کورونا سمیت چیلنجز بے شمار

وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی اسٹیک ہولڈرز اور قومی ادارے ایک پیج پر آئیں


Editorial June 17, 2020
کورونا پر ایک غیر مشروط قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، فوٹو: فائل

RAWALPINDI/ ISLAMABAD: وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صوبوں کو متاثرہ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈا ؤن کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی اقدامات سے کورونا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے، اس ضمن میں عوام کا کلیدی کردار ہے۔

وزیراعظم کے مطابق اس حوالے سے ایسے اقدامات کیے جائیں کہ حفاظتی اقدامات اور معاشی سرگرمیوں میں توازن برقرار رہے۔سارے تخمینوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاہم عوام کا تعاون حکومتی کوششوں کو کامیاب بنا نے میں اہم ہے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام مقامی قیادت اپنے اپنے علاقوں میں انتظامیہ کی مدد سے نہ صرف اسپتالوں میں کورونا سہولیات کا جائزہ لے بلکہ عوام کا تعاون یقینی بنانے میں بھی کردار ادا کریں۔ وزیرِ اعظم نے کوویڈ 19مریضوں کے استعمال میں آنے والی چند ادویات اور انجیکشن کی دستیابی میں مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے چئیرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ مطلوبہ ادویات اور انجیکشن کی دستیابی کے لیے اقدامات کریں۔

بلاشبہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے لیے وزیراعظم نے ہدایات اسی اخلاص ، جذبہ ،جوش اور جنون سے جاری کردی ہیں جو کورونا کے بحران سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں مگر بنیادی سوالات کا اب بھی جواب حکومت کے ذمہ واجب الادا ہے اور جب تک صحت حکام، ادارے، طبی برادری اور سول سوسائٹی کورونا سے نمٹنے کے لیے سائنسی طرز فکر اور عملی انفراسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی نہیں بنائے گی چاہے ایسے دس اور اسمارٹسٹ smartest لاک ڈاؤن متعارف کرائے جائیں۔

دکھی انسانیت وبائی حصار سے نجات کی کوئی راہ نہیں پاسکے گی کیونکہ حکمراں موت کے پروانے تو پہلے سے جاری کرچکے ہیں، جب کہ انھیں عوام کو یقین دلانا چاہیے کہ حکومت کی طرف سے موت کی دھمکیاں نہیں دی جارہیں، سنگلاخ حقائق ، اندیشوں و خطرات پر مبنی زمینی اور معروضی حالات کا تخمینہ پیش کیا جارہا ہے جب کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں اسمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل کرکے اس خلا کو پورا کرسکتی ہیں جس کے لیے یورپی ملکوں نے بہترین عملی مثالیں پیش کی ہیں اور ایسے عملی نظائر دنیا کے سامنے لائے گئے ہیں کہ ہمارے اہل سیاست ان سے استفادہ بھی کرسکتے ہیں، یعنی جو بغیر لاک ڈاؤن کیے اپنے معاشی،سماجی اور جسمانی خطرات اور مصائب کا خاتمہ کرکے آج جشن منا رہے ہیں۔

اس سیاق وسباق میں نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کی وائرل ہوئی ویڈیو دنیا والے دیکھ چکے ہیں ، مگر اس بریک تھرو کے اندر جو پیغام ہے وہ ایک سسٹم کے استحکام، عوام سے کمٹمنٹ، ان کی صحت کے تحفظ سے دلبستگی اور والہانہ پن کا اظہار ہے، حکومت کورونا کے بیرونی تجربات اور اپنی پسپائی یا ناکامی سے سبق سیکھنے کے ساتھ ساتھ احتیاطی اور حفاظتی تدابیر کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے وہ ماحول بھی پیدا کرے جس میں کورونا سے لڑنے کا عوام میں حوصلہ پیدا ہو، ان کی مدد ادارہ جاتی سطح پر وہ تمام ادارے بھی کریں جن کی اجتماعی کوششوں سے ہی کورونا وائرس کو شکست دی جاسکتی ہے۔

یہ حقیقت کسی راکٹ سائنس کی محتاج نہیں کہ کورونا کا تسلسل ایک بڑے چیلنج کی طرح ہماری فروگزاشتوں، خام خیالی، غیر سائنسی میکنزم اور بے سمت حکمت عملی کے تعاقب میں ہے اور اہل سیاست پر اس کی گہری نظر بھی ہے، اس لیے لازم ہے کہ عوام کی صحت کو لاحق کورونا کا خطرہ بلا روک ٹوک جولائی اور اگست کی ڈیڈ لائن پار نہ کرے، اس عفریت کو اب کچلنا ہی ہوگا، اگر اسمارٹ لاک ڈاؤن متاثرہ علاقوں کے لیے ناگزیر ہے تو درست حکمت عملی نئے سرے سے آزمائی جائے، قومی سوچ کو فروغ دیا جائے، وفاق اور صوبوں میں فکری، سماجی اور سیاسی ہم آہنگی سے اقدامات اور فیصلوں پر موثر عملدرآمد کیا جائے، فکری انارکی کو اب کسی صورت فیصلہ سازی میں مخل نہیں ہونا چاہیے۔

سندھ سمیت تمام صوبوں میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی رفتار میں کمی کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے پی ٹی آئی کی ٹائیگر فورس کو فعال بنایا جائے، زونل فورس منتخب نمائندوں اور کارکنوں کے ہمراہ متاثرین کی مدد اور رہنمائی کے لیے اپنی تنظیمی صلاحیت کا مظاہر کرے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے صورتحال میں بہتری لانے کی کوشش ہونی چاہیے ۔یہ حقیقت ہے کہ ملکی معاشی صوررتحال ایک گھمبیرتا ہے۔

مثلاً ای او بی آئی کی پنشن جو پنشنرز کو 8ہزار 600 سو روپے ماہانہ کی شرح سے مل رہی تھی اس میں کٹوتی کی گئی اور اب پنشنرز کو6 ہزار روپے ماہانہ مل رہے ہیں، پٹرول سستا کیا ہوا کہ اب اس کی قلت پیدا کردی گئی، چینی 70 روپے فی کلو ملنے کی نوید ملی تھی اس پر متضاد خبریں مارکیٹ میں گردش کررہی ہیں، روزگار کی فراہمی یا مہنگائی میں کمی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا، ہر شے مہنگی ہوگئی ہے۔ ہر شہری سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔

وزیرِ اعظم کی زیر صدارت کورونا کی صورتحال کے حوالے سے گزشتہ روز اجلاس ہوا۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال، آیندہ کے تخمینوں اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔ اسی حوالہ سے کورونا سے متاثرہ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈا ؤن کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملک کے بیس بڑے شہروں میں ان مقامات کی نشاندہی کردی گئی ہے۔

جہاں متاثرین کی تعداد زیادہ ہے اوریہاں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کورونا سے متعلق حفاظتی لباس اور پرسنل پروٹیکٹیو کٹس کی تمام ضروریات با احسن طریقے سے پوری کی جا رہی ہیں۔ تاہم حقائق صورتحال کی سنگینی کو بیان کرتے ہیں، حکومت لاک ڈاؤن پھر سے لے کر آئی ہے حالانکہ وفاق نے لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کو سختی سے رد کیا ہے، وزیراعظم کا مائنڈ سیٹ لاک ڈاؤن کو زہر قاتل سمجھتا ہے، ان کے نزدیک لاک ڈاؤن کرنا لوگوں کی حالت کو مرزا غالب کے اس شعر سے تشبیہ دینا ہے کہ

قید ِحیات وبندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

خیال رہے پنجاب حکومت نے اگلے مالی سال 2020-21 کے لیے 22 کھرب 40 ارب حجم کا بجٹ پیش کردیا ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس لگانے کی بجائے پہلے سے عائد ٹیکسوں میں56 ارب روے کاریلیف دیا گیا ہے، بجٹ میں اخراجات جاریہ کا تخمینہ13 کھرب18ارب ، ترقیاتی اخراجات کا 337 ارب لگایاگیا ،صحت کے لیے 184ارب 20 کروڑ ، تعلیم کے لیے391 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،تنخواہوں اور پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، بجٹ میں تمام سنیماگھروں کو30 جون2021-21 تک انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی سے مستثنیٰ کرنے کی تجویز ہے۔

پراپرٹی ٹیکس کے لیے نیو ویلیو ایشن ٹیبل کا اطلاق بھی ایک سال کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے، ریسٹورینٹس اور بیوٹی پارلرز پر بذریعہ کیش ادائیگی کرنے والے صارفین سے16 فیصد جب کہ کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی کرنے کی صورت میں 5 فیصد ٹیکس کی تجویز ہے۔ پنجاب بجٹ بھی ملکی سیاسی اور کورونا کی خصوصی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

دریں اثنا کورونا وباء کے پیش نظرنیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) نے اسمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے تحت ملک بھرکے ہاٹ اسپاٹ20شہروں کے مقامات مکمل بندرکھنے کافیصلہ کرلیاگیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق نیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹرنے ٹی ٹی کیو اقدام کے تحت ملک بھر سے کورنا ہاٹ اسپاٹ20 شہروں کے مقامات کی نشاندہی کی۔ پورے پاکستان میں ممکنہ کورونا کلسٹرز اور ہاٹ اسپاٹس کا جائزہ لیاگیا۔ این سی او سی نے اسمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے تحت20مقامات کومکمل بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گذشتہ 24گھنٹوںمیں ملک بھر میں کوروناکے متاثرہ مزید 96مریض چل بسے جس کے بعد جاں بحق افرادکی تعداد2729ہوگئی ہے۔ جب کہ 5248نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد مجموعی تعداد ایک لاکھ44ہزار478تک جاپہنچی۔پنجاب میں کورونا کیسز کی تعداد54138 ہوگئی۔ سندھ53805، خیبر پختونخوا 18013 ، بلوچستان8177،اسلام آباد 8569 گلگت بلتستان1129،آزاد کشمیرمیں647کیس رپورٹ ہوچکے جب کہ53721 مریض مکمل صحتیاب ہوگئے ہیں۔اب تک 8لاکھ97 ہزارسے زائد کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کورونا پرکچھ چھپانا نہیں چاہتے، بتا دیا ہے آیندہ دنوں میں کن حالات کا سامنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے کیسز کی تعدادکم ہوسکتی ہے۔ پنجاب میں جیسا اسمارٹ لاک ڈاؤن ہوناچاہیے تھا ویسا نہیں ہوا۔لہٰذا پنجاب میں جو بہت زیادہ آبادی والے علاقے ہیں انھیں مکمل لاک ڈاؤن کریں گے۔ادھر وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کورونا کی صورتحال کے ضمن میں ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں دلچسپ جواب دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہو جتنی ہم باتیں کرتے ہیں۔

ضرورت ان حقائق کو تسلیم کرنے اور خطے کی مجموعی صورتحال اور معاشی جدلیات کے ادراک کی ہے، ملک کے فہمیدہ عناصر کا کہنا ہے کہ کورونا پر ایک غیر مشروط قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، جس میں قوم کو نظر آئے کہ ریاست اور معاشرہ میں کوئی دوری یا بیگانگی نہیں، فرد بھی ملت کا اصطلاحاً ستارہ ہے، اور اس حقیقت کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ قومی ایشوز پر جن میں کورونااور اس سے پہلے پولیو کا مرض بھی شامل ہے قومی اداروں میں سیاسی ارتباط اور اعتبار باہمی کے فقدان کی افسوسناک کہانی ختم ہونی چاہیے۔

کورونا میں وفاق اور صوبہ سندھ کے مابین تناؤ اور محاذ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی اسٹیک ہولڈرز اور قومی ادارے ایک پیج پرآئیں، چیلنجز کا مقابلہ اتفاق رائے سے کیا جاتا ہے، چپقلش ، کینہ روی اور کشیدگی سے ہم کورونا سے نمٹنے میں بے حال ہورہے ہیں تو خطے کے دیگر چیلنجز سے کس طرح عہدہ برا ہو سکیں گے ، ان سوالوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں