سماجی اور انتظامی زوال کے اشارے

مغربی تہذیب کے دلدادہ اور ہماری لبرل سول سوسائٹی نے سماج کی فکری، اخلاقی انحطاط اور مشرقی اقدار کی ایک جنگ چھیڑ دی۔


Editorial September 15, 2020
مغربی تہذیب کے دلدادہ اور ہماری لبرل سول سوسائٹی نے سماج کی فکری، اخلاقی انحطاط اور مشرقی اقدار کی ایک جنگ چھیڑ دی۔ فوٹو: فائل

موٹر وے زیادتی کیس نے در حقیقت کئی سطح کی سماجی بحث کا دروازہ کھول دیا ہے، جس میں نظام انصاف پر بھی دلائل دیے جا رہے ہیں، سیاسی نظام کی سنگ دلی بھی تنقید کی زد میں ہے، مغربی تہذیب کے دلدادہ اور ہماری لبرل سول سوسائٹی نے سماج کی فکری، اخلاقی انحطاط اور مشرقی اقدار کی ایک جنگ چھیڑ دی۔

ثناخوان تقدیس مشرق میں بھی ایک ہیجان ہے، جمہوریت پر یقین رکھنے والے اس سوال کے گرد جمع ہیں کہ کیا جمہوریت کے پاس پیدا شدہ اخلاقی بحران، جنسی زیادتی کے واقعات کا کوئی حل موجود ہے، کیا قانون، جمہوریت، انصاف اور سماجی تحفظ ایک ریاستی چیلنج ہے یا کسی حکومت کے پاس ہمارے معاشرتی ارتقائی سیاسی، مذہبی، فکری اور علمی تفکر اور جمہوری سسٹم کی کوئی دائمی چوائس بھی ہے، بادی النظر میں ایک ''غیر محفوظ'' ہائی وے پر ایک خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ سفر کر رہی تھی۔

اس کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوا، وہ مدد کی منتظر تھی کہ اس پر ایک دردناک افتاد آپڑی، دو سفاک ملزمان نے اس مجبور ماں کے ساتھ وہ شرم ناک سلوک کیا جس کا کسی مہذب معاشرے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، بربریت اور درندگی کے اس سانحہ نے بے سمت سماج، لاوارث سسٹم، سوچ، تہذیبی رویے، جنسی انارکی، سیاسی اور انتظامی افراتفری اور بے لگام بیان بازی کا بے ہنگم طوفان برپا کردیا۔

مسئلہ ایک جرم کی پیشہ ورانہ تفتیش و تحقیق، اس میں ملوث مجرمان کی فوری گرفتاری اور قانون نافذ کرنے والی غیر جانبدار پولیس فورس کی مستعدی، فرض شناسی، سرعت اور کارروائی کی نتیجہ خیزی کا تھا جو کسی ''مسٹری مووی'' سے بھی زیادہ پھیل کر کسی ''ہارر'' فلم کا سب سے دہشت انگیز ایپی سوڈ بنا دیا گیا۔

اس ساری صورتحال نے ثابت کیا کہ سسٹم کے اندر مضمر خرابیوں کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے، مگر بظاہر سیاست انسانی المیہ سے الگ کوئی پرسکون جزیرہ ہے، اہل سیاست کے سینے میں شاید دل نہیں، صف سنگ زنی کی مشق ہو رہی ہیں، ساری سیاست ٹویٹ اور بیانات پر ہو رہی ہے جیسے ملکی سیاسی سسٹم سنگلاخ زمینی حقائق سے لاتعلق irrelevant ہوکر رہ گئی ہے۔

ستم یہ ہے کہ اس شرم ناک واقعہ کے ڈیمیج کنٹرولنگ میں ملک کی سول سوسائٹی ناکام رہی ہے، دانشور طبقہ، سیاسی اشرافیہ، سیاسی جماعتیں جن کی گز گز بھر کی زبانیں جمہوریت، انسانی حقوق اور نظام کی زیادتیوں اور طرز حکمرانی کے غیر انسانی بیانیہ کی مخالفت کرتی تھکتی نہیں وہ بھی قومی سوچ سے عاری ہیں، اہل فکر ونظر کے حلقے بھی تہذیبی دراڑ کی نشاندہی کرتے ہوئے دس لاکھ انسانوں کا ایک احتجاجی جلوس لے کر سڑکوں پر نہیں آئے، کیا کوئی قحط الرجال ہے جسے ایک تجزیہ کار نے ملک کے دانشور طبقہ کی فکری اور عوام کے دکھ درد سے بے حسی اور تجاہل عارفانہ سے تعبیر کیا اور درست کیا ہے۔ ملکی سیاسی نظام کی قانونی اور اخلاقی قدریں ملیا میٹ ہو رہی ہیں۔ انسانیت کا دم گھٹ رہا ہے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ گلزار احمد نے کہا ہے کہ نظام انصاف میں ہمیں جس مقام پر ہونا چاہیے اس کے لیے طویل سفر باقی ہے، انھوں نے کہا کہ ججز کی خود مختاری کے بغیر عوام کو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں، (کسی کے پاس اس کا کوئی جواب ہے)۔ نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کے موقع پر عدالت عظمیٰ کے سربراہ نے کہا کہ جب تک ججز آزاد، خود مختار اور بیرونی دباؤ سے آزاد نہیں ہونگے تب تک انصاف نہیں مل سکتا۔

آئین اور قانون میں عدلیہ کی آزادی کو دبانے کی اجازت نہیں، انھوں نے یقین دلایا کہ آئین کی بالادستی کے لیے سپریم کورٹ ہر ممکن اقدام کریگی، ادھر اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے کہا کہ نظام انصاف میں خامیوں کے باعث وائٹ کالر مجرم بچ نکلتے ہیں، ایسے جرائم کا شکار پاکستان کے عوام ہوتے ہیں، لہٰذا عدلیہ کو اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انصاف میں تاخیر بنیادی مسئلہ ہے، قانونی اور انتظامی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔

مسلم لیگ ( ن )کے مرکزی جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے کہا کہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے اور ما ؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی۔ جس شرمناک طریقے سے خاتون سے زیادتی کے واقعہ کو ہینڈل کیا گیا اس پر حکمرانوں کو کس نام سے پکارا جائے؟

حکومت نے مظلوم خاتون کے سر پر شفقت کی چادر رکھنے کی بجائے اس کا مذاق اڑایا۔ ہمارے پالیسی ساز معیشت کو برباد کرچکے اور اب پاکستان کو انتظامی انارکی کے دہانے پر پہنچا چکے ہیں، وفاق کی بات چھوڑیں ، پنجاب میں گزشتہ دو برس کے دوران 5 آئی جیز، 4 چیف سیکریٹریز، متعدد صوبائی سیکریٹریز تبدیل کردیے گئے، ان تبدیلیوں کا مقصد کیا ہے؟ ادھر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بعض حکومتی وزرا کا مجرم کو سر عام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ متشدد سوچ کی عکاسی ہے۔

موٹر وے سانحہ کے اثرات کا دائرہ وسیع تر ہونے کے باعث عوام میں حکمرانی اور منتخب نمائندوں کی کارکردگی سے متعلق شکوک پیدا ہوئے، حکومت اور پولیس افسروں کے بیانات اور گراؤنڈ پر موجود تفتیش اور شفاف و نتیجہ خیز تحقیقات کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا بلند ہوتا شور سنا جا رہا ہے، عوام میں ایک قسم کی بے چینی، خوف وہراس اور بے یقینی پیدا ہونے لگی ہے، پنجاب پولیس نے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری سے65 مشتبہ افراد کے ڈی این اے سیمپل کی رپورٹ مانگ لی جب کہ متاثرہ خاتون کے ڈی این اے کی رپورٹ بھی مانگ لی گئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موٹروے واقعہ کی چھان بین کرتے ہوئے ہمیں ملک کے پولیس کلچر، سیاسی وڈیرا شاہی، حکمرانوں کے سیاسی طرز عمل اور سیاسی حسن سلوک کا بھی پوسٹ مارٹم کرنا ہوگا، مسئلہ ایک خاتون کی بے حرمتی سے جڑا ہوا ہے اور وہ اس مائنڈ سیٹ کا ہے جس کی جڑیں ملک سے باہر ہیں، سوال یہ ہے کہ جنسی تشدد، بے حرمتی اور ظلم وبربریت کا نشانہ صرف غریب، لاچار اور متوسط طبقہ ہی بنتا ہے، جو اس ملک پر حکومت کرتے ہیں ان کے بیوی بچے تو بیرون ملک رہتے ہیں۔

بے شمار سیاست دانوں تاجروں، صنعتکاروں، پولیس افسروں بااثر خاندانوں کے بچے لندن، نیویارک، اسپین، جرمنی، ناروے، آسٹریلیا اور دبئی میں رہتے ہیں، اس پولیس کلچر کا کیا ہوا جس کی تبدیلی کی سیاست دان اپنے سیاسی اور انتخابی منشوروں میں دہائیاں دیتے تھے، کروڑوں کا پٹرول، گاڑیاں، گھر کی آرائش، کرایے، ٹیلیفون اور دیگر مراعات کا تو شمار ہی نہیں، بلاشبہ جب کسی ملک کے دانشوران کرام، ادیب، شعرا، شاعر سرکاری مراعات لیں گے۔

اپنا ضمیر گروی رکھیں گے، تمغہ حس کارکردگی کا انتظار کریں گے اور درباری کلچر کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونگے تو کس کے دل میں ایک لاچار عورت اور اس کے بچوں کی غریب الوطنی یاد آئے گی کون اپنی مراعات چھوڑ کر خدمت اور انسان دوستی کے آدرش پالے گا؟ کیا کسی یاد ہے کہ بلوچستان میں ایک سردار نے بلوچ خواتین کو زندہ دفن کرنے کے دلدوز سانحہ پر کہا تھا کہ یہ ہماری بلوچ روایات ہیں۔

عوام کو اچھی طرح یاد ہے کہ حالیہ بارشوں میں کتنے وزرا، وزرائے اعلیٰ، گورنر صاحبان، سینیٹرز، یا وزیر اعظم نے کراچی کے تباہ حال منظرنامہ کا ذاتی طور پر مشاہدہ کرنے کی تکلیف اٹھائی ہو؟ امدادی کیمپ لگایا ہو، وہاں لوگوں کا حال سنا ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیشہ سے رلتے تو غریب ووٹر ہیں، غربت و زیادتی کا نشانہ تو غریب کی بیٹی بنتی ہے، امیروں کی عیاشیوں اور ان کے رہن سہن میں کون سی ڈکیتی مخل ہوتی ہے، اس لیے تبدیلی لانا ہے تو سیاسی اور معاشی مائنڈ سیٹ میں لائی جائے، اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کی سیکیورٹی سب کو عزیز ہے، سینیٹرز جب موو کرتے ہیں تو ان کے گارڈز ساتھ ہوتے ہیں۔

علمائے کرام بھی ڈبل ڈور پجیرو سے کم کسی گاڑی میں سفر نہیں کرتے، ان کی سیکیورٹی کا عالم بھی دیکھنے کے لائق ہوتا ہے، ان کے کروفر تو دیکھئے۔ کسی نے قوم کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ جب سماج کے حساس طبقات، اس کے سوچنے سمجھنے اور غور وفکر کرنے والے انٹیلکچوئلز نام و نمود کے خو گر اور عوام سے کمٹمنٹ اور وابستگی کی متاع سے محروم کر دیے جائیں تو معاشرہ پھر جنسی درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، سیاست، قانون، انصاف اور تہذیب سب پر زوال آجاتا ہے۔ کیا ہم ایسی ہی کسی صورتحال سے دوچار تو نہیں ہوگئے؟

مقبول خبریں