وزیراعظم کا دورہ سندھ

صوبائی حکومتوں کو وفاق سے اور وفاق کو صوبائی حکومتوں سے میل جول رکھنا ہوگا، یہی تو راز سیاست ہے۔


Editorial June 18, 2020
صوبائی حکومتوں کو وفاق سے اور وفاق کو صوبائی حکومتوں سے میل جول رکھنا ہوگا، یہی تو راز سیاست ہے۔ (فوٹو : فائل)

وزیر اعظم عمران خان سندھ کے 2 روزہ دورے پر منگل کو کراچی پہنچ گئے، تاہم سیاسی حلقے حیرت زدہ ہیں کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو ان کے دورے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ یاد رہے سندھ کا بجٹ اسی روز پیش کیا گیا۔

بادی النظر میں وزیر اعظم کے دورہ کراچی کی اہمیت اس اعتبار سے قابل قدر بتائی جاتی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں کورونا وائرس بحران کے خاتمہ کے لیے زمینی حقائق ایک بڑی دریا دلی کا تقاضہ کرتے ہیں، کراچی کو سیاسی اور انسانی مسائل کے حل کے حوالہ سے ہمہ جہت تعاون، مالی امداد، فنی مشاورت اور تعلقات کار میں آفاقیت اور جمہوری مشاورت کے جن ثمرات کی تمنا ہے اس سے کہیں زیادہ ضرورت سیاسی اختلافات، باہمی تناؤ، کشیدگی اور گروہی مفادات کی خلیج کو پاٹنے کی ہے مشاورت بڑھے گی تو اختلافات اور سیاسی کشیدگی کا دریا تھم جائے گا۔

مگر مبصرین، سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میں فروعی معاملات، تنازعات اور سیاسی و گروہی اختلافات سے نمٹنے میں حکمرانوں کو سیاسی پارٹیز کے مابین جمہوری طریقے سے عوامی مسائل پر بات چیت جاری رکھنے کے وسیع ذرایع میسر ہیں، دیگر فورمز سے سیاستدان معاشی، سیاسی اور عالمی معاملات پر مکالمہ کا دروازہ کھلا رکھ سکتے ہیں۔

لیکن افسوس یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں بجٹ کے موقع پر بھی کوئی افہام وتفہیم، ملک کو درپیش مالی، معاشی اور جیو اسٹریٹجیکل چیلنجز کے پیش نظر مفاہمانہ طرز عمل دیکھا نہیں گیا، جوتوں میں دال بٹتی رہی، قومی بجٹ پر کوئی بحث نہیں ہوئی جو ایک مسلمہ جمہوری روایت ہے، پوسٹ بجٹ تقاریر اسمبلیوں کے فلور پر ہوتی ہیں۔

بجٹ تجاویز پر نظر ثانی اور عوامی مسائل کے حوالہ سے ٹھوس اور تعمیری تنقید ہوتی ہے، حزب اختلاف کی اہمیت جمہوری نظام میں تسلیم شدہ ہے، وزیر اعظم کی ذات بطور ایک چیف ایگزیکٹو کے صوبوں کے لیے اشتراک و تعاون، خیر سگالی اور مفاہمت و جمہوری اقدار کی آبیاری کی ضمانت ہوتی ہے، اس لیے قومی مفاہمت کی جگہ عوام اگر سیاسی تقسیم کو گہرا ہوتے دیکھیں گے تو جمہوریت کے ستون کبھی بھی مستحکم نہیں ہونگے، ان میں دراڑیں پڑیں گی اور قوم اپنے نصب العین سے دور ہوتی جائے گی۔

اس وقت کراچی سمیت ملک بھر کی فضا کورونا کے وار برادشت کرنے پر مجبور ہے، کوئی فالٹ فری اسٹریٹجی جو وفاق کی طرف سے آنی چاہیے اسے صوبہ سندھ سے پذیرائی نہ ملنے کی شکایت ہوتی ہے سندھ حکومت کو گلہ ہے کہ وزیر اعظم کو عوام سے کوئی محبت نہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا مگر سندھ حکومت نے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے۔

سیاسی مبصرین اسے ایک المیہ قرار دیتے ہیں کہ وزیر اعظم اور سندھ حکومت میں کم از کم کورونا ایشو پر ایک مفاہمت تو ناگزیر تھی، کیونکہ یہ قومی جنگ ہے جسے مشترکہ طور پر وفاق اور صوبوں کو لڑنا ہے، ایک ہی اسٹریٹجی ہوگی تب ہی اس میں جیت قوم کی ہوگی، اس سمت میں پیش رفت کی کمی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وفاق اور صوبہ سندھ میں لاک ڈاؤن سڑیٹجی پر ابھی تک اتفاق رائے کی وہ شکل نظر نہیں آئی جو کورونا کے خاتمہ کے لیے یکساں نوعیت کی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے۔

لاک ڈاؤن پالیسی میں تضاد، سیاسی تناؤ، الزام تراشی اور محاذ آرائی کا گراف بڑھا ہے،polarization نمایاں ہے، اس میں بھی دو رائے ہیں کہ سیاسی پارٹیز میں مسابقت، بیان بازی اور مختلف ایشوز پر غیر روایتی موقف پر دلائل کے انبار لگانا جمہوریت کا اک حسن ہے مگر ایسے وقت میں جب قومی بجٹ بھی غیر متعلق نظر آرہا ہو اور سیاسی تقسیم نے وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر اعظم کو مفاہمت اور خیر سگالی کے جمہوری رشتے سے بھی برگشتہ کر دیا ہو تو لازمی بات ہے کہ سیاسی صورتحال مزید ابتر ہوگی اور کورونا سمیت دیگر سیاسی اہداف کی تکمیل ممکن نہیں ہوگی جس کے اشارے ملنا شروع ہوگئے ہیں، ملکی اقتصادی صورتحال قابل رشک نہیں، عوام ریلیف کو ترس گئے۔

حکومت اور ریاستی سیٹ اپ میں ایک پیج پر ہونے کا جو امیج بن چکا ہے اسے پھیلایا کیوں نہیں جاتا، یہ ہم آہنگی حکومت اور اپوزیشن میں اہم قومی ایشوز پر قومی امنگوں کی حقیقی عکاسی کیوں نہیں کرتی، لوگ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کو کراچی آکر ایسا پیغام دینا چاہیے جو عمومی سیاسی اور قومی مفادات پر مکمل اتفاق رائے، یکجہتی، سیاسی استحکام، رواداری اور جمہوری اقدار اور رویے کے احترام پر مبنی ہو، کسی کو اس بات پر بحث نہ ہو کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور سندھ حکومت میں ٹھنی ہوئی ہے، لہٰذا اسی کا نتیجہ ہے کہ دورہ سندھ میں بظاہر دونوں طرف سے پوائنٹ اسکورنگ ہی جاری ہے۔

جب کہ کورونا کے باعث حکومت ایک فکری، عملی اور انتظامی بحران اور دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، اسپتالوں میں بد نظمی ہے، کورونا کے مریضوں پر گیٹ بند ہیں، نجی لیباریٹریز نے اندھی لوٹ مچائی ہوئی ہے، عمران خان کے لیے صائب مشورہ یہی ہے کہ وہ کورونا کی جبریت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کریں مگر اس فطری اصول کو دل سے مان لیں کہ کورونا کی جنگ باہمی سیاسی اختلافات کے ساتھ جیتنے کا خواب دیکھنا کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا، حکومت کو اپنی ترجیحات بدلنا ہونگی، وہ سیاسی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو جمہوریت سے جڑی سب سے بڑی حقیقت تسلیم کرے۔

مکالمہ قومی اسمبلی میں ہو یا صوبائی اسمبلیوں میں اس کا معیار بلند ہونا شرط ہے، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو خبر کیے بغیر سندھ کا دورہ میڈیا میں سیاسی ہلچل مچانے کے بعد کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے گا، بس بد اعتمادی، بے اعتباری، الجھن اور سیاسی تناؤ میں اضافہ کا باعث بنے گا، کورونا کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ پوری طبی برادری کے دل ٹوٹ جائیں گے، وہ سوچیں گے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سندھ جب کورونا پر متفق ہونے پر تیار نہیں تو قوم حکمرانوں اور سیاست دانوں سے کیا امید وابستہ کرے اور کیوں ''پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ'' کی قوالی کرے، یہاں تو سب کی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہے۔

حقیقت انتہائی تلخ ہے، صوبائی حکومتوں کو وفاق سے اور وفاق کو صوبائی حکومتوں سے میل جول رکھنا ہوگا، یہی تو راز سیاست ہے۔ سندھ میں بے چینی مسلسل بڑھتی جارہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ عملاً سیاسی اختلافات میں کمی نظر نہیں آرہی، عدم رواداری نے کھیل بگاڑ دیا ہے، اپوزیشن اور حکومت کو اس سیاسی تقسیم کو ختم کرنا ہوگا۔

سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق سیاسی عمل کے ڈس فنکشنل ہونے کے خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں، معاشی مسائل بے قابو ہورہے ہیں، پیداواری عمل کی طرف کوئی اسٹریٹجی نہیں ملتی، ایکسپورٹ پر امپورٹس کا غلبہ ہے، صنعتی ترقی کا پھیلاؤ ندارد۔ حتیٰ کہ کورونا کی ادویات کے مہنگا ہونے کا حکومت کو نوٹس لینا پڑا ہے، میڈیا کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال2019-20 میں خیراتی اداروں، دولت مند عطیہ کنندگان اور فلاحی کاموں کی آڑ میں تجارتی سرگرمیوں میں مصروف اداروں کو انکم ٹیکس میں 90 بلین روپے کی چھوٹ دی۔ بلاشبہ خدمت خلق کے دلفریب نام پر ملک میں بے شمار خیراتی ادارے کام کر رہے ہیں، مخیر حضرات اور دکھی انسانیت کو عطیہ دینے والوں کی فہرست میں وطن عزیز کا نام شامل ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ 90 ارب کی انکم ٹیکس چھوٹ مال مفت دل بے رحم کی نذر نہ ہو، کسی آڈٹ میکنزم سے مشروط ہو، ملک کو ریونیو کی ضرورت ہے، عطیہ کنندگان کا با اثر نیٹ ورک ایک کارٹیل کی شکل اختیار کررہا ہے، جس کے حساب کتاب کا آڈٹ ہونا ناگزیر ہے۔

 

مقبول خبریں