پاکستانی تاجروں کو میانمار میں سرمایہ کاری کی دعوت

میانمارکے سفیرکی کراچی چیمبرآمد، تاجربرادری پرمشترکہ منصوبہ سازی پر زور


Business Reporter December 12, 2013
تجارت بڑھانے کیلیے دونوںممالک دوطرفہ اقتصادی روابط مضبوط کریں، عبداللہ ذکی

پاکستان میں تعینات میانمار کے سفیرسین منٹ او نے دوطرفہ تجارت کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی تاجربرادری ہی مختلف شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے ترتیب دے کر اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

جس سے بعدازاں باہمی تجارت کے حجم میں اضافہ ممکن ہوسکے گا۔ یہ بات انہوں نے کراچی چیمبرآ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پراجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر کے سی سی آئی کے صدر عبداللہ ذکی، وائس چیئرمین بزنس مین گروپ انجم نثار،کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر مفسر عطا ملک،نائب صدر محمد ادریس اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔ میانمار کے سفیر سان منٹ او نے برآمدات و درآمدات کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے بتایاکہ میانمارسب سے زیادہ چاول، مکئی، سبزیاں اورکھانے پینے کی اشیا برآمد کرتا ہے، پاکستان کوبھی یہ اشیا برآمد کی جاسکتی ہیں۔



انہوں نے پاکستانی تاجروں کو میانمار میںمختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ میانمار کی 30فیصد آبادی موبائل فونز کااستعمال کررہی ہے جبکہ 70فیصد آبادی نے اب تک اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا لہٰذا ٹیلی کام سیکٹر پاکستانی تاجروں کے لیے سرمایہ کاری کے لحاظ سے پرکشش اور انتہائی سود مند ہے۔ کے سی سی آئی کے صدر عبداللہ ذکی نے پاکستان اورمیانمار کے خوشگوار باہمی تعلقات کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ تجارتی حجم میں اضافے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی،دونوں ممالک کے لیے کموڈٹیز میں تجارت کوبڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے مگر اس کو یقینی بنانے کے لیے تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانا انتہائی اہم ہے۔انہوں نے دوطرفہ تجارتی وفود کے تبادلے پر زور دیا اور کہاکہ سنگل کنٹری نمائش کا انعقاد، جوائنٹ وینچرز اور سفری سہولتوں کو بہتر بنا کرمعاشی سرگرمیوں کوفروغ دیا جاسکتا ہے۔