جعلی اسٹامپ پیپر ٹکٹوں کے فراڈ کی تحقیقات کی جائے سپریم کورٹ

ڈائریکٹر کوبطور انکوائری افسر مقرر اور ماہانہ رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی بھی ہدایت


Numainda Express December 14, 2013
دھندے میں ملوث 80 افراد کو گرفتار اور40 مقدمات کا اندراج کیا گیا، ایف آئی اے کی رپورٹ۔ فوٹو: فائل

KOHAT: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جعلی اسٹامپ پیپرز اور ٹکٹوں کے ذریعے کروڑوں روپے کی اراضی کی خریدو فروخت اور غیر ملکی کرنسی کے معاملے پر فیصلہ دیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ ڈائریکٹر کی سطح کا افسر تحقیقات کیلیے مقرر کیا جائے اور ماہانہ بنیادوں پر رپورٹ سپریم کورٹ کو ارسال کی جائے۔

جمعے کو مقدمے کی سماعت شروع ہوئی توایف آئی اے نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں جمع کرا تے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لین دین میں جعلی اسٹامپ پیپر،ریونیو ٹکٹ اور فارن کرنسی کے معاملے میں ملوث افراد کے خلاف 40مقدمات کا اندراج اور 80افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔



عدالت نے کیس نمٹاتے ہوئے ہدایت کی کہ مختلف عدالتوں میں اس حوالے سے دائرمقدمات کی پیروی کے لیے ڈائریکٹر سطح کا افسر مقرر کرنے کا حکم دیا۔ جعلی اسٹامپ پیپر اور فارن کرنسی سے متعلق درخواست 2010 میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔