تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

وفاقی حکومت نے 15ستمبر سے پہلے مرحلے میں میٹرک، کالجز اور یونیورسٹیوں کی حد تک تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔


Editorial September 09, 2020
وفاقی حکومت نے 15ستمبر سے پہلے مرحلے میں میٹرک، کالجز اور یونیورسٹیوں کی حد تک تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ (فوٹو: فائل)

قوم کو مبارک ہو کہ ملک بھر میں مادر علمی کے دروازے چند روز میں کھلنے کی نوید ملی ہے۔ کوئی انہونی نہ ہو تو ''علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب'' کے تعلیمی ترانہ کی گونج اب ہر طرف سنائی دے گی۔ وفاقی حکومت نے 15ستمبر سے پہلے مرحلے میں میٹرک، کالجز اور یونیورسٹیوں کی حد تک تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس کے ایک ہفتے بعد اگر کورونا وائرس کے حالات ٹھیک رہے تو دوسرے مرحلے میں23 ستمبر کو چھٹی سے آٹھویں تک کی کلاسیں کھول دی جائیں گی۔ اس کے مزید ایک ہفتے بعد 30 ستمبر کو پہلی تا پانچویں تک پرائمری کلاسیں بھی کھول دی جائیں گی۔ یہ فیصلہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں کیا گیا ہے جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے وزرائے تعلیم نے شرکت کی۔

یہ بے حد خوش آیند فیصلہ ہے، ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا ہے، طالب علموں کو اس فیصلہ سے جو خوشی ہو رہی ہے اس کا تصور بھی محال ہے، کیونکہ کورونا وائرس کی آمد سے نہ صرف دنیا کے تعلیمی نظام کو شدید دھچکا لگا بلکہ رفتہ رفتہ اس نے دنیا کی مستحکم اور مضبوط ترین معیشتوں کی بنیادیں ہلا دیں، مادر علمی اور طالب علموں میِں فاصلے بڑھ گئے، اقوام متحدہ کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ2016 کے مطابق کورونا کووڈ 19 نے کمزور معیشتوں کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے، نوع انسانی ایک بلائے ناگہانی کی لپیٹ میں آگئی۔ مصطفیٰ زیدی کا شعر ہے:

کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی

مضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا

واقعی ! کورونا نے سفینہ علم کو طوفان کی نذر کیا، جامعات و کالجوں اور اسکولوں کے لاکھوں طلبا و طالبات کا سلسلۂ تعلیم منقطع ہوگیا اور آن لائن کی سہولت بھی صد فیض رسانی کا ہدف پورا نہیں کرسکی، نظام تعلیم پر ایسا برا وقت کبھی نہیں آیا۔ تاہم صورتحال اب تعلیمی منظرنامہ کے حوالہ سے خاصی بدلی ہے، قوم نے متحد ہوکر کورونا سے نمٹنے کا سنگ میل عبور کیا ہے، وزارت تعلیم نے اپنا وعدہ پورا کرلیا اور مرحلہ وار درس وتدریس کے سلسلے کا جلد آغاز ہو رہا ہے، وزیر تعلیم کے اعلامیہ کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔

تعلیمی اداروں میں کورونا وائرس کے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا، طلباء کو ماسک کے ساتھ تعلیمی اداروں میں داخل ہونے دیا جائیگا، بڑی کلاسیں کھولنے کے بعد کورونا وائرس کے کیسز کو مانیٹر کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

پیر کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 13مارچ کو اسکول بند کرنے کا مشکل فیصلہ کیا تھا، کورونا کے دوران بچوں کے امتحانات لینا ناممکن تھا، حالات کا جائزہ لے کر تمام فیصلے کیے گئے تھے۔ اس آگاہی مہم میں ان تعلیمی ماہرین، دانشوروں اور اسکالرز کی آرا کو بھی شامل کرنا چاہیے جو تعلیمی تعطل کے باعث طالب علموں اور اساتذہ کے ذہنوں میں پیدا ہوئے، ان میں بنیادی بحث طبقاتی تعلیم کے خاتمہ، نصاب کی یکسانیت، تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش اور تعلیمی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان کا آئین ہر شہری کو ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کا حق دیتا ہے۔ ریاست اس امر کی پابند ہے کہ مفت پرائمری تعلیم لازمی ہو تاکہ خواندگی کا ارتقا نہ رکے، قوم میں علم کی روشنی پھیلے، جہالت، تنگ نظری اور انتہا پسندی کے وحشیانہ اسباب کا سدباب ہو جو ناخواندگی کے بطن سے جنم لیتے ہیں۔

ماہرین تعلیم سے زیادہ کون اس تلخ حقیقت سے واقف ہوگا کہ طبقاتی تعلیم نے اس ملک میں سماج، سیاست، معیشت، تجارت، انسانی تعلقات اور نظام اقدار کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے، نظام تعلیم میں شرط شفاف امتحانی نظام کی ہے، ایک رپورٹ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح تشویشناک ہے جب کہ مالی مشکلات، سماجی بندشوں اور جاہلانہ رسوم و رواج کی سختیوں کی وجہ سے تعلیم منقطع کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے، بلوچستان، خیبر پختونخوا اندرون سندھ اور پنجاب کے دور افتادہ گاؤں، دیہات میں خواندگی پر زبردست مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

کورونا وائرس کے دباؤ اور غربت و مہنگائی نے بھی تعلیمی تسلسل کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا، ادھر نجی جامعات اور سرکاری اسکولوں کے امتحانات اور داخلہ و انرولمنٹ کے اخراجات میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے، متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے اپنے بچوں کو پڑھانا کسی آزمائش سے کم نہیں۔ ارباب اختیار اولین فرصت میں تعلیم و صحت کے معاملات کو سنجیدگی سے پیش نظر رکھیں، وزارت تعلیم کو جدید تعلیمی نظام کی بقا، علم کے تسلسل، کتب بینی کے فروغ اور معاشرتی استحکام کے اپنے اہداف کا انڈیکس نمایاں کرنا ہوگا۔ لازم ہوگا کہ پی ٹی آئی حکومت تبدیلی کے سیاسی نعرے کو تعلیمی نشاۃ ثانیہ سے منسلک کرے اور قوم میں شعور اجاگر کرنے کا کام تعلیمی ٹاسک فورسز کو اس مقصد سے سونپے کہ ناخواندگی ناسور ہے۔

بلاشبہ یہ تمام ہدایات وزارت تعلیم کی تشہیری مہم سے مشروط ہونی چاہیئں جو آیندہ آنے والے تعلیمی مراحل میں طالب علموں کی رہنمائی کریں گی۔ ارباب اختیار کورونا وائرس کے ''رسک فیکٹر'' کو ذہن میں رکھیں، صوبائی حکومتوں اور کورونا کے خلاف برسرپیکار فرنٹ لائن ڈاکٹروں نے محتاط طریقے سے خبردار کیا ہے کہ تعلیمی چار دیواریوں میں داخلے کے وقت ایس او پیز کی مکمل پابندی ناگزیر ہے، طالب علم ماسک ضرور پہنیں، سماجی فاصلہ برقرار رکھیں، تعلیمی اوقات کے بعد بھی سوشل اجتماعات سے گریز کریں تاکہ کورونا کی ممکنہ ''لہر'' سے محفوظ رہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کورونا سے ہونے والی تباہی تعلیم کے شعبے میں ہونے والی سب سے بڑی تباہی ہے۔ یہ حقیقت اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے چھٹے گنجان آبادی والے ملکوں میں کیا جاتا ہے، اسے تاحال کئی اعصاب شکن چیلنجز درپیش ہیں لیکن تعلیمی چیلنج ان سب میں بڑا ہے۔ البتہ کورونا نے چشم کشا تجربات، مشاہدات اور تصورات کو بھی جنم دیا ہے، انھیں بھی دیکھنا ضروری ہے، سچ تو یہ کہ غریب کا بچہ اس ملک میں تعلیم کے لیے رات دن خود سے جنگ لڑتا ہے، اس کے لیے تعلیم حاصل کرنا مسابقت اور بقائے اصلاح survival of the fittest کا معاملہ ہے۔ اب حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ سستے، معیاری اور عہد حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام تعلیم کے کرسٹل و شفاف خواب کو شرمندۂ تعبیر کرے۔

مقبول خبریں