فوج میں جانے کا شوق تھا مگر تقدیر فلموں میں لے آئی بہار بیگم

ہم اتنا گر گئے ہیں کہ اٹھنے میں وقت لگے گا، بہار بیگم سے گفتگو


Qaiser Iftikhar December 17, 2013
ہم اتنا گر گئے ہیں کہ اٹھنے میں وقت لگے گا، بہار بیگم سے گفتگو۔ فوٹو : فائل

پاکستان فلم انڈسٹری کے سنہرے دور کا زکرکیا جائے توبات بہت سے منفرد کرداروں میں جلوہ گر ہونے والی ورسٹائل اداکارہ بہار بیگم کی فن کی بلندیوں کا تذکرہ کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔

وہ گزشتہ چار دہائیوں سے اپنی لازوال اداکاری سے ایک مستند مقام حاصل کرچکی ہیں۔ بہار بیگم نے سینکڑوں فلموں میں یادگار کردار کیے جوشائقین کے لیے ناقابل فراموش ہیں۔ کبھی انہیں ہیروئن کا کردار دیا گیا تو کبھی انہیں بہن اور ماں کے کردارملے لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنے کرداروں میں حقیقت کے رنگ بھرے اور ان کرداروں کوہمیشہ کے لیے امر کردیا۔

انہیں بہترین اداکاری پربہت سے ایوارڈ اوراعزازت سے نوازا گیا جبکہ حکومت پاکستان کی طرف سے بھی ان کی فلم انڈسٹری کیلئے گراں قدر خدمات پر اعلیٰ سول اعزازدیا گیا۔ بہار بیگم نے اپنے طویل فنی سفر کے خوبصورت اور یادگار لمحوں کا تذکرہ '' نمائندہ ایکسپریس'' کوخصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا، جو قارئین کی نذر ہے۔

بہار بیگم نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بچپن سے شوق تھا کہ میں آرمی میں جاؤں مگرمیرے نصیب میں اداکارہ بننا تھا ، جس کا مجھے بالکل پچھتاوا نہیں ہے۔ جب میں نے پہلی فلم میں خود کوسکرین پر دیکھا تو دنگ رہ گئی لیکن اس طرف آنا حادثاتی طور پرہوا۔ میں ایک مرتبہ اپنے رشتہ داروں کے ہاں چھٹیاں گزارنے کیلئے کراچی گئی ہوئی تھی۔ اس موقع پر سب لوگ ریس کورس جا رہے تھے جن کے ساتھ میں بھی چلی گئی۔ وہاں کمال پاشا صاحب سے ملاقات ہوئی جو میرے ماموں کے جاننے والے تھے۔

انہوں نے ماموں سے پوچھا '' ایہہ کڑی کون اے'' اور اسے کہاں چھپایا ہوا تھا۔ اگلے ہی روزوہ گھر آگئے اور ان کا کہنا تھا کہ میری فلم ''سرفروش'' ریلزہوئی ہے، اگر یہ فلم ہٹ ہوگئی تواگلی فلم میں وہ مجھے بطورہیروئن سائن کرینگے۔ ان کی فلم کو اچھا رسپانس ملا دوسری جانب فیملی کے سب لوگوں نے بھی مجھے فلم میں کام کرنے کی آفرکوسپورٹ کیا۔ یوں میں ان کی فلم''چن ماہی'' کی ہیروئن بن گئی۔ جس کے بعد میں ایک مہینہ لگاتارسٹوڈیو جاتی رہی حالانکہ میں پنجابن تھی مگر مجھے پنجابی بولنی نہیں آتی تھی۔ بابا سیاہ پوش وغیرہ نے کہا کہ اگر تم پنجابی بولو گی تو ہم تمہیں پانچ روپے دیں گے اس لالچ میں پنجابی بولنا شروع ہوگئی۔

اس کے ساتھ ماسٹرعاشق حسین سمراٹ کومجھے ڈانس سکھانے پر لگا دیا گیا جوکئی ماہ تک مجھے رقص کی تربیت دیتے رہے لیکن انہوں نے تھک ہار کر کہا کہ ''یہ تو لکڑی کی بنی ہوئی لڑکی ہے'' یہ نہیں سیکھ سکتی۔ دوسری جانب پاشا صاحب اداکاری میں نکھارلانے کیلئے ہر وقت میری رہنمائی کرتے رہتے تھے۔ وہ مجھے اپنے بچوں کی طرح سمجھتے تھے۔ان کی ہدایت تھی کہ ناول پڑھا کرو لیکن چلتے چلتے اور شیشہ سامنے رکھ کر ۔ آج کل توبچیاں گھر سے ہی سیکھ کر آتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی ''پرفارمنس'' سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب میں فلموں میں ہیروئین کے طور پر کام کرتی تھی تومیں نے زیادہ کام اداکاراسلم پرویزمرحوم کے ساتھ کیا، سنتوش بھائی کے ساتھ زیادہ فلمیں نہیں کیں لیکن ان کی آغوش میں ہی بڑی ہوئی ہوں۔ ان کے ساتھ ایک فلم ''آزاد'' میں زبردستی کام کرنا پڑا۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہا کہ ''الو کی پٹھی تم نے یہ کیوں کہا کہ میرے ساتھ کام نہیں کرنا'' میں نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ کام نہیں کرسکتی، کیونکہ آپ کے ساتھ میرا رشتہ ہی الگ ہے۔ ایک فلم میں لالہ سدھیر کی ماں بنانے لگے تومیں نے کہا کہ میں تو ان سے چھوٹی ہوں۔ اس طرح بہت سے کرداروں کو ادا کرنے سے انکاربھی کرنا پڑا۔ اس دوران جب میری شادی ہوگئی تومیں نے 9 سال تک کام نہیں کیا، فلم انڈسٹری سے دورہونے کا فیصلہ میرا تھا اس کے لیے مجھے کسی نے زور نہیں دیا تھا۔

بہار بیگم نے کہا کہ سیکنڈ فیز میں ساڑھے پانچ سو فلمیں کیں۔ جب میں نے کام شروع کیا اس وقت فلم انڈسٹری میں 12 ہیروئین کام کررہی تھیں مگر ہمارا کبھی آپس میں جھگڑا نہیں ہوا۔ نہ کوئی ایک دوسرے سے حسد کرتا تھا۔ کبھی ہم نے نمبرون کا لفظ نہیں سنا تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایک فنکاراپنے کام کی بدولت اپنے آپ کومنواتا ہے اور پھر نمبر دینا فلم بینوں کا کام ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں خود کو نمبر دینے والے اس وقت کو یاد کرکے آج بھی آنسو بہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلطان راہی مرحوم کے زمانے میں کئی کئی دن تک گھر کی شکل نہیں دیکھتی تھی کیونکہ 24 گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا۔

سلطان راہی مجھے عورتوں کی راہی کہتے تھے۔ آج کل تونہ فلم کا سکرپٹ ہوتا ہے اور نہ مکمل ڈائیلاگ، پہلے تو کئی کئی دن گانے کی بھی ریہرسل ہوتی تھی۔ اب ریڈی میڈکام ہوتا ہے ٹی وی میں تو کمرشل کام چلتا ہے لیکن فلم میں نہیں۔ جب گانا بنتا تھا تو ڈائریکٹر کے ساتھ میوزک ڈائریکٹر اور ڈانس ڈائریکٹر بھی موجود ہوتے تھے۔ اب فلم نہیں بن رہی فیتہ لپیٹا جارہا ہے۔

فلموں کے گانے بھی عجیب سے ہوتے ہیں لڑکی ایسے لگتی ہے جیسے ''بازارحسن'' سے آئی ہو۔ جہاں تک انڈسٹری کا سوال ہے تو ہم لوگ اس کی بہتری کیلئے زبانی باتیں کرتے ہیں مگر عملی طور پرکچھ نہیں کرتے۔ جن لوگوں نے انڈسٹری سے سب کچھ کمایا ، آج وہ گھروں میں بیٹھے ہیں۔ جب یہ لوگ خاموش ہیں تو پھر باقی لوگ کیوں آگے آئیں۔ ہماری فلم اچھی ہے یا بری ہم اپنی ہی فلم کو لفٹ نہیں کراتے۔ اپنی فلموں کو سینما تک نہیں دیتے، ہم لوگ اتنا نیچے گر گئے ہیں کہ اٹھنے کیلئے وقت لگے گا۔ سب سے زیادہ ریونیو فلم انڈسٹری دیتی ہے مگر اس کیلئے آج تک کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات دیکھ کر دکھ ہوتا ہے اور اندر سے دل جلتا ہے۔ پروڈیوسرز نے انڈسٹری سے گھر، بزنس اور سینما گھر بنا لیے ۔ مگراب یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم فلم کیوں بنائیں، ہماری فلم کو تو سینما ہی نہیں مل رہا۔ اب لوگ ''گجر برانڈ'' فلم کی بجائے اچھی فلم دیکھنا چاہتے ہیں۔ لوگ آج بھی ''چوڑیاں'' یاد کرتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کی ہر انڈسٹری کی سپورٹ کیلئے حکومت اپنا کردار ادا کرتی ہے مگر ہماری بدقسمت انڈسٹری کے سر پر کسی حکومت نے ہاتھ نہیں رکھا۔ ہم نے دو دفعہ گورنر ہاؤس لاہورمیں سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ اس موقع پرسابق گورنر پنجاب سلمان تاثیرمرحوم بھی موجود تھے۔ سابق صدرنے ہمیں یقین دلایا کہ وہ فلم انڈسٹری کیلئے بہت کچھ کرکے رہیں گے مگر آج تک کچھ نہیں ہوا۔ فنکاروں کو کم از کم ایئرپورٹ پر ہی '' وی آئی پی'' کی سہولت مہیا کردی جاتی۔ حکومت چاہتی ہے کہ فنکاروں سے صرف ٹیکس وصول کیا جائے مگر سہولت کوئی نہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری انڈسٹری میں دوغلا پن اور منافقت بہت زیادہ ہے۔ اگردیکھا جائے تو آج جن فنکاروں، فلمسازوں، ہدایتکاروں کے پاس کوٹھیاں اور قیمتی گاڑیاں ہیں وہ سب فلم انڈسٹری کی وجہ سے ہی ہیں۔ اگر ہم لوگ کسی دوسرے شعبے میں کام کرتے ہوتے تواتنی عزت، شہرت اور دولت نہ کماپاتے، جتنی فلم انڈسٹری سے ہمیں ملی ہے۔ ہر کاروبار میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے لیکن جب تک سب لوگ ایمانداری سے کام نہیں کریں گے حالات میں بہتری ممکن نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بہاربیگم نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ماضی کی جوشاہکار فلمیں ٹی وی کے لیئے ری میک کی گئی ہیں وہ زیادہ اچھی نہیں تھیں یہ ان فلموں کو ضائع کرنے والی بات ہے۔ میں نے ''دیور بھابی'' دیکھی تھی جس میں سمیع خاں نے بہت اچھا کام کیا، لیکن اداکارہ صائمہ ماضی کی سپرسٹار صبیحہ بھابھی بن جائیں، یہ بہت مشکل کام ہے۔ صبیحہ خانم بڑی اداکارہ ہیں اور کوئی ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔ سلطان راہی کے بچوں نے باپ کا نام ہی ختم کردیا۔ ریما اور میرا سمیت دیگر فلمی ہیروئنوں نے آرٹسٹ بننے کی کوشش ہی نہیں کی۔ یہ صرف خود کو ''ایکٹرس'' سمجھتی رہی ہیں۔ انہوں نے صرف یہی مقصد سامنے رکھا کہ کوٹھیاں کتنی بنانی ہیں، پیسہ کتنا اکٹھا کرنا ہے۔ اگر میں چاہتی تو چارکوٹھیاں بنا سکتی تھی لیکن میں نے ایک ہی گھر بنایا، میں بھی گھ میں چار گاڑیاں کھڑی کرسکتی تھی۔

اپنے یادگار واقعات کا زکرکرتے ہوئے بہار بیگم نے بتایا کہ ''سوہنی کمہارن'' کی شوٹنگ کے دوران گھڑے سے پھسل کرنہر میں گئی ، اس موقع پراگر لائٹ مین فوری طورپرمجھے نہ بچاتے توشاید آج میں زندہ ہی نہ ہوتی۔ اسی طرح ایک مرتبہ کالا باغ کے علاقے میں شوٹنگ کرتے ہوئے ایک سین کے دوران دریا میں گرگئی مگر اللہ پاک نے بچالیا۔ اس کے علاوہ ایک فلم کے سین میں اونٹ پربیٹھی تو اٹھتے وقت اونٹ نے ایسا جھٹکا لگایا کہ نیچے گرگئی مگر محفوظ رہی۔ شوٹنگز کے دوران چھوٹے موٹے حادثات ہوتے رہے مگر ہر بار اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔

انٹرویوکے اختتام پر بہار بیگم نے کہا کہ وہ ہر سال جب بھی اپنے بچوں سے ملنے کے لیے امریکہ جاتی ہیں تو یہ افواہ پھیلا دی جاتی ہے کہ شاید میں وہاں مستقل طور پر شفٹ ہورہی ہوں۔ پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا پرجتنی تکلیف عام لوگوں کو ہے اتنی ہی مجھے بھی ہے مگر یہ بھی توسوچیں کہ پاکستان کے بغیر ہمارا ہے ہی کیا۔ اس کے بغیرہم کچھ بھی نہیں ہیں۔ میں پاکستانی ہوں اور مجھے اس پرفخر ہے۔ پاکستان سے کسی اورملک شفٹ ہونے کا کبھی نہیں سوچ سکتی۔