سی این جی سیکٹرکاپیرتک گیس بحال نہ ہونے پراحتجاج کاانتباہ

12ماہ گیس فراہمی معاہدے کے باوجودغیرمعینہ بندش غیرقانونی ہے،غیاث پراچہ


Numainda Express December 13, 2013
لوڈ مینجمنٹ کا مطلب مکمل بندش نہیں بلکہ سپلائی میں کمی ہے،چیئرمین آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن ۔ فوٹو : آن لائن

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے پیر تک سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی سپلائی بحال نہ کرنے کی صورت میں ملک گیر بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

یہ اعلان چئیرمین سپریم کونسل آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن غیاث عبداللہ پراچہ نے گزشتہ روز سی این جی ایسوسی ایشن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ گیس کمپنی نے حکومتی منظوری کے بغیر اور پلاننگ کمیشن کی بھرپور مخالفت کے باوجود غیرقانونی و غیرآئینی طور پر پنجاب میں سی این جی اسٹیشنز کو قدرتی گیس کی سپلائی غیرمعینہ مدت تک مکمل بند کر دی ہے جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر اور اس شعبے میں 450ارب کی سرمایہ کاری ڈوب رہی ہے، سی این جی واحد سیکٹر ہے جو گیس کا متبادل نہ ہونے کے سبب مکمل بند ہو جاتا ہے اورجس سے حکومت نے سال کے 12 ماہ گیس سپلائی کا معاہدہ کیا ہوا ہے جسے پامال کیا جا رہا ہے۔



غیاث پراچہ نے کہا کہ لوڈ مینجمنٹ کا مطلب مکمل بندش نہیں بلکہ سپلائی میں کمی ہے، ایک طرف روزگار اسکیمیں متعارف کرائی جا رہی ہیں اور دوسری طرف لاکھوں افراد کو بیروزگار اور لاکھوں گاڑیاں بند کرنے کا سامان کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ روزانہ کی بنیاد پر صبح 9 سے شام 7 بجے تک سی این جی کی سپلائی فوراً بحال کی جائے، گیس بحران کے ذمے داروں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیںاورحکومت معاہدوں کی پاس داری کرے۔ غیاث پراچہ نے کہا کہ ہم جمعہ کو وفاقی وزیر پٹرولیم سے ملاقات کرینگے اوراگر پیر تک سپلائی بحال نہ کی گئی تو سی این جی مالکان لاکھوں ملازمین کو فارغ کرنے پر مجبور ہونگے جس کی ذمے داری حکومت پر عائد ہوگی جس کے بعد پر ملک بھر میں پرامن مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ انھوں نے وزیر اعظم سے مداخلت کر کے لاکھوں افراد کا روزگار اور اربوں کی سرمایہ کاری بچانے کی اپیل کی ہے۔