جمہوریت کو سنبھلنے کا موقع دیں

غریب عوام کے حالات تو اپنی جگہ کاروباری طبقہ بھی پریشانی سے دو چا رہے۔


Editorial July 18, 2020
غریب عوام کے حالات تو اپنی جگہ کاروباری طبقہ بھی پریشانی سے دو چا رہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان نے بھارتی درخواست پر دہشتگردی میں ملوث جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو دوسری بار قونصلر رسائی دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی قوانین کا احترام کرتا ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق کلبھوشن سفارتکاروں کو باربار پکارتا رہا کہ مجھ سے بات کریں لیکن انھوں نے ایک نہ سنی اور انھوں نے رسائی کے بجائے راہ فرار اختیارکی ان کا رویہ حیران کن تھا،جب کہ دوسری جانب ایک بھارتی اخبارنے شرانگیزی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارتی قونصلر رسائی میں عالمی قوانین کو یکسرنظراندازکیا گیا، گفتگو ریکارڈ کرنے کی کوشش کی گئی اور اپیل کے جن کاغذات پرکلبھوشن کے دستخط لیے جانے تھے وہ بھی نہیں لینے دیے گئے۔

بہرحال بھارت جو بھی فلمی اسٹوری بنائے حقیقت یہ ہے کہ کلبھوشن پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث رہا ہے اور اس کے دامن پر خون کے چھینٹے موجود ہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ایک بار پھرکے الیکٹرک اور پی آئی اے جعلی ڈگریوں کے معاملے کی گونج سنائی دی۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الزامات اور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ قومی اسمبلی بحث ومباحثے کی جگہ ضرور ہے، لیکن اگر مکالمہ دلیل کی بنیاد پر ہواور پھر کوئی حل بھی نکل آئے تو اس سے بہترین فورم کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ ہمارے نمایندگان ان کا تعلق چاہے حکومت سے ہو یا اپوزیشن سے وہ تاحال مسائل کو افہام وتفہیم سے حل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں مایوسی پیدا ہوجانا فطری سی بات ہے۔

ملک کی قومی ایئر لائن جو دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت کا ایک معتبرحوالہ ہے،اس وقت انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے، پائلٹس کے جعلی لائسنس کے حوالے سے رپورٹ کے بعد جوکارروائی عجلت میں عمل میں لائی گئی، اس سے پی آئی اے کی ساکھ کوعالمی سطح پر نقصان پہنچا، جس سے ادارے کا خسارہ مزید بڑھا، جو معاملہ اصلاح احوال سے متعلق تھا،اس میں احتیاط کا دامن چھوڑ دیا گیا۔

دوسری جانب خوش کن خبر یہ ہے کہ سول ایوی ایشن نے قطر ایئرویز میں خدمات انجام دینے والے 35پاکستانی پائلٹس کے لائسنس صحیح ہونے کی تصدیق کردی ہے جب کہ 4پائلٹس کے لائسنسوں کے بارے میں رپورٹ آیندہ 7 دن میں مرتب کی جائے گی، لیکن ابھی عالمی سطح پر پی آئی اے کے بہت سے روٹس بحال کرانے کے لیے حکومت کو طویل جدوجہد کرنی پڑے گی۔

اہل کراچی کو جس انداز میں بجلی کے ادارے نے اپنے شکنجے میں جکڑا ہے، اس نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔ تمام تر حکومتی دعوؤں اور تسلیوں کے باوجود کراچی میں پندرہ سے سولہ گھنٹوں کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس مسئلے پر بات تو ہوئی لیکن صرف الزامات کی حد تک۔ مسئلہ کا کوئی حل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب یہ خبر نسبتاً امید افزاء ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں وفاقی وزراء کی مخالفت پر، وزیراعظم نے کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی 2 روپے79 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا فیصلہ ایک بار پھر مؤخرکردیا ۔

یہ فیصلہ بلاشبہ خوش آیند ہے، وفاقی حکومت نے نیشنل گرڈ سے اضافی بجلی کی پیشکش کی ہے تاہم ادارے کا سسٹم 720میگا واٹ سے زائد بجلی نہیں لے سکتا ہے، ادارے کو 4500ٹن فرنس آئل فراہم کیا گیا ہے جب کہ مزید 500 ٹن فرنس آئل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، یہ تو وہ اقدامات ہیں جو وفاقی حکومت نے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے کیے ہیں، لیکن تاحال بجلی کے ادارے نے اپنی روش کو ترک نہیں کیا ہے،کراچی میں غیر علانیہ لوڈشیڈنگ اسی طرح جاری ہے، ادارے نے اپنے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے میں بھی بخل سے کام لیا ہے، عوام کی ایک بڑی تعداد کو اووربلنگ کے حوالے سے بھی شکایات ہیں جن پر ادارہ کوئی کارروائی عمل میں نہیں لاتا،ادارے کے در پرکوئی زنجیر عدل بھی لٹکتی نظر نہیں آتی، جسے ہلا کر وہ حصول انصاف کے لیے گھنٹی کو بجا سکیں۔

صرف پتھر کے درودیوار ہیں جن سے صارفین سر ٹکرا کر واپس آجاتے ہیں۔ اس سفاکانہ عمل کے تدارک کے لیے بھی وفاقی حکومت کو سوچنا چاہیے۔ تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے جس دردناک عذاب سے شہری دوچار ہیں، اس سے حقیقی معنوں میں نجات دلوائی جائے۔

ملک میں بحران در بحران کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے، دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی ہوئی، حکومت نے بھی پٹرول کے نرخ کم کیے ، لیکن عوام اس سستے پٹرول کے حصول کے لیے دردر کی ٹھوکریں کھاتے رہے، پٹرول نہ ملا، پٹرول بحران حکومت کی نا اہلی اور غفلت سے پیدا ہوا تھا۔ پچیس روپے فی لیٹر قیمتوں میں اضافہ ہوا، تو پٹرول ملنے لگ گیا۔

گزشتہ روز چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے پٹرول بحران پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا شور مچا ہوا ہے کہ غیر منتخب افراد حکومت چلارہے ہیں جس کی وجہ سے عوام تک ثمرات نہیں پہنچ رہے ہیں۔

اب اور ایک نیا بحران پیدا ہونے جارہا ہے کیونکہ آئل ٹینکرز اونرز اورکانٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کے دوران ملک بھر کے لیے تیل کی سپلائی روک دی ہے۔ دو دن بعد عوام پٹرول کے حصول کے لیے پھر پریشان نظر آئیں گے۔ غضب کہانی جس کا انجام نہ جانے کیا ہوگا۔

ادھر لاہور میں چکی آٹے کی قیمت میں 3سے 5روپے فی کلو تک اضافہ کردیا گیا ہے ، نئی قیمت 70روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، ایک ایسا ملک جوگندم کی پیداوار میں خودکفیل ہو،اس میں ایسے بحران کاجنم لینا بیڈگورننس سے عبارت ہے۔ چکی مالکان کے مطابق غلہ منڈیوں میں گندم 2100 روپے فی من تک پہنچ گئی۔ آٹا 65روپے فی کلو میں فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔ اوپن مارکیٹ میں گندم غیر معمولی مہنگی ہو چکی۔ فلور ملز کو سرکاری گندم کا کوٹہ ملتا ہے، چکیوں پر سرکاری گندم نہیں ملتی ہے۔

کراچی کی ایک بار پھر بات کریں تو دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے لیے ڈیری فارمرزکا حربہ آخرکارکامیاب ہوتا نظرآرہا ہے، شہری انتظامیہ دودھ کی قیمتوں پر نظرثانی پرآمادہ ہوگئی ہے۔ یعنی دو دن کے چھاپے صرف دکھاوے کی کارروائی تھی۔کراچی میں دودھ اس وقت 120 روپے فی لیٹر اور دہی 180روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔ ڈیری فارمرز،ریٹیلرزاورہول سیلرز توچاہ رہے ہیں کہ ایک سو پینتیس روپے فی لیٹر دودھ فروخت کیا جائے، دکھ تواس بات کا ہے، صارفین کے حقوق کا تحفظ حکومتی ادارے نہیں کر رہے ہیں۔

کورونا وائرس اورلاک ڈاؤن کی وجہ سے جو طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہے وہ چورنگیوں کا دیہاڑی دار طبقہ ہے جو ضعیف العمر اور پریشان حال مزدور بیلچے اور رنگ وروغن کا سامان لیے دیہاڑی کے لیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ان کا سروے کسی ادارے نے کیا ہے؟ جواب نفی میں ہے، یہاں تو غربت کا عذاب اور دکھ خود ہی سہنے پڑتے ہیں۔ عید قرباں کی آمد آمد ہے، تو اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں کہاں غائب ہیں کسی کوکچھ پتہ نہیں ہے۔ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے چلے جارہے ہیں۔ جمہوریت کا فائدہ عوام کو نہیں مل رہا ہے، البتہ مافیاز طاقتورہوکرہرروز ایک نیا بحران پیدا کررہے ہیں۔

مہنگائی کے سونامی سے عوام پریشان حال ہیں۔ درحقیقت تعلیم ،صحت اور روزگار ،اس ملک کے عوام کا بنیادی حق ہے،مگر یہاں سب سے پہلے عوام کو اسی بنیادی حق ہی سے محروم کردیا جاتا ہے۔ ہمیں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ حکومت نے مہنگائی کوکنٹرول کرنے کے لیے کوئی جامع پالیسی نہیں بنائی ہے اور نا ہی کوئی حکمت عملی اختیار کی ہے۔آج ہمارا ملک تباہی کے جس دہانے پرکھڑا ہے اس کو بچانے کا واحد حل معیشت کی بحالی ہے۔ کسی بھی ملک میں معاشی بحران اچانک زلزلے کی صورت میں نہیں آتا ،معیشت کی تباہی کے اعشاریے پہلے سے مل رہے ہوتے ہیں۔ غیر ذمے دارانہ طریقے سے حاصل کیے گئے قرضہ جات ،معاشی اصلاحات کا فقدان اس تباہی کی بنیادی وجوہات ہیں۔

ملک میں پٹرول،بجلی،گیس اور دیگر ضرورت کی اشیا کی قیمتوں میں سو فیصد اضافے کے باوجودحالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اشیائے خور ونوش بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہوچکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ادویات جو کہ عوام کا بنیادی حق ہیں ان میں بھی تین سو فیصد تک اضافہ عوام کو سولی پر لٹکانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہا ،اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو کو ئی ایسا دن نہیں جب ہمیں اخبارات میں مہنگا ئی سے خود کشی کرنے کی خبر یں نہیں ملتیں۔

نوجوان بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آ کر جرائم میں ملوث ہو رہے ہیں یا پھر نشہ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔غریب عوام کے حالات تو اپنی جگہ کاروباری طبقہ بھی پریشانی سے دو چا رہے۔موجودہ حکومت سے عوام کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔کیونکہ وہ بہت سی حکومتوں کو آ زما چکے ہیں اور اب حقیقی تبدیلی اپنی زندگیوں میں چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں