کے خلاف مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ملک کو اس وائرس سے نمٹنے میں کامیابی سے ہمکنار کیا، وہ دوسرے ملکوں کے لیے مشعل راہ ہیں، جیسنڈا نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث لگائی گئی تمام پابندیوں کے خاتمہ کا اعلان کیا ہے، ملک میں کورونا کے آخری کیس کو بھی نمٹا دیا ہے۔

اگرچہ بعض ملکوں نے سوئیڈن اور نیوزی لینڈ پر کورونا کے معاملہ کو غیر روایتی انداز میں نمٹانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بھیڑ مدافعتی نظام Herd Imunity کا مضحکہ اڑایا تھا لیکن جیسنڈا آرڈرن نے عالمی قوتوں کو باور کرایا کہ جو قومیں ثابت قدمی سے اپنے اصول اور آدرش پر قائم رہتی ہیں، زبانی جمع خرچ نہیں کرتیں اور سیاسی افراط و تفریط کے بجائے قومی معاملات میں سنجیدہ طرز عمل کو اپنے سیاسی و جمہوری نظام کا حصہ بناتی ہیں وہ ہی کامیاب رہتی ہیں۔

لیکن ہمارے ہاں کورونا سے نمٹنے کے لیے جس مربوط اور مستقل مزاجی کے ساتھ اقدامات اور ہدایات و قوانین پر عمل کرانے کا کلچر ہونا چاہیے تھا اسے کسی جانب سے پھلتے پھولتے دیکھنے کی روایت جڑ نہ پکڑسکی، حکمرانی عدم سمتی کے بحران اور دھند سے نہیں نکل سکی، محاذ آرائی اور سیاسی شعبدہ بازی کا بازار گرم ہے، ''جہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیں'' کے مترادف سیاسی درجہ حرارت ہمہ وقت گرم تر ہے، سنجیدگی کا فقدان ہے، ہر چارہ گر لقمان حکیم بنا ہوا ہے، حکومتی پالیسیوں میں پیوستگی نہیں، انگریزی میں کہتے ہیں کہ ہر اقدام fragmented ہے۔

کچھ روز بعد وفاقی بجٹ آئیگا، بجٹ سازی کا ملکی معیشت، اقتصادیات اور عوام کی زندگیوں سے گہرا تعلق ہوتا ہے مگر اس افراتفری اور شور و غل کے نقار خانے میں کہاں کسی کی سنجیدہ دلیل کو جگہ مل سکتی ہے، معیشت کا سفینہ طوفان میں گھرا ہوا ہے، ناخدا اسے ساحل مراد پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر فہمیدہ لوگ بجٹ کو اعدادوشمار کا ایک اور گورکھ دھندا قرار دینے میں حق بجانب ہونگے، کیونکہ حکمران ہر بار یہی کہتے ہیں کہ عام آدمی کو ریلیف ملیگا کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، عوام دوست بجٹ ہوگا تاہم ع

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

وزیر اعظم عمران خان نے29 ارب کی سبسڈی سمیت چینی بحران کے ذمے داروں کے خلاف انکوائری کمیشن رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں کارروائی کی منظوری دے دی۔ 9 کے علاوہ باقی شوگر ملوں کا بھی1985ء سے فارنزک آڈٹ ہوگا، 29 ارب روپے کی سبسڈی کا معاملہ نیب کو بھیجا جارہا ہے۔ قوانین کی خلاف ورزیوں پر فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔

اتوار کو وزیراعظم کی زیرصدارت شوگر انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق بنی گالا میں اہم اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء اور معاونین خصوصی نے شرکت کی۔ اجلاس میں شرکاء نے رپورٹ کی سفارشات کے مطابق ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کرنے پر اتفاق کیا۔ ذرایع کے مطابق اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ غریب قوم سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے احتساب سے نہیں بچ سکتے، چینی سمیت تمام اشیائے ضروریہ کے شعبوں کی ریگولیشن کریں گے۔

وزیر اعظم نے شوگر انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق سفارشات کی بھی منظوری دی اور چینی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے فوری اقدامات اور ملک بھر کی تمام شوگر ملز کے فارنزک آڈٹ کی بھی ہدایت کی۔ بعدازاں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی24 سالہ سیاسی جدوجہد احتساب کے لیے ہے، وزیر اعظم کا فیصلہ ہے کہ چاہے کوئی شخص کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، کسی بھی سیاسی جماعت کا ہو اسے جواب دینا پڑیگا۔ کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

شہزاد اکبر نے کہاکہ شوگر انڈسٹری اَن ریگولیٹڈ ہے اس میں ریگولیٹر اپنا کردار ادا نہیں کر رہا تھا، شوگر انڈسٹری کے لوگ من چاہی زیادتی کر رہے تھے، اس میں سیاسی لوگ فیصلہ سازی میں اثر انداز ہوتے رہے، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، سبسڈی اور ٹیکس چوری کی صورت میں عوام کا پیسہ یہ نکالتے رہے، طاقتور کا احتساب بہت بڑا ٹیسٹ ہے۔ یاد رہے برصغیر میں برٹش راج کی طرف سے پہلا بجٹ جیمز ولسن نے1869 میں پیش کیا تھا، لیکن دو صدیاں گزرنے کے باوجود بجٹ ہر سال اعداد و شمار کا جنگل لے آتا ہے، لوگ اس ادھیڑ بن میں رہتے ہیں کہ اس دلفریب جال سے نکلیں کیسے؟

وفاقی حکومت نے شعبے کو گندم کی درآمد کی اجازت دے دی ہے، میڈیا کے مطابق وفاقی حکومت نے کسی حساب کتاب کی پابندیوں کے بغیر گندم درآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، اور ساتھ ہی اس درآمد پر6 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی ختم کردی ہے، ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں گندم کی درآمد پر فی الحال قابل اطلاق6 فیصد اور 2 فیصد اضافی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ ہوا جب کہ یہ چھوٹ 5 لاکھ گندم کی درآمد پر بھی ہوگی جس کی ماہ مارچ میں وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اجازت دی تھی۔

اقتصادی اور سیاسی ماہرین کی نگاہ کورونا کے ساتھ ساتھ ملکی اور عالمی معاملات پر بھی ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کا قوم سے وعدہ تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ملکی برآمدات کو اس سطح پر لائے گی جس کی قوم نے سابقہ حکمرانوں سے کبھی توقع نہیں کی ہوگی۔ لیکن اسے حالات کی ستم ظریفی کہیے یا ارباب اختیار کی بے سمتی اور نا اہلی کہ ملک برآمدات کے بحران میں تاحال گرفتار ہے، پاکستان اسٹیل ملز کے گولڈن ہینڈ شیک کے معاملات سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں، پنشن کے 40ارب روپے ملازمین کو ادا کرنا ہیں، حکومت کہتی ہے کہ ہم نے30 ارب تو دے دیے ہیں، ایک اور اطلاع یہ بھی ہے کہ حکومت نئی پنشن اسکیم لارہی ہے، تاکہ پنشن کو ایک متوازن بل کی روشنی میں قابل عمل سطح پر لایاجائے، کیونکہ حکومتی ذرایع کے مطابق پنشن کی حالیہ رقم سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے تجاوز کررہی ہے۔ یہ منظرنامہ ہی دل دہلا دینے کے لیے کافی ہے اور عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بھی آنا ہے۔

تاہم سندھ کے وزیر تعلیم و محنت سعید غنی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اسٹیل ملز کو خود چلائے گی، وفاقی حکومت اس سے بات کرے۔ سید غنی نے کہا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کبھی کہا تھا کہ میری تقریر کو ریکارڈ کرلیں اگرا سٹیل ملز کے بارے میں کوئی غلط فیصلہ آیا تو میں محنت کشوں کے ساتھ کھڑا ہونگا، ظاہر ہے وہ سابق حکومت کے کسی ممکنہ فیصلہ کا حوالہ دے رہے ہونگے۔ مگر اب بات سپریم کورٹ کی ہے۔ ادھر وزارت توانائی پٹرولیم ڈویژن کے ایک ہنگامی اجلاس میں پٹرول کی قلت سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا، آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور آئل ریفائنریز کے سربراہان اس اجلاس میں سر جوڑ کر بیٹھے، ذرایع نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ ملک میں پٹرول کی کوئی قلت ہے، مگر ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسی تناظر میں قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی معنی خیز بتایا جاتا ہے۔

ان تمام سیاسی واقعات وحوادث کے سیاق وسباق میں ملکی صورتحال پر ارباب اختیار کو کھل کر قومی امنگوں کا ساتھ دینا ہوگا، کورونا کو بند گلی میں دھکیلنے کا کوئی فائدہ نہیں، حکومت لاک ڈاؤن سے لے کر وائرس سے نجات کی مثبت کوششں کو نتیجہ خیزی کی سمت لے جائے، کوشش کرے کہ سیاسی گرد بیٹھ جائے اس لیے کہ قومی اتفاق رائے کے امکانات روشن ہونگے تب ہی اس روح فرسا وائرس کا مسئلہ حل ہوگا، اگر سیاسی کشیدگی، الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا کھیل شدت اختیار کرگیا تو پھر رف کھیل کا سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ اس کا دی اینڈ حد درجہ افسوسناک بلکہ عبرت ناک بھی ہوسکتا ہے۔

لہٰذا ارباب اختیار کو دل خوش کن اور مثبت و صائب پیشرفتوں کا خیر مقدم کرنا چاہیے، ایک اطلاع کے مطابق کورونا ویکسین کے لیے بل گیٹس نے25 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے، جی20 ممالک ابھرتی معیشتوں کے لیے21 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کرچکی ہے۔ یہ درست ہے کہ کورونا ایک مشکل صورتحال میں اہل وطن کو ڈال گیا ہے مگر حکومتیں کس مرض کی دوا ہوتی ہیں۔ قیادتیں اسی بحرانی حالات میں افتادگان خاک کو اوپر اٹھانے کا وعدہ ہی نہیں کرتیں انھیں واقعتاً اور عملاً تحت الثریٰ سے بلندیوں اور اوج ثریا تک لے جاتی ہیں۔ ہمت کرے انسان تو کیاہو نہیں سکتا۔

مقبول خبریں