شامحلب میں بمباری سے ہلاکتیں100ہو گئیں سیکڑوں زخمی

سرکاری فوج نے اتوار کو باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی، مرنیوالوں میں 28 بچے اور4 خواتین شامل


News Agencies/AFP December 17, 2013
بانکی مون اور دیگر عالمی رہنماؤں کی مذمت، اٹلی نے شامی کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کیلیے بندرگاہ استعمال کرنے کی اجازت دیدی۔ فوٹو : اے ایف پی

شام کے شمالی شہر حلب میں اتوار کو سرکاری فوج کی طرف سے باغیوں کے ٹھکانوں پر ہونے والی بمباری میں ہلاکتیں 100 ہوگئیں ۔

جن میں 28 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں۔ بمباری میں سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے، ذرائع ابلاغ کے مطابق حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر جنگی طیاروں سے دھماکا خیز مواد سے بھرے بیرل پھینکے جس سے بڑی تباہی ہوئی۔ بمباری میں 28 بچوں اور 4 خواتین سمیت 76 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔



سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بمباری کے بعدعلاقہ اٹا قصبہ کرم البیک ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ ادھراقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے باعث 2014ء کے آخرتک مشرق وسطیٰ میں شامی مہاجرین کی تعداد 4.1 ملین ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون اور دیگر عالمی رہنمائوں نے شامی فوج کے حملے میں بچوں اور خواتین کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں