اہم معاشی اہداف سیاست اور ٹڈی دل

کورونا کی وبا سے ملک کوتین ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے


Editorial June 13, 2020
کوویڈ 19کی کوکھ سے جنم لینے والے مسائل کا قصّہ جو انسانیت کو ضرر پہنچا سکتے ہیں ۔ فوٹو : فائل

کورونا کی وبا سے ملک کوتین ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، یہ کہنا تھا مشیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کا۔ قومی اقتصادی سروے برائے 20۔2019 کے حوالے سے منعقدہ میڈیا بریفنگ کے دوران انھوں نے واضح کیا کہ کورونا وائرس سے پہلے پاکستانی معیشت 3 فیصد کی شرح سے بڑھنے کی توقع تھی لیکن رواں مالی سال معاشی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی ہے۔ درحقیقت یہ پاکستان کی تاریخ کا مشکل ترین بجٹ پیش ہورہا ہے،کیونکہ کورونا وبا نے عالمی معیشت کو مکمل طور پر تباہی کے دہانے پرلاکھڑا کیا ہے، لہٰذا ہمیں بھی ایک ترقی پذیر ملک ہوتے ہوئے کسی بھی خوش فہمی اورخوش گمانی کا شکارہونے سے بچنے کی اشد ضرورت ہے۔کورونا وائرس کی موجودگی میں کیسا بجٹ پیش کیا جاسکتا ہے، وہ ہم سب جانتے ہیں۔

بیساکھیوں کے سہارے چلتی ہوئی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے اولین ترجیح کے طور پر غیرترقیاتی اخراجات میں زیادہ سے زیادہ کمی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس وسیکریٹریٹ،صوبوں کے گورنرہاؤسز اور عوامی نمایندگان کو دی جانیوالی کروڑوں،اربوں کی مراعات کو اگر یکسر ختم کیا جائے تو اس کڑے وقت میں ملکی معیشت کو بہتر سہارا مل سکتا ہے۔مشیروں کی فوج ظفر موج کی بھی تمام مراعات واپس لی جائیں تو ملکی خزانے پر پڑنے والا اضافی بوجھ کافی حد تک کم ہوجائے گا۔ بجٹ اعداد وشمارکا ایک ایسا گورکھ دھندہ ہے جو عام آدمی کی فہم سے بالاتر ہے۔

بجٹ کے بنیادی مندرجات میں اخراجات میں کمی کی روش اختیارکی جائے، تب کہیں جاکر اخراجات اورآمدن میں توازن کی امید پیدا ہوسکتی ہے۔ بقول مشیر خزانہ 20 ارب ڈالرکے خسارے کو کم کرکے 3 ارب ڈالر تک لے آئے ہیں، پہلی بار پورے سال میں اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا گیا ہے اورکسی وزارت کوضمنی گرانٹ کی مد میں کوئی فنڈ جاری نہیں ہوا۔ حکومت اپنی معاشی کامیابیوں کا خواہ کتنا ہی ڈھنڈورا پیٹے،عام آدمی اسے اپنی زندگی میں معاشی بہتری ہی سے منطبق کرتا ہے ۔

مشیر خزانہ معاشی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بڑے صنعتی شعبے کی ترقی منفی 7.78 فیصد رہنے کا امکان ہے، تھوک اور پرچون کاروبار کی ترقی کی شرح میں 3.42 فیصد کمی ہوئی ، سروسز سیکٹر کی ترقی کی شرح 0.59 فیصد جب کہ فنانس اور انشورنس سیکٹر میں 0.79 فیصد بہتری آئی۔ صنعتی شعبے کی شرح نمومنفی 2.64 اور ٹرانسپورٹ میں منفی7.1 فیصد رہی۔ رواں سال ایف بی آرٹیکسوں سے 3900 ارب روپے حاصل ہوں گے، حکومت نے نان ٹیکس ریونیوکی مد میں 1600 ارب روپے وصول کیے ہیں، درآمدات میں کمی سے ریونیو متاثر ہوا، ورنہ ریونیوگروتھ27 فیصد سے زیادہ رہتی ، جب کہ مہنگائی 8.5 کے بجائے 9.1 فیصد رہی ہے۔ ان مندرجہ بالا اعدادوشمارکی روشنی میں معاشی واقتصادی صورتحال بظاہر منفی پوائنٹ کو چھوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

معاملات میں بہتری نہ آئی تو خدشہ ہے کہ مہنگائی کا سونامی عوام کو لے ڈوبے گا، ایک ایسے وقت میں جب کورونا وبا کی وجہ سے ملکی معیشت بیٹھ چکی ہے، اسے دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا ہونے میں کافی وقت لگے گا،لیکن یہاں پر ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ہم آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر عمل کرنے پر مجبورہیں توایسے میں اگرکوئی سمجھتا ہے کہ بجٹ میں عوام کے لیے کوئی ریلیف ہوگا، تو یہ احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔

ہاں، حکومت غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرکے دگرگوں معاشی صورتحال کو بہتری کی جانب رواں دواں کر سکتی ہے ۔ٹیکسٹائل سیکٹر میں پہلے سیلزٹیکس کی شرح پانچ فیصد تھی جسے حکومت نے بڑھاکر 17 فیصد کر دیاتھا۔ اس صنعت سے وابستہ صنعتکاروں کا موقف ہے کہ پوری دنیا میں سیلز ٹیکس سنگل ڈیجٹ میں ہے جب کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں سیلز ٹیکس ڈبل ڈیجٹ میںہے۔تاجر رہنماؤں کا موقف ہے کہ پاکستان میںمہنگائی کا جادو پہلے ہی سرچڑھ کر بول رہا تھا لیکن اب تو معیشت کے کھیت جل کر راکھ ہوچکے ہیں۔

صنعتکاروں اور تاجر برادری کے مطالبات کو مد نظر رکھا جائے تو رائے کچھ یوں بنتی ہے کہ یہ بجٹ ہماری ڈومیسٹک ڈیمانڈ کو پورا کرنے کی کوشش کرے، نئے ٹیکس نہ لگانے کا عندیہ دلفریب اور پرکشش سہی لیکن حکومت کواس بات کو بھی یقینی بناناچاہیے کہ اس کے ریونیو بڑھیں، تاکہ حکومتی معاملات بھی احسن طریق پر چلتے رہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک بھرمیں کورونا وائرس سے متعلق ایس اوپیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے سختی سے کام لیا جائے گا اورخلاف ورزی کی مرتکب مارکیٹوں، فیکٹریوں اور علاقوں کو بند کردیا جائے گا۔ وزیر اعظم جس نے امرکی نشاندہی دوٹوک الفاظ میں کی ہے اس کا براہ راست تعلق عوام سے ہے، وہ اولین دن سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ مسلسل اورطویل لاک ڈاؤن وباء سے بچاؤ میں کارگر نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں عام آدمی کے معاشی مسائل بڑھیں گے، انھوں نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرکے غریب کو روزی کمانے اورجینے کا موقع فراہم کیا ،لیکن المیہ یہ منظر عام پر آیا کہ کورونا مریضوں کی تعداد اوراموات کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

اس وقت ملک کورونا کے انتہائی خطرناک فیز سے گذررہا ہے، یہ سب احتیاطی تدابیرکویکسر نظراندازکرنے کا بھیانک نتیجہ ہے،جو برآمد ہوا ہے۔ عوام کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، بے احتیاطی کا چلن پوری قوم کو لے ڈوبے گا، وقت ابھی ہاتھ سے نکلا نہیں ،آج بھی اگر ہم احتیاط کا دامن تھام لیں تو اس وبا کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکتا ہے، ہرکام حکومت کے کرنے کا نہیں ہوتا بلکہ عوام پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایس او پیز پر مکمل کریں تاکہ خود بھی محفوظ رہیںاور عزیزواقارب سمیت اہل وطن کی زندگیوں کو بھی محفوظ رکھیں۔احتیاط کا دامن تھام لینے میں ہم سب کی بقا اور وبا کے خاتمے کا راز مضمر ہے۔

ملک میں سیاسی سرگرمیاں بھی جاری وساری ہیں۔ اسی تناظرمیں کراچی میں اٹھارہ سے زائد جماعتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت کی۔ جس میں شرکا کی جانب سے کہا گیا کہ 18ویں آئینی ترمیم، صوبائی خودمختاری، این ایف سی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کریں گے، صوبہ سندھ اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا، وفاق صوبوں کی مشاورت سے نئے سرے سے این ایف سی کمیشن تشکیل دے، اسٹیل ملز کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں طے کیا جائے، ٹڈی دل سے فصلوں کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

ہم سمجھتے ہیں کانفرنس میں جو قراردادیں منظور ہوئیں ان پر غور و فکر کے لیے وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عمل جلد شروع کرنا چاہیے کیونکہ اس بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے قومی اتفاق رائے کی اشد ضرورت ہے۔

ادھر بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر اور وزیراعلیٰ جام کمال کی زیرصدارت ارکان پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی بجٹ کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سمیت اہم قومی امور پر مشاورت کی گئی، میڈیا سے گفتگو میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ کئی سال سے بلوچستان کو پی ایس ڈی پی میں مناسب حصہ نہیں مل رہا ہے، بجٹ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے مطالبے کے مطابق صوبے کے اپنے حصے کے پی ایس ڈی پی سے زیادہ فنڈز نہ رکھے گئے تو پارٹی بجٹ کی منظوری کے لیے ووٹنگ میں شرکت نہیں کرے گی، ہم حکومت کے ساتھ ہیں لیکن بلوچستان کے عوام کی خاطر ہم مجبور ہونگے کہ پی ایس ڈی پی میں ترقیاتی فنڈز مناسب مقدار میں نہ ملنے پر بجٹ کی منظوری میں ساتھ نہ دیں۔ دراصل بلوچستان پاکستان کی ترقی کا گیٹ وے ہے اس صوبے کی تعمیر وترقی میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا جو بھی جائز مطالبات ہیں ان پر عملدرآمد وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے۔

ایک جانب تو ہم کورونا وائرس سے نبرد آزما ہیں اور دوسری جانب ملک کے باؤن اضلاع میں ٹڈی دل کے حملے جاری ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی عدم توجہی کی باعث اس وسیع پیمانے کا نقصان ہوا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک میں غذائی قلت پیدا ہونے کے خدشات پروان چڑھ رہے ہیں۔ یہ بہت زیادہ تشویش ناک صورتحال ہے۔اسی تناظرمیں سندھ ہائی کورٹ نے سندھ کے مختلف علاقوں میں ٹڈی دل کی یلغار اور فصلوں کی تباہ کاریوں کے خلاف درخواست پر سندھ حکومت سے آیندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے۔

دوران سماعت عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسارکیا کہ اکتیس کروڑکی رقم میں صرف چونتیس ہزار ایکڑ زمین پر اسپر ے کیا گیا ہے؟عدالت نے اس کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔ یوں سمجھیں کہ ملکی زراعت کے شعبے کوجس طرح نظراندازکیا جارہا ہے اورٹڈی دل تیارفصلوں کوچٹ کررہے ہیں، اس کے نتیجے میں ایسا خطرناک بحران جنم لینے والاہے،جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، غذائی بحران کورونا وائرس سے زیادہ مہلک ثابت ہوگا، لہٰذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ وہ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ ٹڈی دل کا خاتمے کے لیے ملک کے تمام متاثرہ اضلاع میں اسپرے کروانے میں تاخیر ہمارے مسائل میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے ہم یقیناً متحمل نہیں ہوسکتے۔

 

 

مقبول خبریں