روسی حکام کا سوچی میں مظاہرین کے حوالے سے یوٹرن

آئی او سی سے بات چیت کے بعد آرگنائزرز احتجاج کیلیے مخصوص علاقہ دینے پر تیار


Sports Desk/AFP December 12, 2013
جرمن صدر اور یورپیئن کمیشن کے نائب صدرکی گیمز میں عدم شرکت کے فیصلے پر آئی او سی چیف نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا .

روسی حکام نے سوچی میں مظاہرین کے حوالے سے یو ٹرن لے لیا، آئی او سی سے بات چیت کے بعد آرگنائزرز ان افراد کو احتجاج کیلیے ایک مخصوص علاقہ دینے پر تیار ہوگئے۔

دوسری جانب جرمن صدر اور یورپیئن کمیشن کے نائب صدرکی گیمز میں عدم شرکت کے فیصلے پر آئی او سی چیف نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق صدر آئی او سی تھامس باخ نے اعلان کیاکہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی سے بات چیت کے بعد گیمز آرگنائزرز کا موقف نرم ہو گیا ہے، اب سوچی ونٹر اولمپکس کے موقع پر مظاہرین کو جذبات کا اظہار کرنے کیلیے ایک مخصوص علاقہ دیا جائے گا۔ اگست میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک صدارتی حکمنامہ جاری کیا تھا جس کے تحت گیمز سے تعلق نہ رکھنے والے مظاہروں پر پابندی لگائی گئی تھی، اب ایسے لوگوں کیلیے ایک علاقہ مختص کیا گیا جہاں وہ مظاہروں میں اپنی آواز بلند کرسکیں گے، سوچی گیمز 7 سے 23 فروری تک منعقد ہورہے ہیں، پیوٹن کے حکمنامے کو ایک متنازع قانون کے ساتھ زبردست تنقید کا سامنا رہا، ہم جنس پرستی کیخلاف قانون پر کئی حلقوں کی جانب سے گیمز کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا جارہا تھا لیکن باخ نے اسے مسترد کردیا۔



ستمبر میں جیکس روگ کی جگہ سنبھالنے والے باخ نے بات چیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سوچی گیمز آرگنائزرز کے ساتھ مذاکرات مفید رہے، آرگنائزنگ کمیٹی نے مظاہرین کو ایک مخصوص جگہ دینے کا اعلان کردیا ہے، ان پر کسی قسم کا تشدد بھی نہیں کیا جاسکے گا۔ پیشے کے لحاظ سے وکیل باخ نے کہا کہ میں جرمن صدر جوچم گوک یا یورپیئن کمیشن کے نائب صدر ویویانے ریڈنگ کے گیمز میں حصہ نہ لینے کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا،اس قسم کے فیصلوں سے آئی او سی کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہم سیاسی رہنمائوں کو دعوت نامے جاری نہیں کرتے ہیں۔ تھامس باخ نے کہاکہ تعمیری کاموں میں تاخیر کے باوجود ہمیں یقین ہے کہ سوچی ونٹر گیمز کیلیے تیار ہوگا، رہائش، انفرااسٹرکچر، اسٹیڈیمز اور دیگر کام باقی ہے لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ ہر شے اپنی جگہ موجود ہوگی۔