خطے میں امن کی ضمانت کشمیر کا حل

کشمیریوں نے اپنے خون سے جدوجہد آزادی کی تاریخ رقم کی ہے، انشاء اللہ جلد ان کا لہو رنگ لائے گا۔


Editorial August 12, 2020
کشمیریوں نے اپنے خون سے جدوجہد آزادی کی تاریخ رقم کی ہے، انشاء اللہ جلد ان کا لہو رنگ لائے گا۔ فوٹو: فائل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدروولکن بوزکر نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن واستحکام کے لیے مسئلہ کشمیرکا حل ناگزیر ہے جب کہ عالمی مسائل پر اقوام متحدہ اوروزیر اعظم عمران خان کا نکتہ نظر یکساں ہے۔

وولکن بوزکرکی پاکستان آمد ہمارے لیے اعزازکی بات ہے، گزشتہ روز وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ، او آئی سی اورکئی دیگر عالمی تنظیموں کا اہم اورمتحرک رکن ہے، یواین امن آپریشنزمیں پاکستان کا اہم کردار ہے۔

ان کی آمد سے یہ حقیقت بھی ایک بارکھل کر دنیا کے سامنے آئی ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرارداوں کی روشنی میں عالمی سطح پر ایک متنازع مسئلہ ہے، جس کا پائیدار اورمستقل حل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،تاکہ کشمیریوں کوان کا حق بصورت آزادی مل سکے۔ زمینی حقائق کے مطابق اس وقت صورتحال خاصی سنگین ہوچکی ہے، بھارت کشمیرکی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے 5 اگست 2019 کو یکطرفہ اقدامات اٹھا چکا ہے۔

ایک برس بیت گیا ہے،کشمیری سخت ترین لاک ڈاؤن کی اذیت سہہ رہے ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاںجاری وساری ہیں، جب کہ لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعے آزادکشمیرکے معصوم اور نہتے شہریوں کوگولیوں کا نشانہ بنانے کا عمل بھی پورے سال ہی جاری وساری رہتا ہے۔

قائد اعظم محمدعلی جناح کشمیرکو پاکستان کی شہ رگ قرار دے چکے ہیں، بزورطاقت بھارت نے کشمیرپرجابرانہ تسلط سات دہائیوں سے قائم کررکھا ہے، انسانی تاریخ کی طویل ترین جدوجہد جو آزادی کے لیے جاری ہے، وہ کشمیریوں اورفلسطینیوںکی ہے۔ بھارت نے دنیا میں کشمیر اٹوٹ انگ کا جھوٹا اور من گھڑت راگ الاپا، لیکن وہ ایک بھی کشمیری کے دل کو فتح نہ کرسکے۔

بھارت کے متعصب ترین اور دورجدیدکے ہٹلر ثانی مودی نے گزشتہ ایک برس میں کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ ہیں، بھارتی آئین میں حاصل خصوصی شقوں کا خاتمہ کرکے جس طرح مقبوضہ کشمیر میں نسلی عصبیت کی بنیاد پرآبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں کی ہے وہ تاریخ ایک سیاہ ترین باب ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جموں وکشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں۔

دنیا ایک جانب تو امن کے خواب دیکھتی ہے لیکن اس سچائی سے ہم کسی طور انکار نہیں کرسکتے کہ مسئلہ کشمیرحل کیے بغیر خطے میں امن وترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے، اقوام متحدہ کوکشمیرکے حوالے سے اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔

پاکستان مسئلہ کشمیرکاحل چاہتا ہے، عالمی قوانین کی روشنی میں، حالیہ دنوں میں سیاسی نقشہ کا اجرا پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی ہے۔ نقشہ نے سرکریک ، سیاچن، جوناگڑھ،کشمیراور دیگر امورکو تقسیمِ برصغیرکے تحت واضح کیا ہے۔

پاکستانی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ایک سال میں مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں تین بارزیر بحث آنا بڑی کامیابی ہے اورہماری خواہش ہے کہ کشمیرکا مسئلہ جنرل اسمبلی اجلاس میں بھی زیر بحث آئے جو اقوام عالم کا سب سے اہم پلیٹ فارم ہے۔ بات ان کی صائب ہے لیکن جب تک اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کروا لیتا، اس وقت تک کشمیریوں کے دکھ ومصائب اور آلام کم نہیں ہوسکتے۔

یادش بخیر،کشمیریوں پر جاری مظالم کی داستان ان کی تاریخی جدوجہد سے عبارت ہے۔ انگریزوںنے کشمیرکوفتح کرنے کے بعد ڈوگرہ مہاراجہ کو 75 لاکھ روپے میں فروخت کردیا تھا، کشمیریوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف بھی جدوجہد کی،1931میں ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہدکرتے ہوئے 22کشمیری شہید ہوئے، 1947میں مہاراجہ ہری رام سنگھ نے بھارت کے ساتھ مقبوضہ کشمیرکا غیر قانونی الحاق کیا جب کہ سردار ابراہیم مرحوم نے آزادکشمیرکا پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔

تاریخ کا یہ سب سے بڑا سچ ہے کہ بھارت خود تنازعہ کشمیرکا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کرگیا اور وہاں استصواب رائے کا وعدہ کیا اور بھارتی سیاستدان بھی اس وعدے کو برسوں تک مسئلہ کشمیر کے بغیر امن ممکن نہیںدہراتے رہے کہ کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دیا جائے گا۔

مقبوضہ کشمیر میں اب تک لاکھوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں، قبرستان بھر گئے ہیں لیکن ایک لمحے کو بھی کشمیریوں نے ہمت نہیں ہاری ہے۔ بھارت نے گزشتہ برس 5 اگست کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کو غیر قانونی طور پر منسوخ کردیا تھا حالانکہ یہ آرٹیکل بھارتی آئین میں غیر قانونی تھے تاہم ان آرٹیکلز کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی تھی حالانکہ مقبوضہ جموں وکشمیر نے آزاد ہونا تھا اور پاکستان کا حصہ بننا تھا۔

یہ صورتحال بی جے پی کی قیادت میں بھارتی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف نفرت کی عکاسی کرتی ہے، بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کرفیو، مواصلات اور طبی امداد کی بندش، بین الاقوامی امدادی اداروں کو روک کرانسانی حقوق کو پامال کرکے کشمیری عوام پر ظلم کو ایک نئی جہت دی ہے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر میں 9 لاکھ سے زائد بھارتی فوج موجود ہے،یہ دنیا کا سب سے بڑا فوجی علاقہ بن چکا ہے، بھارتی فوجیوں کو پبلک سفیٹی ایکٹ کے تحت مزید اختیارات دیے گئے ہیں جس کے باعث جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل میں اضافہ ہوا ہے، مقبوضہ جموں وکشمیرکی سیاسی قیادت کو غیر قانونی طور پرگرفتار اور نظر بندکرکے رکھا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری معیشت کو تین ارب ڈالرکا نقصان ہوچکا ہے، وادی میں پیلٹ گنز استعمال کرکے کشمیریوں کو نابینا کر رہا ہے،گزشتہ ایک سال کے دوران 13 ہزار نوجوانوں کوگرفتارکیا ہے، خواتین کی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ وہ حقائق ہیں جو میڈیا منظرعام پر لاتا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا نے اپنے مفادات کی خاطر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں۔ حالانکہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں کشمیر میں آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کا بھارت نے وعدہ کیا ہے،کوئی بھی قابض مسئلہ کے حل تک وہاں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا، نہ ہی وہاں باہر سے لوگوں کو بسایا جا سکتا ہے، گزشتہ ایک برس میں کیے اقدامات اس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

درحقیقت بھارتی حکومت کے اقلیتوں کے خلاف مظالم اس کی فاشسٹ ہندوتوا پالیسی کے عکاس ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں، ظلم کی انتہاتو یہ ہے کہ شہید کشمیریوں کی لاشیں بھی ورثا کے حوالہ نہیں کی جا رہی ہیں، 5 اگست 2019 کے غیرقانونی قدم کے بعد اب غیرکشمیری جموں و کشمیر میں آباد ہوسکتے ہیں اور وہاں پرجائیدادیں بھی خرید سکتے ہیں۔

کشمیریوں کی اکثریت کو ختم کرنے کے لیے اور غیرکشمیری کے لیے جائیداد خریدنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے سول سروس میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اس وقت جموں وکشمیر میں تمام اعلیٰ سرکاری عہدوں پرغیرکشمیری ہندوؤں کو تعینات کردیا گیا ہے، اگر ایسا سلوک کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ ہورہا ہوتا تو پوری دنیا میں شوروغل مچا ہوتا اور اقوام متحدہ اوردوسرے عالمی ادارے حرکت میں آچکے ہوتے اور فوجی اقدام تک کے بارے میں سوچا جارہا ہوتا۔

پاکستان کوکورونا سے نمٹنے کی بہترین حکمت عملی کا عالمی سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کورونا سے نمٹنے کی پاکستانی حکمت عملی کو دنیا کے لیے مثال قرار دے دیا ہے، ان کا مزیدکہنا تھا کہ پاکستان اس عالمی وبا سے بہترین انداز سے نبرد آزما ہوا ہے،دنیا کو کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔اعداد وشمارظاہرکرتے ہیں پاکستان نے باقی دنیا سے بہتر اقدامات اٹھائے۔اپنی آنکھوں سے اس صورتحال کا مشاہدہ کرکے بہت خوشی ہوئی ہے جب کہ مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے بھی پاکستان کی کورونا وائرس کے خلاف کامیابی کو تسلیم کرلیا ہے۔

امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد کم ہو رہی ہے جب کہ بھارت میں یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ وطن عزیز میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آنا ایک خوش آیند امرہے لیکن دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے محرم الحرام کے دوران کورونا کے دوبارہ پھیلاؤکا انتباہ جاری کردیا ہے۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران لوگوں کی صحت کو محفوظ بنانے کے اقدامات کرنے ہونگے، متعدد شعبے کھولنے سے کورونا متاثرین کی نشاندہی کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس حکمت عملی پرعمل کرنا ہوگا۔ زیادہ لوگوں سے رابطہ کرنے والے افراد کے ٹیسٹ کرنا ہوں گے، وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ محرم کے جلوسوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لیے علما سے مدد لی جا رہی ہے۔ ان بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایس اوپیز پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں وبا دوبارہ پھیل سکتی ہے۔

لہذا قوم سے ہم ان سطورکے ذریعے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ خدارا احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، وبا کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے لیکن یہ مکمل طورپر ختم نہیں ہوئی ہے،کورونا چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات میں عوام کوحکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہیے تاکہ مستقل بنیادوں پر ہم اس وبا سے نجات پا لیں۔

حرف آخرکشمیریوں نے اپنے خون سے جدوجہد آزادی کی تاریخ رقم کی ہے، انشاء اللہ جلد ان کا لہو رنگ لائے گا اور مقبوضہ کشمیر کی فضاؤں میں آزادی کا نغمہ گونجے گا، جب کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں