مہنگائی کورونا اور سرینگر

پانچ اگست کو پوری قوم یک آواز ہوکر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے گی۔


Editorial August 04, 2020
کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں حکومتی اقدامات لائق ستائش ہیں۔ فوٹو: فائل

وزیر خارجہ نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے 5 اگست کو یوم استحصال منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نظر سری نگر پر ہے، کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد جاری رہے گی اور پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ درحقیقت وزیر خارجہ نے پاکستانی قوم کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کی ہے، کیونکہ قائد اعظم کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے چکے ہیں۔

بھارت کی مودی سرکار نے عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے گزشتہ برس بھارتی آئین میں خصوصی اہمیت کے حامل کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرکے اور لاک ڈاؤن کا نفاذ کرکے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اس طرح کشمیریوں کی آواز کو دبا لے گا، تو یہ اس کی بھول ہے۔ کشمیر ی ستر برس سے آزادی کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں۔ اہل پاکستان ان کے ساتھ ہیں کیونکہ لفظ پاکستان میں جب تک لفظ 'ک' جوکہ کشمیر کے لیے مخصوص ہے شامل نہیں ہوگا۔

پاکستان کے وجود کو نامکمل سمجھا جائے گا۔ پاکستان دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا، پانچ اگست کو پوری قوم یک آواز ہوکر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرے گی اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا باقاعدہ حصے بنے گا۔

دوسری جانب اہل وطن کی عید قرباں بخیر و عافیت گزری، کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے جو خدشات تھے، وہ حکومتی اقدامات کے باعث کنٹرول میں رہے۔ خوش آیند بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں 15 اگست تک کے لیے نافذ کیا گیا لاک ڈاؤن دو روز قبل ہی ختم کردیا ہے۔

امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے پاکستان کے کورونا پر قابو پانے کے حوالے سے اقدامات پر خصوصی رپورٹ شایع کی جس میں کورونا وبا پر قابو پانے سے متعلق پاکستان کی کوششوں کی عالمی سطح پر تعریف کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دو ماہ قبل تیزی سے پھیلتے کووڈ 19 پر 100 فیصد تک قابو پایا تھا اور گزشتہ دو ماہ میں ملک کے اسپتالوں میں زیرِعلاج مریضوں کی تعداد خاطر خواہ کم ہوئی، کراچی میں وینٹی لیٹرز پر موجود مریض ایک ماہ میں نصف سے بھی کم ہوگئے ہیں۔

بلاشبہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں حکومتی اقدامات لائق ستائش ہیں۔ عید پر مارکیٹوں کی بندش سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات کم ہونے اور مویشی منڈیوں سے لیے گئے اسمارٹ سیمپلز کے نتائج حوصلہ افزاء رہے ہیں، یہ بات انتہائی مثبت ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق تجزیہ کریں تو پاکستان کے برعکس بھارت اور ایران بدستور کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہیں، امریکا میں کورونا وائرس کے 47 لاکھ مریض موجود ہیں جب کہ اموات ایک لاکھ 57 ہزار تک پہنچ گئی ہیں۔ ملک میں دو لاکھ 78 ہزار کل کیسز کے ساتھ اب تک اموات 6 ہزار رہیں، جون میں روزانہ 7 ہزار کیسز سے اب تعداد 903 تک پہنچ چکی ہے۔

ہم ان سطور کے ذریعے قوم سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ کسی بھی طور احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے۔ ہم دعا گو ہیں کہ جلد ہی ہمیں کورونا پر فتح نصیب ہو اور معمولات زندگی بحال ہوں اور ملکی معیشت کا پہیہ پھر سے رواں ہوجائے۔مہنگائی کا سونامی ملک میں آیا ہوا ہے، عید قرباں کے موقعے پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ انتہائی نامناسب عمل ہے جس سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ آج جب ملک میں گیس مہنگی ہے، ایل پی جی مہنگی، بجلی مہنگی، ٹرانسپورٹ کے کرائے عوام کی دسترس سے باہر ہوگئے ہیں۔

یوٹیلیٹی اسٹورز میں گھی، کوکنگ آئل، دال چنا، دال مسور، چاول مہنگے کردیے گئے ہیں۔ ادارہ شماریات کے مطابق مجموعی طور پر مہنگائی کی شرح میں 15.6 فیصد جب کہ 35 ہزار سے زائد آمدنی والے افراد کے لیے مہنگائی کی شرح میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ عام آدمی کا جینا مشکل ہوگیا ہے وہ مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہا ہے، اس کی چیخیں بلند ہو رہی ہیں۔ ملک میں خودکشی کے رحجان میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ عید الاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی اشیاء پھلوں، سبزیوں، خوردونوش اور بالخصوص مصالحہ جات کے نرخوں میں ہوش ربا اضافہ کردیا گیا تھا۔

حکومتی نرخ نامے نظر انداز کرکے گراں فروش من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ کھلی منڈی میں گندم کی قیمت 2300 روپے فی من، جب کہ چینی کی فی کلو قیمت 90 روپے سے تجاوز کرکے فی کلو 100روپے تک جا پہنچی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 28 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس میں گیس 91 فیصد، پیٹرول 18 فیصد ڈیزل 12 فیصد، مٹی کا تیل 8، بیف اور مٹن 12، کھانے کا تیل 12، آٹا 10 اور چینی 32 فیصد مہنگی ہوئی ہیں۔

مہنگائی پر قابو پانا حکومت وقت کی ذمے داری ہے، اس عمل میں غفلت عام آدمی کا جینا دوبھر کرچکی ہے۔ لہٰذا حکومت کو سنجیدگی سے مہنگائی کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

مقبول خبریں