قائداعظم برصغیر کے عظیم سیاسی راہ نما

قائد اعظم کو ان کی شخصی عظمت کے حوالے سے قدرے فاصلے سے دیکھنا پڑتا ہے۔


نیاز سواتی September 11, 2020
قائد اعظم کو ان کی شخصی عظمت کے حوالے سے قدرے فاصلے سے دیکھنا پڑتا ہے۔ فوٹو : فائل

تصویر جتنی بڑی ہوتی ہے اسے اتنے ہی فاصلے سے دیکھنا پڑتا ہے۔ قائد اعظم برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کے وہ عظیم ترین راہ نما ہیں جن کے جامع کمالات کا جائزہ شاید ان کے اپنے دور میں ممکن نہ تھا۔

قائد اعظم کو ان کی شخصی عظمت کے حوالے سے قدرے فاصلے سے دیکھنا پڑتا ہے۔ ارسطو کا کہنا ہے کہ کسی چیز کا جائزہ اس وقت تک نہیں لیا جاسکتا جب تک کہ اس کی تمام تر تفصیلات و اثرات سامنے نہ آجائیں۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو آج تحریک پاکستان اور قائداعظم کے کردار و شخصیت کے جائزے کا یہ مناسب ترین وقت ہے۔

دنیا میں بہت کم ایسے قائدین پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے عام سیاسی مسائل سے ہٹ کر کسی نظریے کی بنیاد پر ایک ریاست کے قیام کی جدوجہد کی ہو اور ایسے قائدین کی تعداد تو بہت ہی کم ہے جو اس ریاست کو وجود پذیر ہوتے ہوئے دیکھ پائے ہوں۔

قائد اعظم اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر نہ صرف ایک ریاست قائم کرنے میں کام یاب ہوئے بلکہ اس ریاست کے پہلے سربراہ بھی قرار پائے۔ اس تاریخ ساز شخصیت کا ارتقائی جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قائد اعظم ہمیشہ سے دو قومی نظریے کے حامی نہیں رہے بلکہ اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میں آپ دادا بھائی نوروجی، سر فیروز شاہ مہتا اور سب سے بڑھ کر گوپال کرشنا گوکلے سے متاثر تھے۔ یہ تمام لوگ لبرل جمہوریت نواز، دستوریت پسند (Constitutionaist) اور قوم پرستوں میں شمار کیے جاتے تھے۔

1906 میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا مگر مسلم لیگ کی قدامت پرستانہ اور متذبذب پالیسیوں کی وجہ سے ابتدا میں قائد اعظم نے اس تنظیم میں کوئی کشش محسوس نہ کی۔ یہ صورت حال 1913 تک قائم رہی۔ یہاں تک کہ مسلم لیگ نے دستور میں ترمیم کرتے ہوئے اپنے نصب العین کی وضاحت کردی اور اسے ''برصغیر کے لیے ایک ایسے مناسب نظام کا قیام جو خود مختاری کی ضمانت دیتا ہو ''کو اپنی جدوجہد کی بنیاد بنالیا۔ قائد اعظم سمجھتے تھے کہ ہندو مسلم اتحاد کے بغیر برطانوی حکم رانوں سے کسی مطالبے کی منظوری ناممکن ہے۔

دیگر عوامل کے علاوہ قائد اعظم کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں کانگریس اور مسلم لیگ نے 1916 میں ''میثاق لکھنؤ'' پر دست خط کیے جس کی رو سے صوبوں میں اکثریت کی حامل ذمے دار حکومتوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ قائد اعظم کی ماہرانہ سفارت کاری نے کانگریس کو مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات پر رضامند کرکے ایک سنگ میل طے کرلیا۔ ہندو مسلم اتحاد کے لیے قائد اعظم کی مخلصانہ کوششوں کو ہندوستان کے تمام حلقوں میں سراہا گیا۔ قائد اعظم برصغیر کی فرقہ وارانہ فضا میں ٹھہراؤ لانے کی کوشش کرتے رہے مگر یہ کوشش ایک تاریخی دستاویز قرار پانے کے باوجود برصغیر کی فضا کو تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔

1936 اور 1937 کے صوبائی انتخابات میں مسلم لیگ کو بنگال اور کچھ مسلم اقلیتی صوبوں کے علاوہ ہندوستان بھر میں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندو اکثریتی صوبوں میں قائم ہونے والی کانگریس حکومتوں نے مسلمانوں کے خلاف بے جا تعصب اور جانب داری کا رویہ اختیار کیا۔ کانگریس حکومتوں کے متعصبانہ رویے نے مسلمانان ہند کے ذہنوں میں اس تاثر کو پختہ کردیا کہ کانگریس کی حکومت کا مطلب دراصل ہندو انتہا پسندوں کا تسلط ہی ہوگا۔

کانگریس راج کے تجربے نے قائد اعظم کے دل میں مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے خیال کو جاگزیں کردیا۔ مارچ 1940 کو لاہور میں منعقد ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس نے بحیثیت سیاسی جماعت دو قومی نظریے کو مسلم لیگ کا بنیادی نظریہ قرار دے دیا۔ اس اجلاس نے برصغیر کی تاریخ کو نئے سرے سے مرتب کیا۔ مسلم لیگ نے اگلے سات سال اپنی سیاست کا محور قیام پاکستان کو قرار دیا۔ 1945 میں مسلم لیگ نے ''بن کے رہے گا پاکستان'' کے ایک نکاتی ایجنڈے پر انتخابات میں حصہ لیا اور مسلمانوں کے لیے مختص کی گئی تمام نشستوں پر بھرپور کامیابی حاصل کرلی۔

جون 1946 میں مسلم لیگ نے قیام پاکستان کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارتی مشن کے منصوبے کو منظور کرلیا، کیبنٹ مشن پلان کی مسلم لیگ کی طرف سے منظوری میں شمالی ہند کے مسلم راہ نماؤں کا بھی اہم کردار تھا۔ اس کا سبب مسلم اقلیتی صوبوں کے لیے تقسیم کے بغیر ہی زیادہ سے زیادہ حقوق کا حصول تھا۔ کیبنٹ مشن کا منصوبہ تین سطحی طرز حکومت کا خاکہ پیش کرتا تھا، جس میں مرکز کو صرف تین محکمے یعنی دفاع، خارجہ اور مواصلات (بمع ضروری مالیات) دیے گئے تھے۔ اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ اس کی تجاویز میں صوبوں کی گروپنگ میں پنجاب اور بنگال جیسے مسلم اکثریتی صوبوں کو تقسیم کیے بغیر ایک دوسرے سے منسلک کرنے کی پوری گنجائش موجود تھی۔

اس طرح کیبنٹ مشن قیام پاکستان کے ایک سنگ میل کے طور پر قابل قبول تھا۔ بہت سے غیر جانب دار محققین کے نزدیک کیبنٹ مشن کی تجاویز برصغیر کے مسئلے کا بہترین حل پیش کرتی تھیں۔ اسی لیے قائد اعظم کے دوررس ذہن نے اس منصوبے کی مخالف سے گریز کیا۔ لیکن کانگریس کے رویے نے اس منصوبے کو تکمیل سے ہم کنار نہ ہونے دیا۔ ان تاریخی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے قائد اعظم کی شخصیت کے اس پہلو کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ انھوں نے برصغیر کی آزادی کے لیے اپنا بھرپور سیاسی کردار ادا کیا۔ ان کا مطمع نظر برصغیر سے برطانوی سام راج کا خاتمہ تھا، وہ اس خطے کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کروانا چاہتے تھے۔

اس مقصد کے لیے انھوں نے سیاسی حریفوں سے مصالحت کی ہر ممکن کوششیں کیں اور ان کاوشوں میں ناکامی کے بعد ہی انھوں نے مطالبہ پاکستان کو سیاسی حل کے طور پر قبول کیا اور اس پر ثابت قدم رہے۔