مسافر کوسٹر اور ٹرین میں الم ناک حادثہ
ریلوے ٹرین حادثہ الم ناک ہے، یہ بد قسمتی ہے کہ ریلوے نظام ہلاکتوں سے پیچھا نہ چھڑا سکا
فاروق آباد میں سچا سودا پھاٹک پر مسافر کوسٹر کراچی سے لاہور آنے والی ٹرین شاہ حسین ایکسپریس کی زد میں آگئی جس سے 4 خواتین سمیت 22 سکھ یاتری ہلاک اور6 زخمی ہو گئے۔ 2 بچیاں معجزانہ طور پر بچ گئیں، زخمیوں کو ڈسٹرک ہیڈ کوارٹرز اسپتال شیخوپورہ منتقل کر دیا گیا جن میں3 افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
ریلوے ٹرین حادثہ الم ناک ہے، یہ بد قسمتی ہے کہ ریلوے نظام ہلاکتوں سے پیچھا نہ چھڑا سکا، مسافروں کی زندگیاں محفوظ نہ بنائی جاسکیں، ارباب اختیار کو کچھ سوچنا پڑیگا، ریلوے کی کارکردگی کی بہتری وقت کی ضرورت ہے، ایسے حادث کبھی فراموش نہیں ہوسکیں گے۔ ڈی پی او کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ وقوعہ کے وقت پھاٹک بند تھا لیکن ڈرائیور نے جلد بازی کرتے ہوئے کچھ پیچھے جا کر پھاٹک کراس کرنے کی کوشش کی جس سے حادثہ رونما ہوا اور ڈرائیور بھی زندہ نہ بچ سکا۔
ڈی پی او نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد پاکستانی سکھ یاتری تھے جو تین کوسٹروں میں سوار تھے، دو کوسٹرز آگے گزر چکی تھیں،کوسٹر میں 25 سے 26 مسافر سوار تھے جن میں سے 20 موقع پر ہلاک ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اسپتال میں زیر علاج زخمیوں میں مزید 2 افراد چل بسے، یہ افراد پشاور سے کسی بزرگ کے انتقال پر تعزیت کے لیے ننکانہ صاحب آئے ہوئے تھے اور گزشتہ روز واپسی سے قبل سچا سودا گوردوارہ میں ماتھا ٹیکنے کے لیے جا رہے تھے۔
ادھر ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل عامر مجید مغل کی ہدایت پر پنجاب رینجرز کے دستے بھی فاروق آباد پہنچے اور زخمیوں کو جائے حادثہ سے اسپتال پہنچانے میں ضلعی انتظامیہ کی مدد کی، مرنے والے17 افراد کی شناخت ان کے ناموں سے ہوئی، ڈرائیور سمیت دو افراد کی شناخت نہیں ہوسکی، وزیر اعظم عمران خان نے حادثہ پر رنج و غم کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ ریلوے کے تمام آپریشنل سیفٹی ایس او پیز کے نظام کا فوری جائزہ لیا جائے گا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ٹرین حادثہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس اور غم زدہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان ریلوے کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ذمے داران کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے جب کہ ریلوے انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ ڈی ای این کو معطل کردیا۔
ترجمان کے مطابق سی ای او پاکستان ریلویز دوست علی لغاری نے ٹرین حادثے کی تحقیقات کے لیے 3 سینئر افسران چیف انجینئر اوپن لائن شاہ رخ افشار، سی او پی ایس آپریٹنگ عامر علی بلوچ اور سی ایم ای لوکو عبدالمالک پر مشتمل کمیٹی بنادی ہے۔ واضح رہے پاکستان ریلوے قومی یکجہتی کی تاریخی علامت ہے، اس کی کارکردگی پر جس تیزی سے سوالیہ نشان لگ رہے ہیں اس پر حکومت اور وزارت ریلوے کے حکام کو سنجیدگی سے نظر ڈالنی ہوگی۔