توانائی بحران کی تشویشناکی
کورونا کے باعث پورے ملک کا تعلیمی نظام ساکت ہوچکا، قوم کی تہذیبی اور فکری زندگی منجمد ہوگئی ہے
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی ٹیرف میں 2 روپے 89 پیسے تک اضافے کی منظوری دے دی گئی۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ای سی سی کے 4 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ ای سی سی نے کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دے دی، کے الیکٹرک ٹیرف میں اضافہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا جائے گا۔
بلاشبہ تواں سوز توانائی بحران ملک گیر ہے، اور وزیر اعظم عمران خان نے اس کی اندوہناکی کا ان الفاظ میں حوالہ دیا تھا کہ پاور سیکٹر ایک عذاب ہے جب کہ مشیر توانائی نے میڈیا کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا تھا کہ توانائی بحران شدید ہے اور یہ ملکی برقی نظام کو لے ڈوبے گا، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ محض فراہمی تک محدود نہیں بلکہ بجلی کے پورے نظام کا جائزہ لیا جائے تو عوام کی روزمرہ زندگیوں کے ساتھ توانائی کا تعلق شہروں کے مرکزی اعصابی نظام سے ہے۔
بجلی نہ ہو تو کوئی ملکی صنعت، ٹریڈ، کاروبار حیات چلنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا، یوں بجلی کی فراہمی در حقیقت سیاسی وسماجی سسٹم کے ساتھ جڑی ہوئی ایسی حقیقت ہے جسے حکومت کو اپنی اولین ترجیحات میںشامل کرنا پڑیگا، اس وقت ملک کورونا وائرس کی زد میں ہے، عام آدمی کے لیے جینا محال ہوگیا ہے، گرمی اور حبس کا وہ عالم ہے کہ بجلی کی معطلی سے تنگ و تاریک گھر اور فلیٹوں کے کنکریٹ جنگل میں سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے، عوام کو یاد ہے کہ ماضی کی حکومتیں بھی لوڈ شیڈنگ کے مسئلہ سے نبرد آزما رہیں۔
ہر حکومت نے اپنی صوابدید پر بجلی کی جنریشن اور تقسیم کے نظام کو مستحکم کرنے کی کوششیں بھی کیںاور ملک کو لوڈ شیڈنگ فری جنت بنانے کے دعوے بھی کیے لیکن عوام کو لوڈ شیڈنگ، اوور بلنگ، کنڈا سسٹم، لائن لاسز اور بجلی کی طلب ورسد کے لچکدارسسٹم کی شفافیت آج تک نصیب نہیںہوئی، آج بھی بجلی کا نظام عوام کی توقعات اور زندگی کی بنیادی ضروریات کے مطابق فیل ہے، مختلف حکومتیں بجلی کے منصوبوں کے اعلانات کرتی رہی ہیں لیکن الزامات کا ایک شور ہے کہ عوام کو سستی بجلی مہیا نہیں ہوتی اور صارفین کو مہنگی بجلی اور بھاری بلز ہر ماہ ارسال کیے جاتے ہیں۔سوال بہت سارے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی فراہمی کے لیے مربوط سسٹم کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملکی بجٹ کی تیاری کا ڈھنڈورا تو زور وشور سے پیٹا جاتا ہے مگر عوام کی زندگی بجٹ کے شماریاتی گورکھ دھندوں سے آسودگی سے دوچار نہیں ہوتی،جب کہ بجٹ کے اعلان کے ساتھ ہی دوسرے ممالک میں بجلی، پٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے خورونوش اوردیگر بنیادی ضروری چیزوں کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کے سالانہ بجٹ عوام کے لائف اسٹائل سے جڑے ہوتے ہیں، ان کی پوری روزمرہ زندگی بجٹ کے آئینے میں متحرک ہوتی ہے لیکن ہمارے عوام سال کے پہلے دنوں میں بجٹ کا ذکر تو سنتے ہیں مگر بجٹ کے ثمرات کہیں نظر نہیںآتے اور عوام کی زندگی میں کوئی با ثمر تبدیلی بھی نہیں آتی۔ عوام کو یہ مالیاتی راز سمجھ میں نہیں آتا۔ بلاشبہ موسمی تبدیلیوں سے عوام کی دشواریوں میں اضافہ ہوا ہے۔
حکومت نے بجلی سمیت دیگر سہولتوں کی فراہمی میں اقدامات اٹھائے ہیں مگر دو سال مکمل ہوئے ہیں عوامی توقعات کی تکمیل کا ہدف پورا نہیں ہوا اور لوگ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور اس کے ہوشربا بلوں سے سخت تنگ آگئے ہیں۔ عوام پر کچھ ستم گرمی کے موسم نے بھی ڈھایا ہے، کوئی اندازہ کرسکتا ہے کہ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کی گرمی کتنی قیامت خیز ہوتی ہے، ہمارے نامہ نگار کے مطابق حیدرآباد میں شدید گرمی ہے، اندرون سندھ سخت گرمی کے حوالہ سے بعض شہر تو ارضی جہنم میں بدل جاتے ہیں۔
لوڈ شیڈنگ کا ایک دردناک ہدف آن لائن تعلیمی نظام ہے، ہزاروں اسکول بند ہیں، ان کی لیڈی ٹیچرز اور اساتذہ بے روزگار ہیں، اب بجلی وقفے وقفے سے جاتی رہے اور لوڈ شیڈنگ 12سے14 گھنٹے جاری رہے تو آن لائن تعلیم کیسے جاری رکھی جاسکتی ہے، ویسے بھی حکومت کو ادراک کرنا چاہیے کہ کورونا کے باعث پورے ملک کا تعلیمی نظام ساکت ہوچکا، قوم کی تہذیبی اور فکری زندگی منجمد standstill ہوگئی ہے، تعلیمی نظام کا زوال اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان، وفاقی سیکریٹری عمر رسول، تحریک انصاف کے قومی و صوبائی اسمبلی اراکین کے علاوہ جی ڈی اے کے نمائیندوں نے شرکت کی، گورنر سندھ نے کہا کہ حکومت بجلی کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی، انھوں نے کہا کہ یقین دہانی کرائے جانے کے باوجود کراچی میں لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوئی، وفاقی وزیر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ کراچی کے لیے650 کے بجائے800 میگاواٹ بجلی دے رہے ہیں۔
انھوں نے گیس کی ایک مناسب مقدار کی فراہمی پر بھی شرکا کو آگاہ کیا مگر یہ سب کام ایڈہاک ازم کے تحت ہو رہے ہیں، قوم ایک شفاف بجلی نظام چاہتی ہے، کیونکہ ملکی صنعتی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا دارومدار مجموعی صنعتی اور سماجی ترقی سے مشروط ہے۔
ادھر لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں انتہا کی گرمی میں شدید لوڈ شیڈنگ نے شہریوںکو بے حال کردیا۔ بعض علاقوں میں ہرگھنٹے بعد لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔لاک ڈاؤن کے باعث پہلے ہی بحران سے دوچار کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔لاہور میں شہری گھنٹوں بجلی سے محروم رہنے لگے۔ مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کا جینا محال کردیا۔
ذرائع کے مطابق سسٹم اوور لوڈ ہونے کے باعث این پی سی سی کی جانب سے مختلف گرڈاسٹیشنز کو ایک سے دو گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے کے لیے بند رکھا جا رہا ہے۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ وولٹیج کی کمی اور زیادتی کے باعث شہریوں کے الیکٹرونکس کے سامان جلنے کے واقعات عام ہوگئے ہیں۔
پنجاب کے بعض دیہی علاقوں اور چھوٹے قصبوںمیں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ18گھنٹے تک پہنچ گیا ہے جس سے عوام بلبلا اٹھے ہیں۔ کاروبار ٹھپ ہو گئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر اعظم کی اس تشویش میں پوری قوم شامل ہوکہ پاور سیکٹر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، حکومت خود توانائی بحران سے پریشان ہے، وقت آگیا ہے کہ توانائی بحران کے حتمی حل کے لیے اسٹیک ہولڈرز اربوں روپے کے گردشی قرضوں سے جان چھڑانے کا کوئی راستہ تلاش کریں۔ سنجیدگی سے بجلی کے بوسیدہ نظام کو بدل ڈالیں۔کوئی تو بڑی تبدیلی آئے!