ایک چشم کشا سیاسی چنگھاڑ

موجودہ ملکی حالات، معاشی صورتحال اور جمہوری عمل ایک غیر معمولی سیاسی جدلیات کا منظر پیش کرتے ہیں۔


Editorial June 25, 2020
موجودہ ملکی حالات، معاشی صورتحال اور جمہوری عمل ایک غیر معمولی سیاسی جدلیات کا منظر پیش کرتے ہیں۔

موجودہ ملکی حالات، معاشی صورتحال اور جمہوری عمل ایک غیر معمولی سیاسی جدلیات کا منظر پیش کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کو حکومت کیا ملی، توقعات، امیدوں اور امکانات کا ایک سمندر امڈ پڑا، آج کم و بیش حکومت کو دو برس ہوچکے ہیں اور اس دوران میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے، عوام ریلیف کا انتظار کرتے رہے، ایک تبدیلی کی بات ہوئی تھی، اس کی ایک لہر کا مشاہدہ کرنے کا بھی عوام کو انتظار تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کو فری ہینڈ ملا تھا، تبدیلی کے منتظر عوام ایک طرف تو پرانی سیاست گری سے بیزار تھے، تو دوسری جانب خطے کے حالات بھی دشت پیما اور بگولہ نفس منظر نامہ پیش کر رہے تھے، سیاست روایتی کشمکش کے ساتھ شروع ہوئی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی جماعتیں اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے بھی امید و بیم کے درمیان سیاسی کھیل کو آگے بڑھتا دیکھ رہی تھیں، اسی امید افزا فضا مگر کشمکش، سیاسی تناؤ، محاذ آرائی، الزام تراشیوں اور قیاس آرائیوں کے ساتھ پی ٹی آئی نے اپنے ابتدائی سیاسی راؤنڈ کا آغاز کیا۔ گیند وزیر اعظم عمران خان کے کورٹ میں تھی، سارے فیصلوں کا اختیار ان کے پاس تھا، اور یہی سب سے بڑی زمینی و سیاسی حقیقت تھی۔

دن گزرتے گئے، کوئی سیاسی، معاشی، سفارتی اور تزویراتی big bang نہیں ہوا، سیاسی نوک جھونک کے ساتھ کاروبار سیاست چلتا رہا، جمہوری عمل کو بہرحال راستہ ملا، قومی اداروں میں اشتراک عمل اور تعلقات کار کے تجربات سے حکمراں آشنا ہوئے، یوں بجٹ آیا، وہ بھی چلا گیا۔ کوئی بریک تھرو دیکھنے میں نہیں آیا، وقت اور عوام حکومت کی طرف سے ایک بڑے اقدام اور نمایاں تبدیلی کی تمنا لیے جیتے رہے۔

دنیا عمران سے توقع کررہی تھی کہ پاکستان ایک پیش قدمی کرسکتا ہے، عالمی قوتیں پاکستان کی سیاسی اور معاشی طاقت اور امکانات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھیں کہ اسی ادھیڑ بن میں کورونا وائرس کا اعصاب شکن شہاب ثاقب ملک ہی نہیں پوری دنیا پر گر پڑا۔ حکومت کو ایسا چیلنج درپیش ہوا جسے بیان کرنے کے لیے پی ٹی آئی کی داخلی سیاست میں آئے ہوئے بھونچال کی طرف جانا پڑیگا جو حکومت کے اندر اٹھنے والے سیاسی اختلافات، اتحادی جماعتوں کے مطالبات، سمیت خطے کی جیوپولیٹیکل حساسیت، معیشت، ٹڈی دل، زراعت، چینی، آٹے کے سکینڈل، کراچی ایئر پورٹ پر جہاز کریش کی رپورٹ اور پورے حکومتی سیٹ اپ پر ایک وفاقی وزیر کی اوپن ڈیبیٹ کے آئینہ میں نظر آیا۔ یہ خوش آئند بات تھی کہ تجزیہ کاروں نے اس مکالمہ، ڈسکورس اور ڈائیلاگ کو بہار کا جھونکا قرار دیا اور کہا کہ کچھ بھی ہوجائے حکومت کے جانے کا کوئی امکان نہیں۔ عام لوگ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ زمینی حقیقت کچھ اس سے ملی جلتی ہی ہے۔

میڈیا کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 14نکاتی ایجنڈے سے ہٹ کر وفاقی وزراء میں حکومت اور پارٹی رہنماؤں میں سوالات اٹھائے گئے، بڑی گرما گرمی ہوگئی۔ایک انٹرویو میں ایک وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ سے کہا ہے کہ ان کے پاس چھ ماہ ہیں کارکردگی نہ دکھائی تو معاملات دوسری طرف چلے جائیں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی کے اندرونی جھگڑوں سے حکومت کو نقصان پہنچا ہے، وزیر اعظم کے مشیر فیصلے کر رہے ہیں اور سیاسی لوگ منہ دیکھ رہے ہیں۔

وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں کہ ڈیلیور نہیں کرسکے جب کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان سے لوگوں کو بہت زیادہ توقعات تھیں۔ واقعات کا معروضی جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ جب حکومت بنی تو پی ٹی آئی میں اتنے جھگڑے ہوئے کہ سارا سیاسی طبقہ کھیل سے باہر ہوگیا۔ پارٹی کے اندرونی جھگڑوں سے حکومت کو نقصان پہنچا۔ حکومت دو چیزوں پر چلتی ہے، ایک سیاست پر اور دوسری گورننس، عمران خان کو اس بات کا پورا احساس ہے۔ پارٹی ڈسکشن میں یہ نکتہ بھی اٹھا کہ کمزور لوگوں کو اہم عہدوں پر لگانا عمران خان کا تو یہ مسئلہ نہیں ہے۔ انھیں تو بہترین لوگوں کو عہدے دینے چاہیے تھے۔

کافی لمبی بحث کے بعد وزیر اعظم نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے کابینہ ارکان کو احتیاط اور اتحاد قائم رکھنے کی صائب ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا دو وزراء پر برس پڑے، ان کا کہنا تھا کہ وزراء کی آپس کی کھینچا تانی سے حکومت کو نقصان ہو رہا ہے، انھوں نے کہا کہ یہاں کابینہ میں سب اچھا کی رپورٹ دی جاتی ہے۔

گراؤنڈ پر کارکردگی کچھ اور ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے فیصل واوڈا کو بھی مزید بات کرنے سے روک دیا۔ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے مشیروں اور معاونین خصوصی سے دوہری شہریت کی تفصیلات مانگ لیں، انھوں نے ہدایت کی کہ معاونین اور مشیر اپنی شہریت کی تفصیلات کابینہ ڈویژن میں جمع کرائیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں تمام معاونین خصوصی کی جانب سے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائی جا رہی ہیں۔

اجلاس میں مشیر خزانہ نے کابینہ کو گندم کی صورتحال، صوبائی حکومتوں کی جانب سے گندم کی خریداری، ذخائر کی صورتحال اور آٹے کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے کیے جانے والے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ مشیر خزانہ نے بتایا کہ گندم کی درآمد کی کوئی مقررہ حد نہیں ہوگی اور درآمد کنندگان اپنی ضروریات کے مطابق ڈیوٹی فری گندم درآمد کر سکیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گندم عوام کی بنیادی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو ہدایت کی کہ اس ضمن میں مستقبل کے تخمینوں اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روڈ میپ مرتب کیا جائے۔ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کہا کہ چینی کی قیمتیں کم کرنے سے متعلق نظام آیندہ تین ماہ میں مکمل ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے بعد پتہ چلا ہمارا صحت کا نظام کتنا خراب ہے۔

تاہم پاکستان میں کورونا کی وجہ سے ہلاکتیں کم ہوئی ہیں، لاک ڈاؤن کا شور وہ لوگ کر رہے ہیں جن کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کابینہ نے یکساں نصاب مرتب کرنے اور مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کے حوالے سے وزیر تعلیم شفقت محمود کی کاوشوں کو سراہا۔ کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ صوبہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو ایک غیر معمولی debate کے مضمرات واثرات اور نتائج کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملکی سیاسی صورتحال پر ایک مربوط پالیسی بیان دینا ہوگا۔

جمہوریت میں پارلیمانی بحثیں ہوتی ہیں، اختلاف رائے کے حق کو کوئی حکومت سیاسی اور جمہوری عمل سے دور نہیں رکھ سکتی، یہ مثبت مکالمہ ہوا ہے، کھل کر حکومتی کمزوریوں پر گرفت کی گئی، اس سے حکومت کمزور نہیں بلکہ یہ حکمرانوں کے لیے ان کے اندر اٹھنے والی ایک ویک اپ کال ہے، ایک سیاسی چنگھاڑ اور حکومتی کارکردگی پر نظر ڈالنے اور اپنی کوتاہیوں اور گورننس کی لغزشوں کی اصلاح کی مہلت کا سبق آموز دورانیہ ہے، کیونکہ اس سے وزیر اعظم کو دیکھنے کا موقع ملا کہ وزراء کی کارکردگی کیسی رہی ہے، عوام کو کتنا ریلیف ملا ہے، تعلیم، صحت، زراعت، معیشت، تجارت اور دیگر شعبوں میں پی ٹی آئی حکومت نے کتنے سنگ میل عبور کیے۔

حقیقت میں ایسی ڈیبیٹ تو ہر دور اور ہر حکومتی زمانے میں سننے کو ملی، دل کے پھپھولے پھوڑے ہی اسی وقت جاتے ہیں جب عوام اور حکمرانوں کی قربتوں میں فاصلے پیدا کیے جاتے ہیں، بدگمانیاں بڑھتی ہیں، میرٹ کا قتل ہوتا ہے، حکومت کے مضطرب، پارٹی اور حکومت سے ناراض لوگوں نے اس گرینڈ مکالمہ میں جو سوالات اٹھائے وہ سیاسی حقائق سے جڑے ہوئے تھے، کوئی فکشن ڈسکس نہیں ہوا، وزیر اعظم کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے، کیونکہ بحث کا ایک اہم نکتہ ان کی ذمے داریوں سے متعلق بھی تھا، ان سے منسوب یہ فقرہ گنجینۂ معانی کا طلسم رکھتا ہے کہ وزراء اپنی کارکردگی چھ ماہ میں بہتر کرلیں، ایسا نہ ہو کہ معاملات کسی دوسری طرف چلیں جائیں، اس ''دوسری طرف'' کے سیاسی استعارہ اور اشارے کی مابعد الطبیعات کو وزیر اعظم سے زیادہ اور کون جانتا ہے۔

مزید براں اختلاف رائے کے مثبت پہلو کو اگر سامنے رکھا جائے تو حکومت کو اپنی دو سالہ کارکردگی پر خود احتسابی کا اس سے بہتر کوئی موقع نہیں مل سکتا، وزیر اعظم نے وزراء کو کارکردگی بہتر بنانے کی جو ڈیڈ لائن دی ہے وہ کثیر جہتی ہے، حکومت کو کورونا کے عفریت کے باعث ایک بیمار سی زراعت ملی ہے، ٹڈی دل کا ایک ممکنہ لشکر کینیا کے افریقی صحرا سے اٹھنے والا ہے۔

اس کی منزل پاکستان ہی ہوگی، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کئی اضلاع ٹڈی دل کے نشانے پر ہیں، معیشت تباہی سے دوچار ہے، لاکھوں محنت کش بیروزگاری کا زہر پی رہے ہیں، کراچی شہر کی حالت ناگفتہ بہ ہے، پٹرول سستا ہوا اور اب پھر سے مہنگا ہونے جارہا ہے مگر عوام کو وافر ریلیف کسی شعبے میں نہیں ملا، مہنگائی عروج پر ہے، اداروں کی غیر فعالیت محتاج بیاں نہیں، حکومت کو وعدے پورے کرنے ہیں، کورونا کی مصیبت بڑھنے والی ہے۔

خبردار کیا جا رہا ہے کہ متاثرین کی تعداد 40لاکھ اور ہلاکتیں80 ہزار ہونگی، عوام خوف زدہ ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سیاسی دانشمندی اور تنقیدی مباحث سے سبق لے اور عوام کو ریلیف اور معاشی آسودگی مہیا کرے۔ مشہور مقولہ ہے کہ سیاست دان انھیں کہا جاتا ہے جو اگر کسی سرنگ کے آخر میں کچھ روشنی دیکھتے ہیں تو باہر نکل کر مزید سرنگیں لے آتے ہیں۔ سیاسی منظر نامہ صبر آزما ہے، حکمرانوں کے لیے چشم کشا بھی ہے۔ میرؔ نے کہا تھا،

موسم آیا تو نخلِِ دار پہ میرؔ

سرِ منصور ہی کا بار آیا

مقبول خبریں