ارسا میں وفاق کا نمائندہ مقرر کرنے کیخلاف حکم امتناع

تاحکم ثانی کسی کونمائندہ مقررنہ کیاجائے،سندھ ہائیکورٹ کا حکام کونوٹس


Staff Reporter December 11, 2013
تاحکم ثانی کسی کونمائندہ مقررنہ کیاجائے،سندھ ہائیکورٹ کا حکام کونوٹس۔ فوٹو ایکسپریس/فائل

KABUL: سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کوانڈس ریورسسٹم اتھارٹی(ارسا)میں کسی بھی صوبے سے وفاق کا نمائندہ مقرر کرنے سے روک دیا ہے۔

عدالت نے 17دسمبرکے لیے وزارت پانی و بجلی اور سیکریٹری ارسا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ تاحکم ثانی کسی کو بھی ارسامیں وفاق کا نمائندہ مقرر نہ کیا جائے۔چیف انجینئرمحکمہ آب پاشی سندھ غلام عباس لغاری نے بیرسٹرضمیرگھمرو کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے ملک کے چیف ایگزیکٹیوکی حیثیت سے 10جولائی2000کو سندھ میں پانی کی کمی کے پیش نظر ''ارسا''میں سندھ کے نمائندے کو وفاق کا مستقل نمائندہ مقرر کردیا تھا اور گزشتہ13برسوں سے مختلف حکومتیں اسی فیصلے پرعمل درآمد کررہی ہیں،اس طرح سندھ کی جانب سے ہی ''ارسا''میں وفاق کا نمائندہ نامزدکیا جاتارہا ہے۔

حال ہی میں نمائندگی کی مدت ختم ہونے پرچیف انجینئر محکمہ آب پاشی غلام عباس لغاری کوسندھ نے نمائندہ مقررکیا ہے مگروفاق نے ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بجائے وفاق کا نمائندہ مقررکرنے کے لیے تمام صوبوں اور واپڈا سے ممبر کے تقرر کے لیے نام طلب کیے ہیں جوکہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ملک کے چیف ایگزیکٹیو کے حکم کودیگرفیصلوں کے ساتھ ایل ایف اوکی منظوری کے بعدآئینی تحفظ حاصل ہوگیا ہے جس کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی ۔ درخواست میں استدعاکی گئی ہے کہ وفاق کوسندھ سے ''ارسا''کے لیے وفاق کی نامزدگی قبول کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کردیا ہے۔

مقبول خبریں