کشمیر پر او آئی سی فوری اجلاس بلائے

بھارت مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون فوراً ختم کرے اور مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔


Editorial August 08, 2020
بھارت مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون فوراً ختم کرے اور مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ فوٹو: فائل

کشمیرکا مسئلہ دنیا کے ہر فورم پراٹھائیں گے، مودی کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا متکبرانہ فیصلہ کرکے بری طرح پھنس چکا ہے، اس کا یہ اقدام کشمیرکی آزادی پر اختتام پذیر ہوگا۔ ان خیالات کا اظہاروزیراعظم عمران خان نے آزادکشمیر قانون سازاسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔

عمران خان نے قومی امنگوں کی ترجمانی کی ہے، وہ اقوام متحدہ میں کشمیرکا مقدمہ پہلے بھی بھرپور انداز میں پیش کرچکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرکو پاکستان کے نقشہ میں شامل کرنا کشمیری عوام کی خواہش کے عین مطابق ہے، بلاشبہ تحریک انصاف کی حکومت کی کوششوں سے عالمی سطح پرکشمیریوں کی آواز سنی جا رہی ہے۔

یوم استحصال کشمیرکے موقع پر پوری پاکستانی قوم نے ہم آواز ہوکر صدائے احتجاج بلند کی ہے، ہرجگہ احتجاج نے ثابت کیا کہ پاکستانیوں کے دل مظلوم کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ صدر پاکستان عارف علوی نے کہا ہے کہ ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں، انھیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ سینیٹ اورچاروں صوبائی اسمبلیوں میں بھارتی مظالم کے خلاف متفقہ قراردادیں منظورکی گئیں،جن میں اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت تمام عالمی اداروں سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ جموں وکشمیرکی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہارکیا ہے۔ 15 رکنی ہنگامی اجلاس میں بھارتی یک طرفہ اقدامات کی مخالفت کی گئی ہے، یہ اجلاس پاکستان کی درخواست پرمنعقد ہوا تھا،جس کی حمایت چین نے کی۔ ارکان نے توقع ظاہرکی کہ فریقین بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں گے، تاکہ علاقائی امن واستحکام برقرار رکھا جاسکے۔

عالمی منظر نامہ بدل رہا ہے، اقوام عالم تنازعات کو حل کرکے امن کی طرف بڑھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ نئے اتحاد بن رہے ہیں لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایودھیا میں بابری مسجدکی جگہ رام مندرکا سنگ بنیاد رکھ کر نا جانے کس دنیا میں رہ رہے ہیں، وہ بھارت کو ایک بندگلی میں لے کر جا رہے ہیں۔ مسلمانوں سمیت دیگر اقوام کے خلاف تعصب ونفرت پھیلاؤ مہم میں کامیابی کے بعد وہ دوبارہ وزیراعظم تو بن گئے ہیں لیکن وہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کی بربادی کا سامان اپنے ہاتھوں سے کررہے ہیں، وہ تاریخ سے نابلد ہیں، بابری مسجد 500 برس تک قائم رہی ہے، وہاں رام مندرکا سنگ بنیاد رکھنا، تاریخ کے ساتھ ایک بھیانک مذاق ہے ۔

پانچ اگست کو پاکستانیوں نے ''یوم استحصال'' اس لیے منایا ہے کہ ایک برس قبل بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے کے لیے غیرقانونی کارروائی کی تھی۔یہ سلامتی کونسل کی قراردادوں، دوطرفہ معاہدوں اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

وادی میں نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کرانے کا واحد مقصد ہندوتوا ایجنڈے کو بڑھاتے ہوئے خطے کا آبادیاتی ڈھانچہ غیر قانونی طور پر تبدیل کرنا ہے۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان ایسے ہی تو نریندرمودی کوہٹلر نہیں پکارتے، حقیقت میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی فاشسٹ پالیسیاں ان کی انتہاپسندانہ ذہنی کیفیت کو ظاہرکرتی ہیں۔

بھارتی فوج کی طرف سے جعلی مقابلوں، چھاپوں اورماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے، شہداء کے جسد خاکی تدفین کے لیے لواحقین کے حوالے نہیں کیے جاتے ہیں،کشمیریوں کے گھر جلانے اور لوٹنے کے واقعات عام ہیں۔ بھارتی جارحیت پسندی کا اندازہ صرف اس بات سے لگا لیجیے کہ بھارتی فورسز نے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پرجنگ بندی کی 1800 سے زائد بارخلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی شہری آبادی کو تسلسل سے نشانہ بنایا ہے، جس سے 18 شہری شہید اور 138 سے زائدزخمی ہوئے۔

نا جانے بھارتی سرکار یہ بات کیوں بھول جاتی ہے کہ جموں وکشمیر تسلیم شدہ عالمی تنازع اور سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر طویل عرصے سے موجود ہے، بھارت کے غیر قانونی اقدامات اس کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں کرسکتے ہیں۔ درحقیقت بھارت کے غیر ذمے دارانہ اور جارحانہ اقدامات جنوبی ایشیاء کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ دنیا کو بھارت کے ممکنہ فالس فلیگ آپریشن اورکسی بھی بنا سوچی سمجھی جارحانہ کارروائی کے حوالے سے ہوشیاررہنا چاہیے۔ برطانوی مورخ، سوانح نگار،جنوبی ایشیا اورکشمیر سے متعلق متعدد کتابوں کی مصنفہ وکٹوریہ شوفیلڈ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت گزشتہ برس کے دوران کشمیریوں کے دل ودماغ جیتنے میں ناکام رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 5 اگست 2019سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں جوکچھ ہو رہا تھا، اس کے بارے میں بھارتی حکومت نے بڑے پیمانے پر غلط فہمی پر مبنی مہم چلائی، بھارت نے اس سے کہیں زیادہ لوگوں کو اپنے مؤقف کے مخالف کردیا ہے۔ مصنفہ کے خیالات صائب ہیں اور حقائق کا درست تجزیہ پیش کررہے ہیں کیونکہ مودی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے، مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام ایک برس سے جیل میں قید ہیں،کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ یوم استحصال مناکر پاکستانیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ کشمیری تنہا نہیں ہیں، پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے،کشمیریوں نے دنیا کی تاریخ میں جدوجہدکی ایک لازوال داستان اپنے لہو سے رقم کی ہے۔

پوری مقبوضہ وادی میں ایک سال سے مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ عید قربان پرکشمیریوں کو نمازعید کی ادائیگی بھی نہیں کرنے دی گئی، اس وقت تیرہ ہزار سے زیادہ کشمیری مرد وخواتین ناجائز بھارتی قبضے کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں پابند سلاسل ہیں، لیکن یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بیتی سات دہائیوں کے دوران ہر طرح کے جبرکے باوجود بھارت کشمیری عوام کو غلام بنانے میں ناکام رہا ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سکونت کے نئے قوانین کشمیری عوام کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی بھارتی سازش ہے، بھارتی حکومت کے اس غیر قانونی ہتھکنڈے کی بھرپور مزاحمت کشمیری اور پاکستانی ہر پلیٹ فارم پرکر رہے ہیں۔

اسی تناظر میں سینیٹ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے، اس عزم کا اظہارکیا کہ بھارت سے اب جو بات ہوگی وہ پاکستان کے نئے سیاسی نقشہ کے مطابق ہوگی۔ مزید برآں وزیر خارجہ نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگوکرتے ہوئے اسلامی ملکوں کی تنظیم( او آئی سی) کو کہا ہے کہ وہ راست اقدام کے تحت تنظیم کا کشمیر پر فوری طور پر اجلاس بلائے ۔ بہرکیف یہ حقیقت ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس رکوانے میں بھارت کو منہ کی کھانا پڑی ہے اورکشمیر میں بربریت کے باعث مودی حکومت عالمی رسوائی کی زد میں ہے۔

عالمی امن اورانسانوں کی سلامتی کے لیے مسئلہ کشمیر اورمسئلہ فلسطین حل ہونا عصرحاضر کا تقاضہ ہے۔ بھارت سات دہائیوں سے کشمیریوں اورعالمی برادری کو دھوکہ دے رہا ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے کشمیرکو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا،کشمیری اور پاکستانی قوم آخر دم تک اس کے لیے لڑیں گے،کیونکہ دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں سے ان کا حق خود ارادیت نہیں چھین سکتی ہے، مودی سرکار نے گھناؤنے اقدامات کرکے جنت نظیر وادی کشمیرکو جہنم بنا کر رکھ دیا ہے اور بھارتی فوج نے کشمیری عوام کو آزادی کے اپنے پیدائشی حق سے باز رکھنے کے لیے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے دیے ہیں۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''کل تک'' میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیرکے تین اہم جزو ہیں۔

ایک مقبوضہ کشمیرکے عوام، دوسرے آزاد کشمیرکے عوام اور تیسرے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیری۔ان تینوں کو ایک لڑی میں پرونا ہے، تاکہ یہ آگے چل کر بات کرسکیں۔ یعنی وہ کشمیریوں کی یکجہتی میں وزارت خارجہ کا تعاون طلب کررہے ہیں یقینا ان کی تجاویز پر بھی عملدرآمد ہونا چاہیے۔ پاکستان کو اس تاثرکو زائل کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ یہ دوممالک کے درمیان کوئی زمینی تنازع ہے، ایسا ہرگزنہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر صرف مسلم امہ کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہمیں اخلاق اور انسانی حقوق کی جنگ لڑنی ہے۔ سفارتکاری ایک مسلسل عمل ہے، اور کشمیریوں کے حق میں دنیا کو ہمنوا بنانے کی سعی جاری رکھنی ہے۔

عالمی امن اورانسانوں کی سلامتی کے لیے مسئلہ کشمیر کاحل ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بھارتی کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹرکے اصولوں، منشورکی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہیں۔ بھارت آئے دن بارڈر اورمقبوضہ کشمیر میں قتل وغارت کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مودی سرکار نے گھناؤنے اقدامات کرکے جنت نظیر وادی کشمیرکو جہنم بنا کر رکھ دیا ہے اور بھارتی فوج نے کشمیری عوام کو آزادی کے اپنے پیدائشی حق سے باز رکھنے کے لیے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے دیے ہیں، لیکن سلام ہے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو انھوں نے باطل کے آگے نہ سر جھکایا ہے نہ کبھی جھکائیں گے۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون فوراً ختم کرے اور مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ وہ دن دور نہیں جب سری نگر میں پاکستان کا پرچم لہرائے گا، ہزاروں شہداء کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور ایک دن کشمیر آزاد ہوکر رہے گا۔(انشاء اللہ)

مقبول خبریں