ماہنامہ ’عصمت‘ آزادیٔ نسواں کی طرف پہلا قدم

عصمت کے ہزارسے زیادہ شمارے ہماری سماجی تاریخ کا شانداراورنادرمرقع ہیں،اس میں ہم اپنی خواتین کی پرچھائیاں دیکھ سکتے ہیں


Zahida Hina December 17, 2013
[email protected]

وقت کی چلمن سے جھانک کرگزرے ہوئے دنوں پر نگاہ ڈالیے تو محسوس ہوتا ہے کہ زمین سے آسمان تک دھنک کے رنگ کھنچے ہوئے ہیں اور رنگوں کی اسی بھول بھلیوں میں ہم اپنی یادوںکے تعاقب میں ہیں۔ اس شام جب کراچی کی ایک باوقار تقریب میں ماہنامہ عصمت کی 105 ویں سالگرہ منائی جارہی تھی تو اس محفل کے مہمان خصوصی صدرمملکت جناب ممنون حسین تھے۔ ان کی آمد کو میں ذاتی طورپر اپنی عزت افزائی سمجھتی ہوں۔ انھوں نے جب صدارتی حلف بھی نہیں اٹھایا تھا کراچی کے اسٹیٹ گیسٹ ہائوس میں ملاقات کے دوران میں نے ان سے عرض کیا تھا کہ وہ تعلیمی اور ادبی سرگرمیوں کی بہ طور خاص سرپرستی کریں۔ اس کے بعد جب مجھے معلوم ہوا کہ' عصمت' کی مدیر صفورا خیری اس کی 105 ویں سالگرہ منارہی ہیں تو میں نے صدر محترم کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ اس تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر قدم رنجہ فرمائیں اور ہمیں ممنون کریں۔

ممنون حسین اس محفل میں تشریف لائے اور ایک صد سالہ ادبی اور تہذیبی روایت کو زندہ رکھنے اور اسے بڑھاوا دینے کے لیے انھوں نے دس لاکھ روپے بھی 'عصمت' کوعطیہ کیے تو میری ممنونیت میں دو چند اضافہ ہوا۔ اس روز جناب انتظار حسین، ڈاکٹر اسلم فرخی بہ زبان ڈاکٹر آصف فرخی، حسینہ معین اور یہ خاکسار ماضی کی چلمن سے جھانک کر ان دنوں کو یاد کررہے تھے جب ان کی مائوں نے انھیں 'عصمت' سے متعارف کرایا تھا۔ انتظار حسین بچپن کے ان دنوں کو یاد کر رہے تھے جب انھوں نے عصمت کے بانی علامہ راشد الخیری کی تصویر دیکھی تھی اوریہ شعر سنا رہے تھے جو عصمت میں چھپتا تھا کہ:

اصلاحِ قوم آپ کو منظور ہے اگر

بچوں سے پہلے مائوں کو تعلیم دیجیے

ڈاکٹر اسلم فرخی اس تخت کو یاد کررہے تھے جس پر ان کی والدہ گھر کے بچوں اور بچیوں کو اکٹھاکرکے انھیں ''عصمت'' سے کہانیاں اور مضامین سنایا کرتی تھیں۔ خاندان کے بچوں کو ہدایت تھی کہ ڈاکیے پر نظر رکھیں جو ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں 'عصمت' کی رجسٹری لاتا تھا۔حسینہ معین کو اپنی اماں کی شیشوں والی وہ الماری یاد آرہی تھی جس کے سب سے اوپر کے طاق میں ایک طرف قرآن رکھا رہتا تھا اور اسی کے ساتھ 'عصمت' کے مجلد شمارے تھے جس سے انھوں نے پڑھنا اور پھر لکھنا سیکھا تھا۔ کچھ یہی عالم فاطمہ حسن کا اور میرا تھا لیکن 'عصمت' کے بارے میں دل کو چھو لینے والی یادیں امریکا سے آئے ہوئے نظم کے بے مثال شاعر ڈاکٹر ستیہ پال آنند کی تھیں۔ انھوں نے اپنے من موہنے لفظوں سے ہماری نگاہوں کے سامنے اس آنگن کی تصویر کھینچ دی جس میں ان کی اماں ودیہ ونتی لالٹین کی روشنی میں 'عصمت' پڑھتی تھیں اور جس کی وہ سالانہ خریدار تھیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دن تھے۔ گائوں بھر کی عورتیں ان کے پاس محاذ جنگ سے آنے والے خط پڑھوانے اور ان کے جواب لکھوانے آتی تھیں۔

رات میں یہی عورتیں ان کے گھر آتیں، ان کے لیے کھجور کی چٹائیاں بچھائی جاتیں اور تحصیل تلہ گنگ کے گائوں کوٹ سارنگ میں رہنے والی ودیہ ونتی ان عورتوں کو 'عصمت' میں شایع ہونے والی کہانیاں، قصے اور اصلاح معاشرہ پر چھپنے والے مضامین سناتیں۔ ڈاکٹر ستیہ پال کی یہ باتیں سن کر میری بیٹی فینانہ جو دبئی سے آئی ہوئی تھی اور اس تقریب میں شریک تھی، اس نے کہا تھاکہ آج کسی کو یقین نہیں آئے گا کہ اب سے 70 اور 80 برس پہلے کے قصبوں اور دیہاتوں میں رہنے والی ہندو یا سکھ عورتیں اردو پڑھتی تھیں اور 'عصمت' ایسے رسالے کی سالانہ خریدار ہوتی تھیں۔تب مجھے خیال آیا کہ میری اور ڈاکٹر صاحب کی اماں کے درمیان 'عصمتی'بہن کا رشتہ تھا۔ ایک کے پاس 'عصمت' کی رجسٹری کوٹ سارنگ جاتی تھی اور دوسری رجسٹری سہسرام میں وصول کرتی تھی۔ ہندو مسلم اتحاد کا یہی وہ رشتہ تھا جس کے سبب علامہ صاحب کی سرپرستی میں نکلنے والے 'عصمت' کے سرورق پر ہر ماہ چھپتا رہا کہ ''شریف ہندوستانی بی بیوں کے لیے اردو میں پاکیزہ خیالات، علمی ، ادبی مضامین اور مفید معلومات کا ذخیرہ۔''

1908میں علامہ راشد الخیری نے 'عصمت' کا آغاز اس لیے کیا کہ ان کے دل میں اس وقت کی پسی اورپچھڑی ہوئی عورت کا درد تھا ۔ ابتداء ہی سے عصمت کے صفحات پر شہرت یافتہ ادیبوں کی تحریریں شایع ہوئیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ رسالے کو پڑھنے اور اس کے لیے لکھنے والی عورتوں کا ایک اتنا بڑا گروہ پیدا ہواجو کراچی سے کنیا کماری، پشاور سے پشکر اور لکھنؤ سے لاہور تک پھیلا ہوا تھا۔ مدراس، حیدرآباد دکن، بمبئی، آرہ، مونگیر، رام پور، جونا گڑھ، کوچین، شورکوٹ، حیدرآباد سندھ، مردان۔ غرض ہندوستان کے کونے کونے سے اسے پڑھنے اور اس میں لکھنے والیاں یوں نکل آئی تھیں جیسے برسات میں بیر بہوٹیاں۔

وعظ دینے والے 'تلاوت کرنے والے'پنج وقتہ نمازی اور امت کادرد رکھنے والے اس نوجوان راشد الخیری کو ابتداء ہی سے کتابوںسے عشق تھا۔ انگریزی ادب سے خصوصی شغف تھا۔ اردو ان کی مادری زبان تھی'فارسی اورعربی انھوںنے پڑھی تھی۔ ایک باشعور اور ہوش مند انسان تھے۔ اپنے ارد گرد کی دنیا کو تیزی سے بدلتے ہوئے دیکھ رہے تھے اور اس کے ساتھ ہی اس بات پر بھی ان کی نظر تھی کہ مسلمان اشراف کے زنان خانوں میں عمومی طور پر لڑکیاں گائے بکریوںسے بد تر زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ تعلیم ان عورتوں کی زندگی سنوار سکتی ہے، اسی لیے وہ جی جان سے اس کام میں مصروف ہوگئے اور 1908 میں ماہنامہ 'عصمت' کا اجراء کیا۔

وہ ہندوستان، جس کی مسلمان عورت کی اکثریت کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا، جو باہر کی دنیا سے بے بہرہ تھی اور جس پر سو طرح کے پہرے تھے۔ اس میں کیسی شاندار قوتِ تخلیق تھی کہ اسے ذرا سا موقع ملا اور وہ چل مرے خامے بسم اللہ کہتی ہوئی 'عصمت' کے صفحوں پر رواں ہوئی۔یہ 'عصمت' کاکمال تھا جس نے بنگال کے سہروردی خاندان کی خواتین جن میں پاکستان کے وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کی والدہ خجستہ سہروردی اور ان کی بہن بیگم شائستہ سہروردی اکرام اللہ' کے علاوہ بیگم عطیہ فیضی' مسز نذر سجاد حیدر' حجاب امتیاز علی، صالحہ عابد حسین' آمنہ عفت' رابعہ پنہاں، مسز صغرا ہمایوں مرزا، مسز عبدالقادر اور لاتعداد خواتین کے جوہرِ تحریر کو نمایاں کیا۔

عصمت کے ہزار سے زیادہ شمارے ہماری سماجی تاریخ کا ایک شاندار اور نادر مرقع ہیں۔اس میں ہم اپنی ان خواتین کی پرچھائیاں دیکھ سکتے ہیں جنہوں نے پابندیوں اور جبر کے زمانوں کو جھیلتے ہوئے اپنے قلم سے جدوجہد کی اور وہ راہ ہموار کی جس پر چل کر ڈاکٹر رشید جہاں، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر اور ان کے بعد آنے والیوں نے اردو ادب کے زمین وآسمان منقلب کردیے۔ آج کسی کو اگر 'عصمت' کی اہمیت اور حیثیت پر ذرا سا بھی شبہہ ہو تو وہ یونیورسٹی آف ٹیکساس ، آسٹن میں تاریخ کی پروفیسر گیل مینال Gail Minault کی کتاب Secluded Scholars پر ایک نظر ڈالے جس میں خواتین کے رسائل کی تاریخ بیان کی گئی ہے اور برصغیر کی مسلمان عورت پر'عصمت'کے اثرات کو بہ طور خاص تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ گیل منال ہے جس نے لکھا کہ علامہ راشد الخیری کا زور مسلمان عورت کی تعلیم اور اس کے حالات بہتر بنانے پر تھا۔ کچھ لوگوں نے اس بنا پر جب ان کی مخالفت کی تو یہ اردو اور ہندی کے عظیم ادیب منشی پریم چند تھے جنہوں نے اس رویے کو تنگ نظری سے یاد کیا۔ اپنے مضمون 'علامہ راشد الخیری کے سوشل افسانے' میں منشی پریم چند نے علامہ صاحب کی تحریروں کی داد دی اور لکھا کہ'' انھوں نے اردو میں عورتوں کے ادب کو مالا مال کیا۔ وہ تمام لوگ جو اردو جانتے اور پڑھتے لکھتے ہیں، انھیں علامہ صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے۔''

آج ہمارے یہاں جہاد کا بہت شہرہ ہے لیکن انیسویں اور بیسویں صدی میں ہمارے مولویوں نے ایک ''جہاد'' کیا تھاجس میں توپ' تفنگ اور بندوق استعمال نہیںہوتی تھی' اس میں ان لوگوں نے اپنے قلم اوربے پناہ عزم سے حصہ لیا۔ آج برصغیر میں ہزاروں مشہور اور کار گذار مسلمان عورتوں کے جو پرے ہیں' یہ ان ہی مولویوں کے ''جہاد''کا ثمر ہیں۔

1908 میں خواتین کی تعلیم اور ان کی ادبی تربیت کے لیے شایع ہونے والے 'عصمت' کے صفحات ایک مکتب کی حیثیت رکھتے تھے۔ 105 برس کے درمیان زمانہ کچھ سے کچھ ہوگیا۔ ان کے صاحبزادے مولانا رازق الخیری رخصت ہوئے تو 'عصمت' کو جاری رکھنے کی ذمے داری محترمہ آمنہ نازلی اور ان کے بیٹے طارق خیری اور صائمہ خیری نے نباہی۔ یہ لوگ دنیا سے گئے تو صفورا خیری نے 'عصمت' کی ادارت اور اشاعت کی ذمے داری سنبھالی اور آج تک اس مشکل کام میں مصروف ہیں۔ ان کے نصف بہتر نیاز الدین خان اور برادربزرگ (ر) جسٹس حاذ ق الخیری ان کی معاونت کرتے ہیں۔ شعیب اور اپنے دوسرے ساتھیوں کی معاونت سے صفورا خیری 'عصمت' کو ایک نئے رنگ اور ڈھنگ سے نکال رہی ہیں تو یہ ان کا حوصلہ ہے۔

یہاں میںپرانے کراچی کے ایک محلے میں رہنے والے دائود کو کیسے یاد نہ کروں، جن کی مادری زبان اردو نہیں، انھوں نے نہ دلی دیکھی اور نہ خیری خاندان سے کوئی تعلق لیکن اردو، علامہ صاحب اور عصمت کے عشق میں انھوں نے زندگی لگادی۔جس عرق ریزی سے علامہ راشد الخیری اور'عصمت' پر انھوں نے اپنا پی ایچ ڈی مکمل کیا، اس کی کہانی کچھ مجھے بھی معلوم ہے۔ 'عصمت' آزادیٔ نسواں کی طرف پہلا قدم تھا، اس سفر کو رواں رکھنے کے لیے آج ہم سب کو اپنا اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں