منڈیلا کیلیے دعائیہ تقریب صدر ممنون سمیت عالمی رہنماؤں کی شرکت

دنیا عظیم لیڈر سے محروم ہو گئی،نسلی تعصب کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی، اوباما و دیگر


News Agencies/Monitoring Desk December 11, 2013
جوہانسبرگ: جنوبی افریقا کے عظیم لیڈر نیلسن منڈیلا کی یاد میں منعقدہ دعائیہ تقریب کے شرکا سے امریکی صدر باراک اوباما اظہار خیال کررہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

نسل پرستی کیخلاف جدوجہد کی علامت اور جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی یاد میں جوہانسبرگ میں دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

تقریب میں پاکستان کی نمائندگی صدر ممنون حسین نے کی۔ دعائیہ اجتماع میں امریکی صدر براک اوباما سمیت متعدد عالمی رہنمائوں اور ہزاروں افراد شریک ہیں۔ تقریب کا انعقاد ایف این بی سٹیڈیم میں کیا گیا جہاں 95ہزار افراد کی گنجائش تھی۔ ہزاروں افراد ایک روز قبل ہی اسٹیڈیم کے باہر جمع ہو گئے، بیشترنے رات وہیں گزاری۔ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں افراد نے شدید بارش کے باوجود گانے گا کر اور رقص کر کے منڈیلا سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہارکیا۔منڈیٰلا کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما ، امریکی صدر اوباما، تین سابق امریکی صدور جارج بش، جمی کارٹر اور بل کلنٹن، برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون، نائب وزیرِاعظم نِک کلیگ، سابق وزرائے اعظم گورڈن برائون، ٹونی بلیئر ، جان میجر، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون، بھارتی صدر پرناب مکھرجی، سری لنکا کے صدر راجا پکھسے، برازیلی صدر دیلما رئوسف، کیوبا کے صدر رائول کاسترو، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس، زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے سمیت90 عالمی رہنما شامل ہیں۔

امریکی صدر اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیلسن منڈیلا کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ ایک عظیم انسان تھے۔ انھوں نے نسلی تعصب کے خاتمے اور جنوبی افریقہ کے عوام کیلیے جدوجہد کی۔ نیلسن منڈیلا کا جسدِ خاکی دعائیہ تقریب کے بعد3 دن تک دارالحکومت پریٹوریا میں رکھا جائے گا، ان کی تدفین15 دسمبر کو ہو گی۔ جنوبی افریقہ میں لاکھوں افراد نیلسن منڈیلا کیلیے مختلف دعائیہ تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں، مختلف مذاہب کے افراد کی جانب سے خصوصی عبادات کی جا رہی ہیں اور یہ سلسلہ اتوار کو ان کی تدفین تک جاری رہے گا۔ ایسٹرن کیپ کے علاقے میں منڈیلا کے آبائی گائوں کینو میں ان کی تدفین کے موقع پر بھی کچھ عالمی شخصیات موجود ہوں گی جن میں برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں