پاور سیکٹر کے گردشی قرضے پھر216ارب روپے تک پہنچ گئے

ادائیگی میں تاخیر، بجلی کی پیداواری لاگت وقیمت میں فرق، ڈسکوز سے وصولی میں ناکامی اور بجلی چوری وجوہ ہیں،ذرائع


Business Reporter December 12, 2013
آئی پی پیز (1994 پالیسی) کے حکومت کے ذمے قرضے کی تفصیل ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت نے کیپکو کو 36,237 ملین روپے ادا کرنے ہیں۔ فوٹو:رائٹرز/ فائل

ISLAMABAD: پاور سیکٹر کو ادائیگی میں تاخیر ، بجلی کی پیداواری لاگت اور قیمت میں فرق، ڈسکوز سے وصولی میں ناکامی اور بجلی چوری کے سبب پاور سیکٹر کے گردشی واجب الادا قرضے ایک بار پھر 216 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 6ماہ سے زائد ادائیگی کی تاخیر حکومت کے لیے پریشانی کا باعث ہوگی، اگر ادائیگی کا مسئلہ آئندہ چند ہفتوں میں حل نہ ہوا تو آئی پی پیز کو استحقاق حاصل ہے کہ وہ حکومت سے حکومتی ضمانت طلب کرسکتی ہیں۔ بظاہر نظر آتا ہے کہ گزشتہ حکومت کے گردشی قرضے چکانے کے بعد موجودہ حکومت نے قرضوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔تفصیلات کے مطابق حکومت کو 56 ارب 72 کروڑ60لاکھ روپے حکومتی پاور پلانٹس کو ادا کرنے ہیں، 3 ارب 77کروڑ50 لاکھ روپے چشمہ پاور پلانٹ،3 ارب 47 کروڑ 70لاکھ روپے ہائیڈل پاور پلانٹ، 44ارب 44 کروڑ 60 لاکھ روپے (2002 کی پالیسی والے) انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کو اور 1994 کی پالیسی کے تحت قائم آئی پی پیز کو 108.075 ارب روپے ادا کرنے ہیں، یہ مجموعی رقم 216.499 ارب روپے بنتی ہے۔ حکومت نے آئی پی پیز کو 300 ارب رواں سال میں دیے تاہم ایک بار پھر واجب الاد ادائیگی کی مد میں بھاری رقم جمع ہوگئی ہے۔

جس سے ظاہرہے کہ حکومت نے گردشی قرضوں سے نمٹنے کیلیے جامع پالیسی تشکیل نہیں دی۔ آئی پی پیز (1994 پالیسی) کے حکومت کے ذمے قرضے کی تفصیل ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت نے کیپکو کو 36,237 ملین روپے ادا کرنے ہیں۔



حبکو کو 36,698 ملین روپے، روش پاور کو 4192، حبیب اللہ کوسٹل پاور کو 1752 ملین روپے، اچھ پاور کو 5140 ملین روپے ، اے ای ایس پاک جین پاور کو 6350 ملین روپے، لبرٹی ٹی این بی گیس کو 8901 ملین روپے، کے ای ایل پاور کو 405 ملین روپے، اے ای ایس لال پیر پاور کو 5726 ملین روپے، فوجی پاور کو 1042 ملین روپے، صبا پاور کو 1383 ملین روپے، آلٹرن پاور کو 170ملین روپے اور لاریب پاور کو 79 ملین روپے ادا کرنے ہیں، اسی طرح آئی پی پیز (2002 پالیسی والے) کے حکومت کے ذمے قرضے 44,446 ملین روپے کی تفصیل اس طرح ہے۔

لبرٹی پاور کو 6029 ملین روپے، نشاط پاور کو 6001 ملین روپے، فاؤنڈیشن پاور کو 758 ملین روپے، نشاط چونیاں پاور کو 5858 ملین روپے، اٹک جین کو 6191 ملین روپے، اٹلس پاور کو 5145 ملین روپے، اینگرو پاور کو 1831 ملین روپے، اورینٹ پاور کو 824 ملین روپے، شائڈو پاور کو 234 ملین روپے، حبکو نارووال کو 4958 ملین روپے ، ہالمور پاور کو 646 ملین روپے، سیف پاور کو 2775 ملین روپے اور سیفائر پاور کو 3196 ملین روپے ادا کرنے ہیں۔ آئی پی پی کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ متواتر اور مسلسل واجبات کی ادائیگی مستقبل میں پاور کی پیداوار کیلیے انتہائی ضروری ہے۔