شنواری کا انتخاب’’انتخاب‘‘ کو لے ڈوبا زیرعتاب آگئے

حالیہ چند مشوروں کے غلط ثابت ہونے پر چیئرمین بورڈ سابق کپتان سے خفا۔


Saleem Khaliq December 17, 2013
سیٹھی سے میٹنگ میں کچھ گلے شکوے دورہونے کے باوجودمیاندادکی خفگی برقرار ۔ فوٹو: فائل

KARACHI: پی سی بی کے72سالہ ڈائریکٹر انتخاب عالم کا ستارہ بھی بالآخر گردش میں آ ہی گیا، حالیہ چند مشوروں کے غلط ثابت ہونے پر چیئرمین بورڈ ان سے خفا ہو گئے،اس میں عثمان خان شنواری کا انتخاب سرفہرست ہے، دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل جاوید میانداد کی نجم سیٹھی سے ملاقات میں کچھ گلے شکوے تو دور ہوئے مگر سابق کپتان کی خفگی برقرار ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی میں کئی سربراہان آئے اور گئے مگر انتخاب عالم کی پوزیشن پر کوئی فرق نہ پڑا، نجانے ان کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ ہر چیئرمین کیلیے وہ ناگزیر بن جاتے ہیں، ان دنوں ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ اور ڈائریکٹر اکیڈمی کے طور پر فرائض انجام دینے والے سابق کپتان اب پہلی بار زیرعتاب آئے ہیں،ذرائع کے مطابق کئی مشوروں کے غلط ثابت ہونے پر ایڈہاک کمیٹی کے سربراہ ان سے ناخوش ہیں، ہر ماہ معاہدے کی تجدید کرانے والے72 سالہ انتخاب عالم کو سب سے بڑا مسئلہ عثمان خان شنواری کی سلیکشن سے ہوا، ذرائع کے مطابق انھوں نے ہی چیئرمین پر زور دے کر نوجوان بولر کو قومی ٹیم میں شامل کرایا،ان کا اصرار تھا کہ عثمان انٹرنیشنل کرکٹ میں جاتے ہی تباہی مچا دے گا، مگر یہ فیصلہ بیک فائر اور میڈیا کی تمام توپوں کا رخ نجم سیٹھی کی جانب ہو گیا۔



اسی طرح ڈاکٹر ریاض کی تعریفوں کے پل باندھ کر انتخاب عالم نے ہی چیئرمین کو انھیں ٹیم کے ساتھ برقرار رکھنے کا مشورہ دیا تھا، مگر وہ شعیب ملک کی فٹنس رپورٹ کے معاملے پر فارغ ہوگئے، ڈیو واٹمور ان دنوں قومی ٹیم کے غیر متحرک کوچ ہیں، معاہدے کی مدت پوری کرنے کیلیے انھیں ٹور پر بھیجا گیا ہے،ان کے تقرر کا فیصلہ بھی انتخاب عالم کی زیرسربراہی کمیٹی نے کیا تھا جس کا علم ہونے پر چیئرمین کی ناراضی مزید بڑھ گئی، اسی وجہ سے کراچی میں میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے دبے الفاظ میں ڈائریکٹر کی یو اے ای میں موجودگی پر تنقید کی تھی، ذرائع نے بتایا کہ فوری طور پر انتخاب عالم کو برطرف کر کے کوئی محاذ تو کھڑا نہیں کیا جائے گا البتہ آہستہ آہستہ انھیں سائیڈ لائن کرنے کا ارادہ ہے۔ دوسری جانب ڈی جی جاوید میانداد نے گذشتہ دنوں نجم سیٹھی سے ملاقات میں کچھ گلے شکوے تو دور کیے مگر اب بھی ان کی خفگی کم نہیں ہوئی، وہ انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ اکیڈمی کی بھی ذمہ داریاں چاہتے ہیں مگر بورڈ انھیں پائوں پھیلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہے۔