مسلم ملکوں میں انتشار اور خونریزی

57 مسلم ملکوں پر اگر ایک نظر ڈالیں تو صرف انتشار اورخون خرابے کی بھیانک تصویر سامنے آتی ہےجو دنیا کے کسی ملک میں نہیں


Zaheer Akhter Bedari December 13, 2013
[email protected]

دوسرے ملکوں اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے عوام کی طرح پاکستان کے عوام بھی دنیا میں اپنے ملک اپنے مذہب کی نیک نامی چاہتے ہیں اور یہ ایک فطری خواہش ہے۔ دنیا میں مسلم ملکوں کی تعداد57 ہے اور آبادی دنیا کی آبادی کا ایک تہائی حصہ ہے۔ ملکوں اور آبادی کی اتنی بڑی تعداد کے ساتھ مسلم ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، اس کے باوجود یہ ممالک پسماندہ ملکوں میں کیوں شمار ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو مسلم ملکوں کی ترقی چاہنے والے ہر شخص کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔ میں جب اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو میری نظروں کے سامنے مسلم ملکوں کا نقشہ گھوم جاتا ہے اور یہ نقشہ اس قدر گمبھیر اور مایوس کن ہے کہ باوجود بھرپور رجائیت کے اس میں بہتری کی مستقبل قریب میں کوئی امید نظر نہیں آتی۔ ہمارے ملک کے بعض حلقے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بھی کہتے ہیں اور اس خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ساری دنیا پر ہمارا غلبہ ہونا چاہیے، یہ خواہش نہ قابل اعتراض ہے نہ کوئی منفرد خواہش ہے کیونکہ یہ خواہش ہر ملک و ملت میں پائی جاتی ہے، قابل توجہ قابل افسوس بات یہ ہے کہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہم نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ راستہ ہمیں دنیا پر غلبہ دلانے کے بجائے دنیا میں ذلیل و رسوا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

57 مسلم ملکوں پر اگر ایک نظر ڈالیں تو صرف انتشار اور خون خرابے کی ایک ایسی بھیانک تصویر سامنے آتی ہے جو دنیا کے کسی ملک کسی مذہب و ملت میں نہیں دیکھی جا سکتی، اس حوالے سے ہم خود اپنے ملک پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم تنزل اور تباہی کے کس پاتال میں کھڑے ہیں۔ اس تباہی کا ذکر اس لیے بیکار ہے کہ اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام اس تباہی و بربادی کو نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں بلکہ اس سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے بعد ہماری نظروں کے آگے بنگلہ دیش کی تصویر آ جاتی ہے جو برسوں سے عدم سیاسی استحکام اور بدترین خونریزی کا شکار ہے، اس حوالے سے تفصیل میں جانے کے بجائے میں ایک سرخی کا حوالہ دینا کافی سمجھتا ہوں جو آج کے اخباروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔

وہ سرخی کچھ اس طرح ہے ''بنگلہ دیش کے ضلع گیندھ میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ٹرین کو پٹڑی سے اتار دیا، بھگدڑ سے 9 افراد ہلاک اور50 سے زیادہ زخمی ہو گئے'' بنگلہ دیش 1971ء تک پاکستان کا حصہ تھا اور پاکستان کا حصہ اس لیے بنا تھا کہ یہ مسلم اکثریت علاقہ تھا اور تقسیم ہند کے نظریے یا فارمولے کے تحت اسے پاکستان میں شامل ہونا تھا، ہمارے شاعر مشرق علامہ اقبال کا ارشاد ہے کہ ''مسلم ہیں ہم وطن ہیں، سارا جہاں ہمارا'' ہم سارے جہاں کو تو اپنا وطن نہ بنا سکے البتہ مسلم اکثریتی صوبے مشرقی بنگال کو اپنے نئے وطن کا حصہ بنانے میں ضرور کامیاب ہو گئے لیکن صرف 24 سال میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ یہ مسلم اکثریتی صوبہ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش کیوں بنا اور پاکستان کی طرح اب تک کیوں سیاسی انتشار اور خونریزی کا شکار ہے؟ اس کی ایک وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ آج کی دنیا میں اقتصادی اور سیاسی مفادات ہر رشتے، ہر تعلق پر بھاری ہیں، ہم اس حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ مشرقی پاکستان سے چونکہ ہمارا دینی رشتہ ہے لہٰذا وہ ہم سے کبھی علیحدہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ اقتصادی اور سیاسی نا انصافیاں مذہبی بندھنوں کو توڑ دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ جو دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغربی پاکستان کی اشرافیہ کی طرف سے ہونے والی نا انصافیوں کے نتیجے میں مشرقی پاکستان اگر بنگلہ دیش بن گیا تو پھر یہ ملک اب تک کیوں انتشار اور خونریزیوں کا شکار ہے؟

یہ مسئلہ صرف بنگلہ دیش اور پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ افغانستان، شام، مصر، لیبیا، تیونس، ترکی، یمن سمیت پورا ''عالم اسلام'' اسی انتشار کا شکار ہے۔ لیبیا، تیونس، مصر میں اگرچہ بظاہر انقلاب آ چکے ہیں لیکن ان ملکوں میں اب بھی سیاسی انتشار اور خون خرابے کا سلسلہ جاری ہے، شام ابھی تک خون میں نہایا کھڑا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی سیاسی اور اقتصادی وجوہات بھی ہیں۔ مثلاً ان ملکوں کے حکمران طبقات نے اپنے عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے بجائے اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے قومی دولت کی لوٹ مار کا جو ظالمانہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے، انتشار کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے لیکن لوٹ مار کے یہ مواقع حکمرانوں کو کیوں اور کس طرح حاصل ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان ملکوں میں اب تک وہ مغربی جمہوریت بھی روشناس نہیں ہو سکی جس میں حکومت پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے اور احتساب کے ادارے بڑی حد تک فعال ہوتے ہیں۔ اس کمزوری کی وجہ سے مسلم ملکوں میں عملاً بادشاہتوں کا نظام قائم ہے اور بادشاہتوں کی پوری تاریخ انتشار، قتل و غارت کی تاریخ ہے، حصول اقتدار اور تحفظ اقتدار کی اندھی خواہشوں نے باپ کو بیٹے، بیٹے کو باپ اور بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیا، ایسے بے ہودہ اور اخلاقیات سے گرے ہوئے نظام میں سیاسی پارٹیوں کے درمیان اقتدار کی لڑائی کا جو کھیل جاری رہتا ہے، وہ مسلم ملکوں میں خونی کھیل میں بدل گیا ہے اور ہر طرف انتشار اور خونریزی کا وہ سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ ایک طرف مسلم ملک ترقی اور خوشحالی کی منزل سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں تو دوسری طرف دنیا میں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔

اس انتشار اور خونریزی کا دوسرا اہم سبب یہ ہے کہ ان ملکوں میں ترقی پسندی کو تو چھوٹ ہے، لبرل قوتوں کو بھی دین دشمنی کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے اور انتہا پسندی کو ہی راہ نجات سمجھا جاتا ہے۔ اس نظریاتی جنگ کا المناک پہلو یہ ہے کہ وہ لوگ اور جماعتیں جو مذہبی سیاست نہ کرنے کی دعویدار ہیں وہ بھی ہوا کا رخ دیکھ کر ایسی رجعت پسندانہ سیاست پر اتر آتی ہیں کہ لبرل سیاست تک کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ نفسیات صرف مسلم ملکوں ہی میں کیوں اس قدر مستحکم ہے؟

ہندوستان ہندو اکثریتی آبادی کا ملک ہے اس ملک میں بھی انتہا پسند جماعتیں موجود ہیں اور اقتدار میں بھی رہی ہیں اور ہیں لیکن حصول اقتدار کے لیے یہ جماعتیں بھی جمہوری راستے کو ہی اپنائے ہوئے ہیں، مارا ماری، قتل و غارت سے دور ہیں، اسی طرح مغربی ملکوں کو دیکھیں تو اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود ان ملکوں میں جمہوری طریقوں سے اقتدار حاصل کرنے کا کلچر اس قدر مستحکم ہے کہ یہ ملک مارا ماری، قتل و غارت کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کو نہ صرف جمہوری روایات کے خلاف سمجھتے ہیں بلکہ اس غلیظ کلچر کو یہ قومیں اپنی اخلاقی روایات کے خلاف بھی سمجھتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب کا ماضی بھی انتشار اور خونریزیوں سے بھرا ہوا ہے لیکن یہ قومیں بتدریج اس کلچر سے نکلتی رہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں تعلیم کی اہمیت کو سمجھا گیا اور معاشروں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا گیا۔ ہماری بد قسمتی کا عالم یہ ہے کہ ہمارے ملک کی وہ جماعتیں جو اپنے آپ کو نہ صرف روشن خیال بلکہ ترقی پسند بھی کہتی ہیں وہ اس اکیسویں صدی میں بھی ہتھیار کو اپنا زیور کہتی ہیں اور اس پر فخر بھی کرتی ہیں۔ کیا یہ نفسیات اس قبائلی اور جاگیردارانہ کلچر کی باقیات نہیں جس سے ہزاروں سال گزرنے کے باوجود بھی ہم اب تک نہ نکل سکے۔؟

المیہ یہ ہے کہ ابھی تک مسلم ملکوں میں بادشاہتیں موجود ہیں اگرچہ پاکستان جیسے ملکوں میں ان بادشاہتوں کو جمہوری غلاف اوڑھا دیا گیا ہے لیکن کئی ملکوں میں اس تکلف کو بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا ان ملکوں میں ننگی بادشاہتیں موجود ہیں اور ہمارے لیے باعث احترام بھی بنی ہوئی ہیں۔ کیا ہمارا یہ رویہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ یا اقتصادی ضرورتوں نے ہمیں اس قدر بے حس بنا دیا ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں اور مسلم ملکوں میں موجود انتشار اور خونریزی کی صورت حال کا تقاضا ہے کہ نہ صرف اس مسئلے پر مذہبی اسکالر تحقیق کریں بلکہ اس سے نکلنے کے راستے بھی تلاش کریں، تا کہ ہم دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی خواہش کی تکمیل کے لیے ان راستوں پر چل سکیں جن پر چل کر آج مغربی اقوام دنیا پر غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔

مقبول خبریں