زر مبادلہ کے سرکاری ذخائر 12سال کی کم ترین سطح پر آگئے

مرکزی بینک کے ذخائر8کروڑ35لاکھ گھٹ کر2ارب96 کروڑڈالرریکارڈ،1 ماہ کی درآمدی ضروریات کیلیے بھی ناکافی


Business Reporter December 13, 2013
6 دسمبر تک کمرشل بینکوں کے پاس5ارب9کروڑ ڈالر موجود، ادائیگیوں کے بحران کا خدشہ ہے،اقتصادی ماہرین ۔ فوٹو فائل

زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت 12سال کی کم ترین سطح پر آگئی، قومی خزانے کو نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال جیسے حالات کا سامنا ہے اور ذخائرنائن الیون کی سطح سے بھی کم ہو چکے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت ایک ماہ کی درآمدات کیلیے بھی ناکافی ہیں، 3 ہفتے کے درآمدی بل کے برابر ذخائر ادائیگیوں کے توازن کیلیے خطرہ بن چکے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 6دسمبر کو 2.9 ارب ڈالر کی سطح پر آگئی، 29نومبر سے 6دسمبر (ایک ہفتے )کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں8کروڑ 35لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی جبکہ رواں مالی سال کے دوران جولائی سے اب تک زرمبادلہ کے ذخائر 2.9ارب ڈالر تک کم ہوچکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق رواں مالی سال کے دوران آئی ایم ایف کو 1.9ارب ڈالر کی ادائیگیوں سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سخت دباؤ کا سامنا ہے تاہم گزشتہ ہفتے کے دوران ہونیوالی کمی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا نتیجہ ہے، رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کو 1.3ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔



جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ 14 ملین ڈالر سرپلس رہا تھا، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے براہ راست اثرات روپے کی قدر پر مرتب ہورہے ہیں اور رواں مالی سال کے دوران روپے کی قدر 7فیصد تک کم ہوچکی ہے تاہم زیر تبصرہ ہفتے کے دوران روپے کی قدر میں محدود ریکوری دیکھی گئی ہے ۔ معاشی منیجرز فروری میں ہونے والی تھری جی لائسنس کی نیلامی، غیرملکی قرضوں، بانڈز کے اجرا اور نیلامیوں کے علاوہ کولیشن سپورٹ فنڈ کو امید کی کرن قرار دے رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 6دسمبر کو زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 8ارب 6کروڑ 4لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی، اسٹیٹ بینک کے ذخائر 2ارب 96 کروڑ 31لاکھ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5ارب 9 کروڑ 73لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں۔