ایگریکلچرل اینڈ فوڈ پالیسی تیارکرلیسکندرحیات بوسن

پاکستان آئل اسیڈزڈیولپمنٹ بورڈکوفعال کرنے کیلیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں


APP December 15, 2013
زرعی تجارت میں مڈل مین کاکردارختم کرنے سے کسان خوشحال ہوگا، سیمینار سے خطاب فوٹو : فائل

وفاقی وزیر سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سکندرحیات بوسن نے کہاہے کہ وزارت نیشنل فوڈ اینڈ ریسرچ نے حال ہی میں ایگریکلچرل اینڈ فوڈ پالیسی بنائی ہے تاکہ زرعی شعبے کی ترقی اورتحفظ خوراک کویقینی بنایاجاسکے۔

پاکستان آئل سیڈزڈیولپمنٹ بورڈکو بھی فعال کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ وفاقی سطح پر آئل سیڈ کے سیکٹر کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جاسکے، 18ویں ترمیم کے تحت مختلف وزارتیں صوبوں کومنتقل کی گئیں جس میں وزارت خوراک وزراعت بھی شامل تھی، اس اقدام سے زرعی شعبے کو کئی ایک مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں ''سور ج مکھی '' سے متعلق منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر رکن قومی اسمبلی ملک عبدالغفار ڈوگر، منیجنگ ڈائریکٹر پی او ڈی بی سید محمدناصرعلی، عبدالواہاب، سردار صلاح الدین خان کھوسہ، ساجد محمود ودیگرنے بھی خطاب کیا۔

سکندر حیات بوس نے کہاکہ موجودہ حالات میں زرعی شعبے کو اس کاصحیح مقام دلانا بہت ضروری ہے تاکہ اس شعبے میں ترقی ہواورکاشت کارکی آمدنی بڑھے جس سے ملکی معیشت میں بھی بہتری آئے گی، ہمیں اپنے موجودہ وسائل کے اندررہتے ہوئے زرعی ترقی کویقینی بنانا ہے، مستقبل میں افراط زر پر کنٹرول کے لیے زرعی مصنوعات کی خریداری اور فروخت میں مڈل مین کا کردار کم کیاجائے گا اور کاشتکار مارکیٹ میں ان کی فصلوں کی تجارت میں مڈل مین کے کردار کے خاتمے کے بعد خوشحال ہو جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ سورج مکھی ایک نقد آورفصل ہے اور نسبتاَ کم وقت میں تیار ہوجاتی ہے، یہ فصل کاشتکارکوخاطر خواہ منافع فراہم کرتی ہے، گزشتہ چند سال میں اس فصل کا زیرکاشت رقبہ کم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں کاشتکاروں کوتیلدار اجناس کی طر ف راغب کرناہوگا۔