ایک سال میں 380 میگاواٹ بجلی کے منصوبے مکمل کیے واپڈا

پانچ سے7 سال کےعرصے میں 2 اعشاریہ 5 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور13ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے مکمل کرے گا


APP December 16, 2013
پانچ سے7 سال کےعرصے میں 2 اعشاریہ 5 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور13ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے مکمل کرے گا۔ فوٹو: فائل

واپڈا نے ایک سال کے قلیل مدتی پلان کے تحت3 اعشاریہ98ملین ایکڑفٹ پانی ذخیرہ کرنے اور 380 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے منصوبے مکمل کرلیے جبکہ وسط مدتی پلان کے تحت 5 سے 7 سال کے عرصے میں 2 اعشاریہ 5 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور 13 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے مکمل کرے گا۔

اسی طر ح اگلے 7 سے10 سال میں طویل مدتی پلان کے تحت 15ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ اور 15 ہزار میگاواٹ بجلی پیداکرنے کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ واپڈا ترجمان نے اے پی پی کو بتایا کہ واپڈا ملک میں پانی اور پن بجلی کے وسائل سے بھر پور طور پر استفادہ کرنے کی غرض سے وفاقی حکومت کی ہدایت کی روشنی میں ایک جامع حکمت عملی پر کام کر رہا ہے، نیزپانی اور پن بجلی کے متعدد منصوبے اپنی تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں جن کے مکمل ہونے پر ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور نیشنل گرڈ میں کم لاگت پن بجلی کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سال کے قلیل مدتی پلان کے تحت3 اعشاریہ98ملین ایکڑفٹ پانی ذخیرہ کرنے اور تقریباً380 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے منصوبے تقریباً مکمل ہوچکے ہیں۔

وسط مدتی پلان کے تحت 5 سے 7 سال کے عرصے میں 2اعشاریہ5ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور 13 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے جبکہ اگلے 7 سے10 سال میں طویل مدتی پلان کے تحت 15ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ اور 15 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے تعمیر کیے جائیں گے۔ ترجمان نے بتایا کہ ملک میں پانی کے ذریعے 60 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی نشاندہی کی جاچکی ہے اور اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ4500 میگاواٹ کا دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ ، 4320میگاواٹ کا داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 7100 میگاواٹ کا بونجی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تعمیراتی کام کیلیے تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1410میگاواٹ کے تربیلا چوتھے توسیعی پن بجلی منصوبے کا کنٹریکٹ ایوارڈ کیا جاچکا ہے جبکہ دیگر زیر تعمیر منصوبوں بشمول نیلم جہلم اور گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کی رفتار کو تیز کیا جارہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پانی بجلی پیدا کرنے کا سستا ترین ذریعہ ہے اور پن بجلی کی صلاحیت کو بروئے کار لا کر صارفین کو بجلی کے نرخو ں میں خاطر خوا ہ ریلیف بہم پہنچایا جائے گا۔