ہفتہ رفتہ پیداوار گھٹنے اور کھپت بڑھنے کی رپورٹس پر روئی کی قیمتوں میں تیزی

روپے کے مقابل ڈالر کی قدربڑھنے سے مقامی منڈیوں میں بھی روئی اورسوتی دھاگے کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، ماہرین


Ehtisham Mufti December 09, 2013
جی ایس پی پلس اسٹیٹس نہ ملنے پرنرخ کم مل جانے سے برآمدات بڑھنے کیساتھ قیمتیں بڑھ جائیں گی، جاوید اقبال ضیاء۔ فوٹو: فائل

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مالی سال2014-15 کے دوران جاری سال کے مقابلے روئی کی کھپت بڑھنے اور کپاس کی پیداوارمیں کمی کی انٹر نیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (آئی سی اے سی) کی رپورٹ کے بعدچین کی امریکا سے مستقل روئی کی خریداری سرگرمیوں کے سبب گزشتہ ہفتے امریکا سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان غالب رہا۔

کاٹن ٹریڈ سیکٹر کویہ بھی توقع ہے کہ چین کے ٹیکسٹائل ملز مالکان چین کے قومی ذخائرسے فروخت ہونے والی روئی کی خریداری میں قابل ذکر دلچسپی نہیں رکھتے ہیں جورواں ہفتے بھی پاکستان سمیت دنیا بھرکی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کے تسلسل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس''کو بتایا کہ امریکا میں گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی /ستمبر سہ ماہی میں امریکا میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ 3.6فیصد رہا جوسال 2008 کے بعد امریکا کی سب سے بہتر جی ڈی پی گروتھ ریٹ ہے حالانکہ امریکی معیشت دان توقع کررہے تھے کہ گروتھ ریٹ 3فیصد تک پہنچے گا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے جاری ہونے والی ہفتہ وار کاٹن ایکسپورٹ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے چین نے امریکا سے 51ہزار 400 روئی کی گانٹھوں کی خریداری کی ہے اور خریداری کا یہ تسلسل مستقبل میں بھی جاری رہے گا لیکن اس سے قبل یہ خدشہ تھا کہ چین میں قومی ذخائرسے روئی کی فروخت شروع ہونے کے سبب چین امریکا سے روئی خریداری سرگرمیوں کو معطل کردے گا۔

واضح رہے کہ چین نے اپنے قومی ذخائر میں سے اب تک 1لاکھ 52ہزار 481ٹن روئی فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی جس میں سے صرف 92ہزار 705ٹن روئی فروخت ہو سکی ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی کاٹن مارکیٹس میں چین کے قومی ذخائر سے روئی فروخت ہونے کے قابل اثرات مرتب نہ ہوسکے ہیں۔ بھارت میں ڈالرکی نسبت بھارتی روپے کی قدربڑھنے کے سبب بھارت سے برآمد ہونے والی روئی اور سوتی دھاگے کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہوگیا ہے جسکے نتیجے میں بھارتی روئی اورسوتی دھاگے کے غیرملکی درآمدکنندگان نے اب پاکستان کا رخ کرلیاہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں روپے کی نسبت ڈالرکی قدر بڑھنے سے مقامی مارکیٹس میں بھی روئی اورسوتی دھاگے کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے لیے یورپین یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کا درجہ دینے کی منظوری کے لیے 6دسمبر کو طلب کیے جانے والے یورپین یونین کے پارلیمنٹ کا اجلاس اب موخر ہو کر 11سے 16دسمبر تک برسلز میں ہورہا ہے اورشیڈول کے مطابق 15اور 16دسمبر کو پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ منظور کرنے کے لیے رائے شماری کرائی جائے گی۔



اس حوالے سے یہ اطلاعات بھی زیرگردش ہیں فرانس کی قیادت میں یورپی یونین کے ایک گروپ جس میں بلغاریا،کروشیا،پرتگال اور پولینڈ شامل ہیں کی جانب سے پاکستان کوجی ایس پی پلس کا درجہ دینے کی بھر پور مخالفت کی جارہی ہے۔ رحیم یار خان میں قائم پاکستان کے سب سے بڑے کاٹن جننگ گروپ چناب گروپ کے جنرل منیجرجاوید اقبال ضیاء نے ''ایکسپریس''کوبتایا کہ یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو اگر خدانخواستہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس نہ دیا گیا تو اس سے پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں نمایاں مندی کا رجحان سامنے آ جائے گا تاہم مذکورہ اسٹیٹس ملنے کی صورت میں پاکستان سے ٹیکسٹائل پروڈکٹس کی برآمدات میں متوقع غیر معمولی اضافے کے باعث روئی کی قیمتیں 7ہزار روپے فی من سے بھی بڑھ سکتی ہیں ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ فرانس ودیگرمخالف ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پربھرپورانداز میں لابنگ کرے واضح رہے کہ یورپی یونین کے ابتدائی اجلا س میں پاکستان کو 12کے مقابلے میں 17ووٹوں سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس دینے کی حمایت کی گئی تھی۔

احسان الحق نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکس چینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 0.55سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 85.30سینٹ فی پائونڈ،مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 1.06سینٹ فی پائونڈ اضافے سے 80.41سینٹ فی پائونڈ ،بھارت اور چین میں روئی کی قیمتیں معمولی اضافے کے ساتھ 38ہزار 919روپے فی کینڈی اور 19ہزار 765یو آن فی ٹن تک مستحکم رہیں جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 50روپے فی من اضافے سے 6ہزار 450روپے پرمستحکم رہیں، مقامی کاٹن مارکیٹس میں فی من روئی کی قیمت100 روپے کے اضافے سے6800 روپے ہوگئیں، انہوں نے بتایا کہ 8سے 11جنوری 2014 کے دوران جرمنی میں ہونے والے ہیم ٹیکس فیئر میں پاکستان سے 200سے زائد ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدکنندگان شرکت کررہے ہیں توقع ہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری اس عالمی نمائش کے توسط سے پورے سال کے لیے نئے برآمدی آرڈرز حاصل کرلیں گی کیونکہ ہیم ٹیکس نمائش میں ہرپاکستانی ٹیکسٹائل کمپنی شرکت کی خواہشمند ہوتی ہے۔

مقبول خبریں