سپریم کورٹانگوٹھوں کے نشان سے ووٹوں کی تصدیق درخواست سماعت کے لیے منظور

چیف جسٹس کے بینچ نے رجسٹرارآفس کے اعتراضات کیخلاف اپیل منظور کرلی


Numainda Express December 10, 2013
ان حلقوںمیں تحریک انصاف کے عمران ،حامدخان،عثمان ڈاراورجہانگیرترین ہارگئے تھے فوٹو؛فائل

سپریم کورٹ نے حالیہ عام انتخابات میں پنجاب سے قومی اسمبلی کے 4 حلقوں کے نتائج کی شفافیت کی جانچ پڑتال انگوٹھے کے نشان سے کرانے کے بارے میں دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات مستردکر دیے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے اعتراضات کیخلاف تحریک انصاف کی اپیل منظورکرتے ہوئے کیس ابتدائی سماعت کیلیے 7 دن کے اندر مقررکرنے کا حکم دیا ہے ۔تحریک انصاف نے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر لاہور کے دو حلقوں این اے 122،این اے125،سیالکوٹ کے حلقہ این اے 110 اور لودھراں کے حلقہ این اے 154میں انتخابی نتائج کی تصدیق انگوٹھے کے نشان کے ذریعے کرانے کی استدعا کی تھی ۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ 4 حلقوں کے نتائج کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے۔



اگر جانچ پڑتال کے بعد نتائج درست ثابت ہو جاتے ہیں توپی ٹی آئی پورے صوبے کے نتائج کو درست تسلیم کر لے گی ۔این اے122لاہور سے عمران خان اسپیکر ایاز صادق ،125 سے تحریک انصاف کے حامد خان خواجہ سعد رفیق،این اے110 سیالکوٹ سے عثمان ڈار مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف اور 154لودھراں سے جہانگیر ترین (ن) لیگ کے صدیق خان بلوچ کے مقابلے میں ہارگئے تھے ۔رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر درخواست واپس کی تھی جس کیخلاف اپیل دائرکی گئی تھی ۔