بھارتی یوم آزادی پرکشمیریوں کا یوم سیاہ

بھارت میں آئے دن مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں غیر جانب دار اداروں اور میڈیا کا داخلہ بند ہے۔


Editorial August 17, 2020

دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ منایا، جس کا واضح مقصد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی جانب سے مسلسل تسلط کی جانب مبذول کروانا تھا۔ بلاشبہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی موجودگی میں بھارت نے تمام عالمی قوانین روندکر، 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کر کے غیر قانونی قدم اٹھایا ہے۔ بھارت کے اس عمل سے اقوام متحدہ کی ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے، کیونکہ مسئلہ کشمیر صرف علاقائی تنازع نہیں، بلکہ ایسا ٹیسٹ کیس ہے، جس کا منصفانہ حل پوری دنیا کے لیے ماڈل بن سکتا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیرکو بھرپور انداز میں اجاگرکیا ہے، اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، جب کہ حال میں پاکستان نے مقبوضہ کشمیرکو اپنے نقشے میں شامل کرکے ایک احسن اقدام اٹھایا ہے۔ یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی جشن آزادی کوکشمیری کیوں یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔

جواب سادہ سا ہے، جسے سات دہائیوں کی خونی جدوجہد کے ذریعے کشمیریوں نے رقم کیا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں سے ان کے تمام بنیادی حقوق چھین لیے ہیں، لہٰذاہندوستان کو جشن آزادی منانے کا کوئی اخلاقی اور قانونی حق حاصل نہیں ہے۔یہ واضح اور دوٹوک جواب ہے بھارت کے لیے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق نہیں مل جاتا وہ یوم سیاہ مناتے رہیں گے۔ موجودہ عالمی صورتحال میں یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ بھارت دنیا میں ہندو انتہا پسندی کی علامت بن چکا ہے، نریندر مودی آر ایس ایس کے ہندو انتہا پسند ایجنڈے پر چل رہے ہیں، ایک سیکولر ملک میں ہندو انتہا پسندی خطرناک حدوں کوچھو رہی ہے۔

بھارت میں آئے دن مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں غیر جانب دار اداروں اور میڈیا کا داخلہ بند ہے۔ نسل پرستانہ سوچ کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے، قبرستان بھرے جارہے ہیں، بستیاں ویران ہورہی ہیں۔ نہتے کشمیریوں سے قابض فوج اتنی خوفزدہ ہے کہ اس نے مقبوضہ وادی کوچھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے، گزشتہ ایک برس سے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، بلیک آؤٹ، ہرجگہ ناکے بھارتی سرکار کے خوف کی علامات ہیں۔ بھارت نے دس لاکھ کی ظالم جابر فوج کے ذریعے مقبوضہ جموں وکشمیر کے نہتے مسلمانوں کو جیل میں قید کر رکھا ہے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا قبضہ گروپ ہے اور ریاستی غنڈہ گردی دہشت گردی سے انسانی حقوق کی پامالی میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے بھارت کے 74 ویں یوم آزادی پرلال قلعے میں خطاب میں نام لیے بغیر پاکستان اور چین کودھمکیاں دیں،انھوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں الیکشن حد بندی عمل کی تکمیل کے بعد منعقدکرائے جائیں گے۔ بھارتی وزیراعظم اس وقت ذہنی دباؤکا شکار ہیں، لہٰذا وہ بھارتی عوام کوطفل تسلیاں دے رہے ہیں۔

درحقیقت لداخ میں اپنی غیر ذمے دارانہ کارروائیوں کے جواب میں بھارت کو چینی فوج سے ہزیمت کا سامنا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بھارت کے اسی ہزار فوجی انتہائی دشوارگزار علاقے میں موجود ہیں، بھارتی حکومت کا ارادہ ہے سردیوں میں بھی فوج کی اتنی تعداد اس مشکل علاقے میں رکھی جائے، یہ ایسا علاقہ ہے کہ اگر دو ملکوں میں لڑائی نہ بھی ہورہی ہو تو موسم بہر طور ایک کڑا حریف بن کر سامنے کھڑا ہوتا ہے، اس لیے فوجی اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ جہاں تک نریندر مودی کی اس بات کا تعلق ہے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات اعتماد اور سلامتی کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔سچ تو یہ ہے کہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے کسی بھی پڑوسی ملک سے اس کے تعلقات سرے سے قائم ہی نہیں ہے۔

بھارت ایک ایسا ملک بن چکا ہے، جس کے شر سے کوئی بھی پڑوسی محفوظ نہیں، نیپال، بنگلہ دیش، پاکستان اور چین اس کی واضح ترین مثال ہے۔ مودی بندگلی میںبھارت کو لے کر جا رہے ہیں، وہ کشمیر میں جس نام نہاد الیکشن کا عندیہ دے رہے ہیں۔ ذرا تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیشہ کشمیریوں نے ان نام نہاد الیکشن کو ردکیا ہے اور بھارتی ڈراموں کو دنیاکے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ آخر نہتے بے گناہ کشمیری مسلمانوں کو ظلم وستم بربریت قتل و غارتگری کا نشانہ بنا کر بھارت کس منہ سے آزادی منا رہا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموںو کشمیر کواس صدی کی سب سے بڑی اور بدنما جیل بنا رکھا ہے۔

نہتے کشمیری مودی سرکارکے بدترین مظالم برداشت کررہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ فیس بُک نے اپنے کاروباری مفادات کی خاطربھارتی حکمران پارٹی کے انتہاء پسند سیاستدانوں کو اپنے نیٹ ورک پر نفرت پھیلانے کی کھلی چھوٹ دیدی ہے۔ ریاست تلنگانہ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ سوشل میڈیا نیٹ ورک پرمساجد کو شہید ، مسلمانوں کو غدار اور روہنگیا مسلمانوں کوگولی مارنے کی کھلی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں لیکن فیس بک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی کیونکہ بھارتی سیاستدانوں کی انتہائی زہریلی تقاریر پر قدغن لگانے میں اسے کاروباری مفادات نظرآنے لگتے ہیں۔

دراصل پاکستانی حکومت کو میڈیا کے حوالے سے ایک کام یہ بھی کرنا ہوگا کہ دنیا بھرکے تمام بڑے اخبارات میں جامع آرٹیکل شایع کرائے جائیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر ایسے پروگرام منعقدکرانے کی کوشش کی جائے جہاں کشمیر میں جاری بھارتی مظالم بے نقاب کیے جاسکیں۔ کشمیرکے موجودہ حالات کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی جائے۔ ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے توکوئی وجہ نہیں کہ بھارت پر زبردست عالمی دباؤ نہ آئے،کیونکہ یہ دور ذرایع ابلاغ کا ہے، اور پاکستانی حکومت نے موثر انداز میں یہ مقدمہ ہر صورت میں کامیابی کے ساتھ لڑنا ہے۔

بھارت خود کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہلوانا پسند کرتا ہے، عمومی طور پر جمہوریہ ایک خود مختار ریاست کا دوسرا نام ہے، جہاں ریاست میں ذیلی انتظامی وسیاسی اکائیاں وجود رکھتی ہیں اور پارلیمنٹ کے افراد ملک کے فیصلے باہم رضا مندی سے کرتے ہیں لیکن خود کو جمہوریہ کہنے والا بھارت خود اپنے ملک میں انتشارکو ختم نہیں کر پا رہا ہے، بلکہ مزید اسے بڑھاوا دے رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے قبرستانوں میں پچھلے دس سالوں میں 80 ہزار نئی قبروں کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی فوج نے کشمیر میں قتل وغارت کا بازارگرم کر رکھا ہے۔ بھارت یہ بات خوب جانتا ہے کہ چاہے وہ مزید لاکھوں کی فوج کشمیر پہ مسلط کردے، لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت کوکمزور نہیں کیا جاسکتا۔ تاریخ کشمیرکے تناظر میں ہم دیکھیں تو آر ایس ایس اور بی جے پی کی قیادت میں ہندو انتہاپسند قوتوں نے 1927 میں مہاراجہ ہری سنگھ کے نافذکردہ قانون کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے اورکشمیر کے لوگوں کو جھکانے کی کوششیں کی ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی نے اس قانون کے خاتمے کے لیے ایک منظم مہم شروع کی۔

اس میں تجویز دی گئی تھی کہ پاکستان سے آنے والے ہندو مہاجرین جو جموں وکشمیر کے علاقوں میں رہ رہے تھے، انھیں مستقل شہریت دے دی جائے،کشمیری پنڈتوں کے لیے مغربی کنارے پر اسرائیلی آبادیوں کی طرز پر علیحدہ کالونیاں بنائی جائیں اور سابق ہندوستانی فوجیوں کے لیے ایک فصیل بند شہر تعمیرکیا جائے۔

اس موقعے پرکشمیریوں کے پاس ایک ہی آپشن تھا۔ مزاحمت یا پھر خاتمہ اورکشمیریوں نے مزاحمت کا انتخاب کیا جیسا کہ وہ کئی دہائیوں سے کرتے آرہے ہیں۔ بی جے پی حکومت کی کشمیری مزاحمت سے آہنی ہاتھ سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کی وجہ سے کشمیری نوجوان ہلاک ہو رہے ہیں۔ موجودہ دورکی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جب ہندوستان جیسی جدید ریاستیں اختلاف کو دبانے اور عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لیے طاقت کا غیر متوازن استعمال کریں تب بھی مسلح جدوجہد کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ لہٰذا پاکستان کو سفارتی محاذ پر دنیا کے سامنے کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشتگردی نہیں بلکہ جدوجہد آزادی کی صورت میں ثابت کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں ملک کے سینئر سیاستدانوں، دفاعی تجزیہ کاروں موجودہ اور سابق سفارت کاروں، ٹیکنوکریٹس، صف اوّل کے صحافیوں کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا کیا جائے۔

ان کے مختلف گروپ بنوا کر دنیا بھرکے ممالک میں بھجوائے جائیں جو مسئلہ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے حوالے سے بیرون ملک رائے عامہ ہموار کرکے مختلف طبقات کو ہم خیال بنانے کی کوشش کریں، یہ ایک طویل مہم ہے۔لیکن ایسا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں موجود پاکستان کے سفارت خانے وہاں موجود اپنی کمیونٹی اور اہم شخصیات کو مدعو کرکے ان گروپوں سے ملوائیں۔ باہر جانے والے یہ گروپ دیگر ممالک کے میڈیا ہاؤسزکے دورے کریں، ان کے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کریں۔ ان کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سے ملیں تاکہ اپنا موقف اچھے انداز میں عالمی برادری کو پہنچایا جاسکے۔ فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے ہمیں آگے بڑھ کر سفارتی محاذ پر اپنی جدوجہدکو تیزکرنا ہے، تاکہ اگلا یوم آزادی کشمیری، پاکستان کے ساتھ مناسکیں۔( انشاء اللہ)

مقبول خبریں