دھرنا سیاست کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ

عجب ستم ظریفی ہےکہ ڈرون حملوں کا نشانہ پاکستان بنےاوراسے رکوانے کی مہم کا نشانہ بھی پاکستان بنے!یہ تودہرا نقصان ہوگیا


Zahida Hina December 11, 2013
[email protected]

ان دنوں نہ جانے کیوں ایک پرانا گیت بار بار یاد آتا ہے جس کے بول کچھ یوں تھے کہ ''کہیں پہ نگاہیں،کہیں پہ نشانہ'' اس گیت سے تو فلم بینوں نے یقینا بہت لطف اٹھایا لیکن دسمبر 2013 میں اس کی معنویت جس نئے انداز سے ابھر کر سامنے آئی ہے، اس کا تصور شاید ہی کسی نے کیا ہو ۔معاملہ کچھ یوں ہے کہ ڈرون حملوں کے خلاف نیٹو سپلائی روکنے کی مہم تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے ۔ نیٹو سپلائی روکنے کے لیے جو دھرنے دیے جارہے ہیں ان کامقصد امریکا کو اس بات پرمجبور کرناہے کہ وہ معاشی، سیاسی اور قانونی دبائو میں آکر ڈرون حملے بند کردے۔ امریکا نے طورخم کے راستے سپلائی روک دی لیکن ڈرون حملے بند نہیں کیے۔ اس مہم میں ظاہر تو یہ کیا گیا کہ نگاہیں امریکا پر مرکوز ہیں لیکن اس کا اصل نشانہ امریکا نہیں پاکستان بن رہا ہے۔

افغانستان کے عظیم لویہ جرگہ نے امریکا کے ساتھ جس معاہدے کی توثیق کی ہے اس کے مطابق 2014 کے بعد، امریکا کو افغانستان میں 9 فوجی اڈے اور 15 سے 20 ہزار فوج رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے یہ بات یقینی ہوگئی ہے کہ امریکا اور نیٹو افواج کی افغانستان میں موجودگی بڑی حد تک کم ہوجائے گی۔ امریکا اور نیٹو افواج، ان دنوں ایک طے شدہ پروگرام کے تحت افغانستان سے سازو سامان سمیت جا رہی ہیں۔ اس مرحلے پر جو لوگ پاکستان میں نیٹو سپلائی روک رہے ہیں وہ دراصل افغانستان سے امریکی انخلا کو روک رہے ہیں۔ یہ امریکا کی کیسی مخالفت ہے کہ اس کے افغانستان سے باہر نکلنے کی راہ مسدود کردی جائے۔ پرجُوش کارکنوں کو شاید علم نہ ہو، تاہم، نیٹو سپلائی کو دھرنوں کے ذریعے روکنے کی تحریک چلانے والے سیاسی رہنما بخوبی جانتے ہیں کہ افغانستان سے امریکا اور نیٹو افواج کے انخلاء کا ایک مرحلہ مکمل ہوچکا ہے ۔ ماضی کے مقابلے میں اب بہت کم نیٹو سپلائی افغانستان جارہی ہے۔ اس سپلائی کے متعدد ذرایع ہیں جن میں ایک پاکستان بھی ہے جہاں سے بہت کم مقدار میں سامان افغانستان جارہا ہے۔ اسی لیے دھرنوں سے امریکا یا نیٹو افواج پر کوئی دبائو نہیں پڑے گا اور انھیں کوئی بڑا مالی نقصان نہیںاٹھانا پڑے گا۔

دھرنوں کا بڑا نقصان امریکا یا نیٹو ممالک کو نہیں بلکہ خود پاکستان کوہو رہا ہے۔ اس حوالے سے مالی ادائیگیوں کے جو معاہدے موجود ہیں، دھرنوں کے باعث ان پر عملدرآمد رک جانے سے پاکستان کو ہر روز تقریباً ایک ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گویا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ملکی خزانے کو اس وقت تک براہ راست اربوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ جتنے دن یہ دھرنے جاری رہیں گے امریکا کو نہیں بلکہ پاکستان کو فی دن ایک ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اب ایک نظر صوبہ خیبر پختونخوا پر ڈال لی جائے جہاں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی اقتدارکے سنگھاسن پر براجمان ہیں۔ صوبہ پختونخوا کے حوالے سے تجزیہ کریں تو یہ الم ناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ دونوں جماعتیں دھرنے کے ذریعے نیٹو سپلائی روک کر امریکا یا نیٹو سے کہیں زیادہ نقصان خود اپنی صوبائی حکومت، معیشت اور عوام کو پہنچا رہی ہیں۔ امریکا کو نقصان پہنچانے کی دعوے دار جماعتوں کے اپنے صوبے کا ترقیاتی بجٹ 118 ارب روپے ہے جس میںنیٹو ممالک کی 35 ارب کی امدادی رقم بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ لوگوںکو یہ جاننا چاہیے کہ خیبرپختونخوا حکومت 500 ملین ڈالر کی امریکی امداد بھی حاصل کررہی ہے۔

یہ تحریک اگر زیادہ تیز ہوئی تو اس کے نتیجے میں صوبہ کئی کھرب روپوں سے محروم ہوجائے گا۔ صوبائی اور مرکزی حکومت کو اس تحریک سے کھربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے تو اس کے ساتھ نجی شعبے، بالخصوص ٹرانسپورٹ، کلیرنگ اور فاردرڈنگ کمپنیاں اور اس سرگرمی سے متعلق تمام کاروباری اور پیشہ ور افراد بھی اس تحریک سے براہ راست متاثرہورہے ہیں۔ وفاق ایوانہائے تجارت کے ایک اندازے کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان مستقبل قریب میں باہمی تجارت کے حجم کو باآسانی 5 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر نے کہا کہ ان دھرنوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان معمول کی تجارت بری طرح متاثر ہورہی ہے ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دھرنے والی جماعتوں کے جذباتی کارکن پاک افغان ٹرانزٹ کارگو کنٹینرز کو روک کر ان کے ڈرائیوروں سے بدتمیزی کرتے ہیں جس کا شدید رد عمل افغانستان میں پاکستانی ڈرائیوروں کے خلاف بھی ہوسکتا ہے۔ دھرنوںسے پاک افغان ٹرانزٹ تجارت میں رکاوٹ پیش آرہی ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے غریب عوام متاثر ہورہے ہیں۔ ان حقائق سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کے دھرنوں سے امریکا یا نیٹو ممالک کے تاجروں، ٹرانسپورٹروں، کاروباری طبقوں اور عام شہری کوکسی قسم کا نقصان نہیں پہنچ رہا لیکن پاکستان کے کاروبار، معیشت، غریب لوگوں، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔

دھرنوں کے ذریعے نیٹو سپلائی روک کر امریکا اور اس کے اتحادیوں پر کوئی قابل ذکر معاشی دبائو نہیں پڑے گا۔ اب دیکھا جائے کہ امریکا پر یہ حکمت عملی بین الاقوامی سطح پر سیاسی اور سفارتی دبائو کا باعث بھی بنی یا نہیں؟ سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نیٹو سپلائی بند ہونے سے صرف امریکی فوجیوں کی نہیں بلکہ تمام نیٹو ممالک اور ایساف میں شامل 5 مسلمان ملکوں کے لوگوں کے لیے اشیائے خوردو نوش اور دیگر سامان کی فراہمی میں خلل واقع ہورہا ہے۔ نیٹو ممالک پورے یورپ کی نمایندگی کرتے ہیں جب کہ ایساف ممالک میں 5مسلمان ملک بھی شامل ہیں۔ لہٰذا یہ امر یقینی ہے کہ ڈرون حملے رکوانے کی آڑ میں نیٹو سپلائی روکنے کی اس مہم سے یورپ اور مسلم دنیا کے تعلقات امریکا سے نہیں بلکہ پاکستان سے متاثر ہو رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ امریکا کی مخالفت کے پردے میں پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ ہماری عالمی تنہائی ڈرون حملوں کو روکنے میں مدد گار ہوگی یاان حملوں کی شدت میں مزید اضافہ ہوجائے گا؟ اس سوال کا جواب ہمیں اس وقت بھی مل چکا تھا جب نیٹو سپلائی 7 ماہ کے لیے روک دی گئی تھی۔ اس دوران ریکارڈ 73 ڈرون حملے ہوئے تھے۔ جو سیاسی جماعتیں دھرنا سیاست کررہی ہیں ان کے اعلیٰ رہنما جانتے ہیں کہ پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد 1386 کے تحت دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں لاجسٹک مدد فراہم کرنے کے قانونی طور پر پابند ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں۔ نیٹو سپلائی روک کر پاکستان اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کررہا ہے جس کے نتائج تباہ کن بھی ہوسکتے ہیں۔

ایک ایسی صورتحال میں یہ تجسس ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اور اس کے عوام سے لازوال اور بے پناہ محبت کا دعویٰ رکھنے والے ہمارے عظیم سیاسی رہنما اور مدبر ایسا غیر ذمے دارانہ عمل کیوں کررہے ہیں؟ اپنے مؤقف کی تائید میں وہ جو دلائل پیش کرتے ہیں ان میں زیادہ وزن نہیں ۔ وہ امریکا پر معاشی اور سیاسی دبائو ڈالنے کی بات کرتے ہیں جو عملاً غلط ثابت ہوچکی ہے۔ یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ ڈرون حملے ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں، لہٰذا قومی غیرت اور حمیت کا تقاضہ ہے کہ اس کو روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جائے۔ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ جو حربے میں ماضی میں ناکام ہوچکے ہیں اور جن کے استعمال سے امریکا کو نہیں بلکہ پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ ا ہے ان کو جاری رکھ کر قومی غیرت و حمیت کا تحفظ ہوگا یا اسے مذاق بنا دیا جائے گا؟

عجب ستم ظریفی ہے کہ ڈرون حملوں کا نشانہ پاکستان بنے اور اس کو رکوانے کی مہم کا نشانہ بھی پاکستان ہی بنے! ! یہ تو دہرا نقصان ہوگیا کہ اپنے اور غیر دونوں پاکستان پر ستم ڈھائیں۔ امریکا کو روکنا بس میں نہ سہی، اپنوں کو تو سمجھنا چاہیے کہ وہ ایسا نہ کریں ۔ آپ خیبرپختونخوا میں حکمران ہیں، اس صوبے کے غریب عوام کے لیے ترقیاتی کام کریں،بے روزگاری اور کرپشن کا خاتمہ کریں۔ انتخابات سے پہلے لوگوں کی توقعات اتنی بڑھا دی گئی تھیں کہ اب انھیں پورا کرنا مشکل ہورہا ہے ۔ لہٰذا سارے مسئلوں کا حل یہ بتایا جارہا ہے کہ ڈرون حملوں کے رکتے ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ کیا ڈرون حملوں سے پہلے یہ نہریں بہا کرتی تھیں؟ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اپنی غیر تسلی بخش کار کردگی سے توجہ ہٹانے اور فوری سیاسی مقبولیت کے لیے ملک کو مشکل میں ڈال دیا جائے جو پہلے ہی عذابوں میں گھرا ہوا ہے۔

یہ کوئی بات نہ ہوئی کہ نگاہیں امریکا پرہوں اور نشانہ کہیں اور لگایا جائے۔ کامیاب فلموں کے نسخے سیاست میں تو نہ آزمائیے جناب!

مقبول خبریں