کوچز کا ’’جمعہ بازار‘‘

اعلیٰ حکام کا رویہ متکبرانہ ہے، پی ایس ایل کا بھی انھوں نے حشرنشر کر دیا۔


Saleem Khaliq August 21, 2020
اعلیٰ حکام کا رویہ متکبرانہ ہے، پی ایس ایل کا بھی انھوں نے حشرنشر کر دیا۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD: کچھ عرصے پہلے کی بات ہے ایک سابق کرکٹر کو پی سی بی سے کال آئی کہ ''کچھ باتیں ہمارے حق میں کر دیں آپ کو کہیں فٹ کرا دیں گے'' ان کا جواب تھا کہ مجھے نوکری کی ضرورت نہیں ہاں البتہ جہاں مجھے کوئی اچھا کام ہوتا محسوس ہوا توضرور تعریف کروں گا'' یقیناً ایسی کالز اوربھی کرکٹرز کوبھی گئی ہوں گی۔

محمد یوسف کا انداز گذشتہ کچھ دنوں سے بدلا بدلا لگ رہا تھا، مصباح الحق اور یونس خان کو کوچنگ کرتے دیکھ کر ان کا دل بھی للچا رہا ہو گا، ایک بار پہلے وہ سیٹ ہونے کی ناکام کوشش کر چکے تھے، اب موقع ملا تو فوراً تیار ہو گئے،ان کے ساتھ دیگر کئی سابق کرکٹرز کو بھی ملازمتیں مل گئیں، میں ہرگز اس کے خلاف نہیں، ان کھلاڑیوں کی ملک کیلیے خدمات ہیں جن کا صلہ ملنا چاہیے لیکن کیا بورڈ نے واقعی کرکٹ کی بہتری کیلیے یہ کیا؟ افسوس ایسی بات نہیں ہے، میڈیا میں آ کر شور مچانے والے بعض پلیئرز کو فٹ کر دیا گیا،چند سفارشیوں کی بھی لاٹری کھل گئی، فیصل اقبال بلوچستان کی فرسٹ الیون کے کوچ بن گئے شاید اب ماموں جاوید میانداد کی میڈیا میں گھن گرج تھوڑی کم ہو جائے۔

مصباح الحق کے بعض دوست بھی ایڈجسٹ ہو گئے، آپ یہ بات نوٹ کر لیں ہائی پرفارمنس سینٹر سفید ہاتھی ثابت ہوگا، ایک ایسے وقت میں جب دنیا پیسے بچا رہی ہے پی سی بی پانی کی طرح بہانے کے پلانز بنا رہا ہے، وسیم خان چونکہ برطانوی ہیں اوراحسان مانی کا زیادہ تر وقت بھی وہیں گذرا ہے تو انھیں گورے اسٹائل والے لوگ بیحد پسند ہیں، برطانوی شہریت کے حامل ندیم خان اور ثقلین مشتاق پہلے آئے، ان کے بعد اب محمد زاہد اور عتیق الزماں کا بھی تقرر ہوگیا، زاہد بہت اچھے فاسٹ بولر تھے مگر انجری کی وجہ سے کیریئر محدود رہ گیا، مگر کوچنگ میں ان کے کیا کارنامے ہیں؟ طویل عرصے سے وہ انگلینڈ میں مقیم ہیں کیا انھیں پاکستانی کرکٹ کے بارے میں کچھ پتا ہے؟ بس کسی میڈیا والے یا کھلاڑی نے نام دے دیا تو آپ نے بلا لیا،اسی طرح عتیق الزماں کو تو پی ایس ایل فرنچائز لاہور قلندرز نے اپنے میچز میں آنے سے روک دیا تھا اور وہ ہوٹل تک محدود رہے تھے۔

ان کا ڈسپلن کے حوالے سے سابقہ ریکارڈ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے مگر اب بورڈ نے بڑی ذمہ داری سونپ دی، چند برس قبل ندیم خان لیول تھری کوچنگ کورس کلیئر نہیں کر سکے تھے اور اس میں ان کے 25 فیصد نمبر آئے تھے، اب وہ کوچ ایجوکیشن کو مانتے ہی نہیں ہیں، ان کے انڈر بڑے بڑے کرکٹرز کام کریں گے، مگر ظاہر ہے کہ یوسف کو بھی چیک پر لکھے ہندسوں سے ہی مطلب ہوگا، پی سی بی کو ملک میں رہنے والے کوالیفائیڈ کوچز کا تقرر کرنا چاہیے تھا، یوسف اور عبدالرزاق جیسے کھلاڑیوں کو انڈر16اور19کرکٹرز کی رہنمائی کا کام سونپتے اس سے فائدہ ہوتا، حالیہ فیصلہ صرف ہم خیال لوگوں کا گروپ بڑھانے کی کوشش ہے،ایک طرف ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلی کے نام پر سیکڑوں موجودہ کرکٹرز کو بے روزگارکیا اور اب سابق کرکٹرزکو مسلسل ''روزگار'' فراہم کیا جا رہا ہے، کیا پی سی بی ملازمتیں فراہم کرنے والا کوئی ادارہ ہے۔

اگر آپ کو واقعی کرکٹ کی خدمت کرنا ہے تو ایسے کوچز کی خدمات لیتے جو نئے سیٹ اپ میں ملازمتیں گنوا بیٹھے تھے مگر ظاہر ہے ایسا نہیں کرنا تھا، عالمی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں معاملات جمود کا شکار ہیں، مگر پی سی بی ہائی پرفارمنس سینٹر کے نام پر خوب تقرریاں کر رہا ہے، کون سا فوراً سرگرمیاں شروع ہو رہی ہیں تھوڑا انتظار ہی کر لیتے، ایک طرف ڈپارٹمنٹس ختم کرنے کے باوجود دوسرے سال بھی ان کے نمائندے گورننگ بورڈ میں شامل ہیں، آئین پر عمل درآمد نہیں ہورہا، دوسری جانب ہائی پرفارمنس سینٹر میں خوب پھرتیاں دکھائی جا رہی ہیں، اگر آپ کوچز کی تنخواہیں دیکھیں تو یہ کروڑوں میں بنیں گی۔

چند کو بس دکھاوے کیلیے نکالا گیا، بورڈ کی کوشش یہی ہے کہ بس کوئی تنقید کرنے والا کرکٹر باقی نہ رہے، موجودہ انتظامیہ کی خوش قسمتی ہے کہ 95 فیصد میڈیا اس کا حامی ہے، بہت کم ہی تنقید ہوتی ہے، اس کے باوجود اتنے خوف کی وجہ سمجھ سے باہر ہے، شاید حد سے زیادہ تنازعات اور ٹیم کی پرفارمنس وجوہات ہیں، حقیقت کو دیکھا جائے تو احسان مانی کو تو اب پی سی بی کے معاملات میں زیادہ دلچسپی باقی نہیں رہی، وہ 2 ماہ سے انگلینڈ میں چھٹیاں منا رہے ہیں، وسیم خان بھی ایک ماہ سے اپنے ملک انگلینڈ میں ہی ہیں، پی سی بی ان دنوں ویڈیو لنک پر چل رہا ہے کوئی سمت نظر نہیں آتی، عمر اکمل کیس کی ہی مثال دیکھ لیں کیا کچھ نہیں ہو رہا اس پر اگلے کالم میں تفصیل سے بات کریں گے۔

اعلیٰ حکام کا رویہ متکبرانہ ہے، پی ایس ایل کا بھی انھوں نے حشرنشر کر دیا، اعلیٰ حکومتی شخصیات بھی ان سے خوش نہیں مگر چونکہ وزیر اعظم عمران خان کو ان دنوں کئی سخت چیلنجز کا سامنا ہے اس لیے وہ کرکٹ کے معاملات پرتوجہ نہیں دے پا رہے، احسان مانی پر ان کو اعتماد بھی بہت زیادہ ہے، اسی کا وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں،ابھی تو چلیں کورونا کی وجہ سے کرکٹ نہیں ہو رہی اس سے پہلے گراس روٹ لیول پر کیا ہو رہا تھا، کراچی کی ہی بات کر لیں یہاں کتنے ٹورنامنٹس ہوئے؟

امریکا کا ویزا لینا آسان ہے مگر کسی کلب کرکٹ ٹورنامنٹ کی اجازت لینا حد سے زیادہ دشوار بنا دیا گیا، نئے سیٹ اپ میں ویسے ہی غریب کا بچہ نہیں کھیل سکے گا، ہو سکتا ہے بعض لوگ سوچیں کہ بورڈ نے یوسف اور عبدالرزاق جیسے عظیم سابق کرکٹرز کو ذمہ داری سونپ دی اور یہ تنقید کر رہا ہے مگر آپ کچھ عرصے بعد دیکھ لیجیے گا ان کی تقرری کا کوئی فائدہ سامنے نہیں آئے گا،کوچز کی صلاحیت اور بڑا پلیئر ہونا دو الگ چیزیں ہیں، وقت یہ ثابت بھی کر دے گا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)