ہزاروں ہیں شکوے کیا کیا بتائیں

کیا ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے لیے اس میں گنجینہ معانی کا کوئی طلسم نہیں چھپا، فرصت ہو تو ذرا دیکھ تو لیں۔


Editorial July 22, 2020
کیا ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے لیے اس میں گنجینہ معانی کا کوئی طلسم نہیں چھپا، فرصت ہو تو ذرا دیکھ تو لیں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: فیض صاحب کا شعر ہے کہ

اگر شر رہے تو بھڑکے جو پھول ہے توکھلے

طرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے

ادب شناس اور سخن فہم خوب سمجھتے ہیں کہ اس احساس جمال کی شعریت کا ہماری خود پسند سیاست سے کتنا نازک سا رشتہ ہے۔ لیکن جو چوائس اس شعر میں پیش کی گئی ہے وہی عالمگیر سیاسی بصیرت سے عبارت ہے، فیصلہ تو اس ملک کے سیاست دانوں نے کرنا ہے کہ وہ ملک کو کیسی جمہوریت کیسی معیشت اور کیسی معاشرت دینا چاہتے ہیں، ان کی نیت، اخلاص اور فکر و وجدان پر کسی کو شک نہیں، قوم ان سے توقع رکھتی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کا کوئی صائب حل نکالیں گے۔

عوام کو ریلیف اور سہولتیں دیں گے، مہنگائی اور بے یقینی ختم ہوگی، ملک ترقی کریگا، افتادگان خاک کو بھی سانس لینے کے لیے تھوڑی سی کشادہ جگہ مل جائے گی، سیاسی حبس اور دم گھٹا دینے والی وحشت دم توڑ دے گی، قوم تو امید و بیم کے درمیان کھڑی ہے۔ سیٹی تو سیاست دانوں نے بجانی ہے، کھیل تو انھوں نے شروع کرنا ہے، ایسا کھیل جو ہر قسم کے ناجائز ذرایع سے پاک ہو، شفاف اور اصولوں کے مطابق۔

یہ حقیقت ہے کہ ملکی سیاست کے نشیب و فراز، تہذیبی رویوں، سیاسی بصیرت اور پارلیمانی روایات کا کوئی شخص تقابل کرنا چاہے جب کہ سیاست کے طالب علم کی خواہش ہی یہی ہو کہ اسے سیاستدان ایسا کوئی زمانہ بتائیں جب ملکی ریاست، حکومت، عوام اور سماجی مملکت خداداد کی ترقی و خوشحالی سے آگے کسی موضوع پر بات کرنا کسر شان سمجھتے تھے اور ان کی گفتگو، ایوان میں تقاریر اور غیر رسمی ملاقات بھی کبھی پارلیمانی آداب سے گری ہوئی نظر نہیں آتی تھی، ایسا منظر نامہ آج کے لمحہ موجود میں اس لیے چشم تصور میں لانے کی اشد ضرورت ہے کہ ملک سیاسی قحط الرجال کا شکار ہے، جمہوری عمل کو رواں دواں رکھنے کے لیے جہاں اشتراک عمل، تعلقات کار، افہام و تفہیم، تدبر و تحمل اور رواداری کا فقدان ہے وہاں حکومت اور اپوزیشن میں ''کچھ لو کچھ دو'' کا سیاسی کلچر بھی دم توڑ رہا ہے، کوئی کسی کے ساتھ چلنے پر راضی نہیں، سب ایک ہولناک اجتماعی برہمی میں مبتلا ہیں۔

ذرایع ابلاغ سیاسی رہنماؤں کو raging bullکی طرح پیش کرنے پر مجبور ہیں،، قومی اتفاق رائے کی زندہ روایت کہاں ہے؟ محسوس ہوتا ہے کہ سیاستدانوں نے تمام تر سیاسی فہم و فراست، معاملہ سازی، پارٹی منشور اور انتخابی آدرش کے ادراک کے باوجود سیاسی حالات و واقعات اور حوادث سے کوئی سبق نہیں سیکھا، ذہنی ہم آہنگی، سیاسی افراط و تفریط یعنی پولرائزیشن نے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو مکالمہ کے فکری مقام و مرتبہ سے لا تعلق کردیا ہے۔

سیاسی رقابتیں اس منظر نامہ کو دردناک بنارہی ہیں۔میڈیا کے مطابق اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے حکومت ہٹانے کے لیے تحریک چلانے اور اس کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کے لیے عید کے بعد اے پی سی بلانے پر اتفاق کیا ہے، اس بات کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے ایک اعلیٰ سطح وفد کی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے وفد نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بلاول ہاؤس لاہور میں ملاقات کی۔ وفد میں احسن اقبال، ایاز صادق اور سعد رفیق شامل تھے۔

پی پی رہنما راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور اور حسن مرتضیٰ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی، ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان سابقہ رہبر کمیٹی میں توسیع، آل پارٹیز کانفرنس کے لیے حکمت عملی تیار کرنے اور عیدالاضحی کے بعد اے پی سی کے انعقاد اور حکومت کے خلاف مہم چلانے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

وفود نے اتفاق کیا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں سے ملک داخلی اور خارجی محاذ پر شدید دباؤ کا شکار ہے اور معاشی طور پر عدم استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مہنگائی بھی تیزی سے بڑھ رہی، اس لیے حکومت کے خاتمے کے لیے مضبوط لائحہ عمل بنانا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کی پریس کانفرنس میں تفصیلی طور پر بتایا گیا کہ خارجہ محاذ پر ملک کو تنہا کر دیا گیا، اندرونی سیاست میں نفرت کا زہر گھولا گیا ہے، میڈیا کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی، آئینی حکمرانی کے تصور کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے، ان حالات میں پاکستان کسی نئے تجربے اور راستے کا متحمل نہیں ہو سکتا، معیشت تباہ ہو گئی ہے، لوگوں کے لیے روٹی، تعلیم و صحت کے اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں رہا، حکومت کا ایجنڈا صرف اور صرف انتقام ہے۔ تاہم یہ سکہ کا ایک رخ ہے، دوسرا انداز نظر حکومت کا ہے اسے بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ عوام کے سامنے لانا چاہیے، حکومت بتائے کہ ان دو سالوں میں اس کے اہداف کیا رہے اور ان کی تکمیل ہوئی یا نہیں، ارباب اختیار کو سوچنا چاہیے کہ عوام ہی حتمی فیصلہ کریں گے۔

اپوزیشن کا تو کام ہی ہے کہ وہ حکومت کی غلطیوں کو طشت از بام کر دے، لیکن جمہوریت کے دونوں پہیے سسٹم کو چلانے کے لیے ناگزیر اور لازم و ملزوم ہیں، مگر اصول یہ ہے کہ ملکی مفاد ہر چیز پر مقدم ہو، دنیا کو پیغام جائے کہ اہل پاکستان کورونا کی وجہ سے ذہنی طور پر ہرگز گھائل نہیں ہوئے، پاکستانی عوام نے تو کورونا کو شکست دینے کا تہیہ کرلیا ہے، وبائی کیسز میں کمی آرہی ہے، صحت یابی کی اطلاعات اطمینان بخش ہیں، ان رپورٹوں کی حقیقت غلط ثابت ہوئی ہے کہ جولائی اور اگست میں اسپتال بھر جائیں گے۔

کورونا کے مریضوں کا علاج سڑک یا فٹ پاتھوں پر ہوگا، خدانخواستہ میتیں اٹھاتے ہوئے بازو شل ہوجائیں گے، اللہ کا کرم ہے کہ عوام کو توفیق ہوئی، اس نے اپنی استقامت دکھائی ہے، خود کو وائرس سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی، غربت اور بیروزگاری کا زہر بھی پی لیا، مصائب برداشت کیے، اب حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ عوام کے دکھوں کا بر وقت مداوا کرے، اپنے طرز عمل میں عوامیت کی روح پھونک دے، کشیدگی اور تناؤ کو ترک کردے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نیب کا رویہ ملکی مفاد کے بجائے ملک کو نقصان پہنچائے گا، نیب سیاسی لائن کے ایک طرف کھڑے افراد کے خلاف مالی الزامات ہونے کے باوجود کارروائی میں ہچکچا رہا ہے جب کہ دوسری طرف کے افراد کو مہینوں برسوں کے لیے گرفتار کیا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی ضمانتوں سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

87 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس مقبول باقر نے تحریر کیا جس میں قرار دیا گیا ہے کہ پاکستان طویل جد و جہد کے بعد آزاد جمہوری ریاست کے لیے حاصل کیا گیا، آئین ہر شخص کی عزت و وقار کو تحفظ فراہم کرتا ہے، لوگوں کو ان کے حقوق سے تسلسل کے ساتھ محروم رکھا جاتا ہے، ملک میں احتساب کے لیے بننے والے مختلف قوانین کا استعمال سیاسی مخالفین کو دبانے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے ہوتا رہا ہے، اصول، رواداری اور جمہوری اصولوں کے احترام کو نظر انداز کیا گیا، کرپشن، اقربا پروری، نااہلی، عدم برداشت ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکا ہے۔

ہمارا معاشرہ کرپشن، اقربا پروری، نااہلی، عدم برداشت اور دیگر مسائل میں ڈوب گیا ہے، عدلیہ اور انتظامیہ کی جانب سے قوانین پر عمل کرکے ہی ملک کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے بین السطور میں معاشرے کے اندوہ ناک حقائق پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ارباب بست و کشاد روزمرہ مسائل کے حل پر توجہ دیں، میڈیا میں آنے والی اطلاعات اور خبروں کے اندر چھپے ہوئے حقائق کو تلاش کریں، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ابھی قومی سیاست مثالی معیار و مقام سے دور ہے۔

عوام کو جیسی شفاف جمہوریت چاہیے وہ ابھی تک اس کی تمنا میں دشت نوردی کر رہے ہیں، صحرا میں اذان دے رہے ہیں، ملک کے عوام کو درپیش صدہا مشکلات ہیں جن کا تذکرہ ملکی اخبارات میں ہوتا ہے صرف ان پر ایک نظر ڈالیں تو درد سے دل بھر آتا ہے، کیا یہ اطلاع کم افسوسناک ہے کہ سندھ کے 12ہزار اسکول اساتذہ سے محروم ہیں، ایک وفاقی وزیر کا ادراک حقیقت ہے کہ مسائل خود موجودہ حکمرانوں کے پیدا کردہ ہیں، پارلیمنٹیرینز کا کہنا ہے کہ دہری شہریت کے حامل لوگ کابینہ اور پارلیمنٹ میں نہیں بیٹھ سکتے، قومی اداروں کا حال برا ہے، قومی ایئرلائنز پر آسیب کا سایہ ہے، وہ فضائی قومی شناخت جس کا نام پی آئی اے ہے اس پر افریقہ کا قحط زدہ ملک ایتھوپیا قدغن لگا رہا ہے۔

وزیر اعظم غریبوں کو فائدہ پہنچانے کی بات کرتے ہیں، سبسڈی کے پورے نظام پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دے رہے ہیں، تاہم ملک کو گندم، آٹا، چینی، دودھ سمیت بدترین مہنگائی کے معاشی پتھراؤ کا سامنا ہے، سندھ کے وزیر توانائی کا دعویٰ ہے کہ بجلی چور سندھ میں نہیں مرکز میں بیٹھے ہیں، انھوں نے کہا کہ کراچی کا سب سے بنیادی مسئلہ بجلی کی پیداوار ہے۔ مزید ہزاروں ہیں شکوے کیا کیا بتائیں۔

بہرحال، کس قدر دلگداز داستان ہے کہ یورپ میں فرانسیسی فلسفی برنارڈ ہنری لیوی کورونا پر اظہار خیال کرتے ہیں، امریکی استثنائیت پر بولتے ہیں، کہتے ہیں کہ امریکا زوال پذیر ہے، صدر ٹرمپ کوتاہ نظر ہیں،ا سٹرٹیجسٹ نہیں، عمل کرتے تو ہیں مگر مہینوں، سہ ماہی اور سال کی بنیاد پر منصوبے بناتے ہیں۔ برنارڈ نے کیا خوبصورت بات کہی کہ روس کے رہنما پوتن کے پاس اسٹرٹیجی ہے مگر ٹرمپ کے ترکش میں صرف بازیگریtrick ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یورپ سست روی کا شکار ہے کیونکہ اس نے امریکی سیکیورٹی چھتری کی عادت سی بنا لی ہے۔ یہ عہد حاضر کے ایک مرد خرد مند کے افکار ہیں۔

کیا ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے لیے اس میں گنجینہ معانی کا کوئی طلسم نہیں چھپا، فرصت ہو تو ذرا دیکھ تو لیں۔

مقبول خبریں