عالمی لیبرقوانین پر عمل نہ ہونے سے برآمدات کو خطرہ

معروف گارمنٹ چین نے بیٹرورک پروگرام کیلیے برآمدکنندگان کو مارچ کی ڈیڈلائن دیدی


Business Reporter December 10, 2013
پاکستان کی برآمدی صنعتوں میں مذکورہ کنونشنز کے تحت بیٹرورک پروگرام کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے . فوٹو : فائل

FAISALABAD: صنعتی کارکنوں کے تحفظ کے عالمی قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث پاکستانی برآمدات کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں، پاکستان انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن کے30 کنونشنز کا دستخط کنندہ ہے۔

یہ بات وفاقی سیکریٹری اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ منیرقریشی نے پیر کو آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے اراکین سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ30 میں سے8 کنونشنز لیبر انسپکشن، پیشہ وارانہ تحفظ، صحت وسماجی خدمات اور سوشل سیکیورٹی کی ضروریات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی برآمدی صنعتوں میں مذکورہ کنونشنز کے تحت بیٹرورک پروگرام کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک کے درآمدکنندگان پاکستان سے برآمدی معاہدوں سے قبل مذکورہ کنونشنز پر عمل درآمد کی تصدیق کریں گے لہٰذا اس پروگرام پر عمل درآمد نہ ہونے سے عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کو خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ منیرقریشی نے بتایا کہ گارمنٹس کی سرفہرست بین الاقوامی چین ''ڈزنی ورلڈکارپوریشن''نے بیٹرورک پروگرام شروع کرنے کے لیے پاکستانی برآمدکنندگان کومارچ2014 تک کی ڈیڈلائن دیدی ہے۔

اس پروگرام کو انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اسپانسر کررہی ہے، وزارت اوورسیز پاکستانیزاینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ نے پاکستان میں بیٹرورک پروگرام کی آگہی کے لیے تمام وفاقی وزارتوں کے اشتراک سے ایک ٹھوس حکمت عملی مرتب کررہی ہے تاکہ ملک میں اس پروگرام پر بھرپور انداز میں عملدرآمد ممکن ہوسکے۔ منیرقریشی نے بتایا کہ تمام صوبوں کے آجر اور اجیرکے نمائندوں اور سرفہرست برآمدکنندگان سے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ان کے مذاکرات ہوئے ہیں۔



جس میں طے پایا ہے کہ اپٹماکے پلیٹ فارم کو بھی بیٹرورک پروگرامکی آگہی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ پروگرام کے 3اہم نکات ہیں جن میں صنعتوں میں آئل ایل او لیبر اسٹینڈرڈ اور مقامی لیبر قوانین، صنعتی منیجرز اور ورکروں کے درمیان بہتر تعلقات، ورکروں کو فراہم کردہ سہولتوں کے علاوہ حکومت، آجر، یونینز، ورکرز اور غیرملکی خریداروں کے درمیان روابط شامل ہیں کا جائزہ لینے کے لیے انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن کے نامزد آڈیٹرزمعائنہ کاری کریں گے۔

منیرقریشی نے بتایا کہ آئی ایل اوکے پروگرام پر عمل درآمد سے مقامی صنعتوں میں پیداواری ماحول نہ صرف بہتر ہوگا بلکہ بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے ساتھ بیرونی خریداروں سے روابط میں بھی بہتری آئے گی۔ اپٹما کے زونل چیئرمین طارق سعود نے کہا کہ ڈزنی ورلڈ کارپوریشن کی جانب سے بیٹر ورک پروگرام پر عمل درآمد کی ڈیڈلائن پرشعبہ ٹیکسٹائل کے برآمدکنندگان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ ایک سرفہرست بین الاقوامی گارمنٹ چین کی اس دھمکی کے بعد اگر دیگر غیرملکی خریداروں نے بھی اسی نوعیت کا فیصلہ کیا تو پاکستان کے دیگر شعبوں کے ساتھ ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدکنندگان سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ انہوں نے وزارت اوورسیز پاکستانیزاینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کی جانب سے آئی ایل اوکے بیٹرورک پروگرام کے منظم آغاز کو صنعتی شعبے کے لیے خوش آئند قراردیا۔