اندر بھی دھند باہر بھی دھند
تعجب ہے قدرت کے کارخانوں پر کہ جہاں انسانوں کے دلوں اور دماغوں میں دھند ہی دھند ہو وہاں فضاؤں کو دھندلا کرنے کی کیا۔۔۔
KARACHI:
تعجب ہے قدرت کے کارخانوں پر کہ جہاں انسانوں کے دلوں اور دماغوں میں دھند ہی دھند ہو وہاں فضاؤں کو دھندلا کرنے کی کیا ضرورت تھی لیکن بہر حال ہم اپنے چاروں طرف دھند ہی دیکھ رہے ہیں۔ پنجاب میں تو زمینی اور فضائی راستے بند ہو گئے ہیں کہ دھند کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ کچھ ضدی یا مجبور لوگ اس دھند میں بھی سڑکوں پر سفر سے باز نہیں آتے اور اندھا دھند اپنی گاڑی چلاتے ہیں، مر بھی رہے ہیں اور زخمی بھی ہو رہے ہیں لیکن شوق اور ایڈونچر یا مجبوری انھیں انھی اندھے راستوں پر لیے پھرتی ہے، جہاز بھی جس اڈے پر موجود تھے وہیں روک دیے گئے ہیں کہ کراچی میں اگر دھند نہیں تو کسی جہاز نے جہاں اترنا ہے وہاں تو دھند ہے اس لیے فضائی سفر بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ جب میں نے اخبار میں پڑھا کہ جناب میاں شہباز شریف کو بھی اپنا سرکاری ہیلی کاپٹر چھوڑ کر سڑک کے راستے اسلام آباد سے لاہور آنا پڑا تو یقین ہو گیا کہ یہ دھند عوام کے لیے ہی نہیں خاص الخواص کے لیے بھی ایک رکاوٹ ہے لیکن ایک تعجب اور، کہ پولیس نے تو سڑکیں بھی عوام کے لیے بند کر رکھی ہیں کہ ان پر سفر جان کا خطرہ ہے لیکن دھند زدہ پنجاب کے حکمران کے لیے راستہ کھول دیا گیا اور دھند کو بتا دیا گیا کہ وہ کون ہے جو اس کو چیرکر اس سے لاپرواہ ہو کر اس پر سفر کر رہا ہے اس لیے وہ ہوش کرے اور راستوں کو محفوظ رکھے چنانچہ میاں صاحب بحمداﷲ بخیر و عافیت لاہور پہنچ گئے ہیں۔ اگر جناب شعیب بن عزیز بھی ان کے ہمراہ تھے تو وہ بھی بخیر و عافیت لاہور پہنچ گئے ہیں۔ ان دنوں چونکہ ہمارے دوست شعیب صاحب کا ذکر بھی پنجاب کے حکمران کے ساتھ آ رہا ہے اس لیے لازم ہے کہ میں بھی ان کے ذکر کا احترام کروں۔
بات ہر طرف پھیلی دھند کی ہو رہی تھی جس نے زمینی اور فضائی راستے بند کر دیے ہیں۔ ایک بار میرے ساتھ بھی یہ حادثہ گزرا ہے جو تین چار دن جاری رہا۔ نیو یارک میں اپنے مہمانوں کو الوداع کہہ کر میں کینیڈی ائیر پورٹ پہنچا جہاں پی آئی اے کے کاؤنٹر پر اطلاع ملی کہ ذرا انتظار کیجیے جہاز چلتا بھی ہے کہ نہیں۔ کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ دیکھا کہ جو بھی مسافر آتا ہے اسے میری طرح ایک طرف کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ کچھ دیر بعد اعلان ہوا کہ لاہور میں دھند کی وجہ سے پرواز منسوخ ہے فی الحال آپ ہوٹل جائیں گے ذرا مزید انتظار کیجیے' یہ سب دھند کے غائبانہ کرشمے تھے کہاں دھند اور کہاں ہم مسافر۔ائیر پورٹ کے قریب ہی ایک مسافرانہ مگر اچھا ہوٹل تلاش کر لیا گیا اور ہم بہت سارے مسافر اس ہوٹل میں ٹھہرا دیے گئے۔
الگ الگ کمرے میں۔ جب انتظار کی کیفیت میں دو دن گزر گئے اور بوریت شروع ہو گئی تو طے پایا کہ محترمہ منی بیگم سے درخواست کی جائے کہ وہ ہماری بوریت کو اپنی موسیقی کی رونق میں بدل دیں۔ ہماری یہ ہمسفر تیار ہو گئیں لیکن اب سازندے کہاں سے ملیں، دو ایسے مسافر مل گئے جو میز بجانے میں ماہر تھے۔ منی بیگم نے تالی بجانے کا کام خود سنبھال لیا اس طرح ہم نے ہوٹل میں محفل موسیقی منعقد کر ڈالی البتہ ایک صاحب نے تجویز کیا کہ اس فنکارہ کی خدمت ضروری ہے اس لیے ہم نے ایک مہذب طریقہ اختیار کیا اور ویل کی صورت میں ڈالر نچھاور کرنے شروع کر دیے جو انھوں نے قبول کر لیے۔ کوئی تین چار دن تک لاہور کی دھند نے ہمیں ہزاروں میل دور روکے رکھا اور ہم مفت کی مہمان نوازی کے مزے لوٹتے رہے۔ یہ دھند تو ہر سال ہوتی ہی ہے کوشش کریں گے کبھی کسی دوسرے ملک میں دو چار دن عیش کریں لیکن حکمرانوں نے اب پی آئی اے کو بھی ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے اگر یہ زندہ رہی تو یار زندہ صحبت باقی۔ اگر میں حکمران ہوتا تو پاکستان کی اس کڑکی کے زمانے میں اس کا کوئی ایسا چلتا پھرتا زندہ اثاثہ فروخت کرتا جس سے کچھ دن آرام سے گزر جاتے۔ ایک بار ترکی گئے تو اس کا مشہور زمانہ عجائب گھر توپ گاپی دیکھا تو اس کے بارے میں یہ مشہور اور دلچسپ بات معلوم ہوئی کہ اگر اسے بیچ دیا جائے تو دنیا بھر کا چھ دن کا خرچہ چل سکتا ہے۔اس عجائب گھر کا ایک کمرہ ایسا بھی ہے جس میں دن رات تلاوت جاری رہتی ہے یہاں عہد نبوی اور ابتدائی زمانے کی یاد گاریں ہیں جو ترک خلفا نے جمع کی تھیں اور ایک ترک سلطان جب مصر میں لٹے پٹے برائے نام خلیفۃ المسلمین سے ملا تو اس خلیفہ نے اپنی خلافت کا لبادہ اور یہ تبرکات اس نئے خلیفہ کو دے دیے۔ اس کے بعد سلطان کہلانے والے ترک حکمرانوں نے اپنی خلافت کا اعلان کر دیا اور وہ سلطان کی جگہ خلیفہ کہلائے۔
ترکی کی اس ضمنی سی بات کو یہیں چھوڑ کر اس دھند کی طرف آتے ہیں جو ہمارے دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہے اور اس دھند میں ہمیں خود پاکستان بھی دکھائی نہیں دیتا۔ کبھی ہم کبڈی کبڈی کرتے ہوئے بھارت پہنچ جاتے ہیں اور کبھی ہم پاکستان میں بیٹھ کر ہی بھارت بھارت کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھارت تو کوئی دھند بن کر ہمارے اوپر چھا گیا ہے۔ ہم سادہ دل پاکستانیوں کو جو صرف بزرگوں کے بتائے اور بنائے ہوئے پاکستان کو ہی جانتے ہیں ہمیں یہ دھند کی طرح اپنے اوپر چھایا ہوا پاکستان دکھائی نہیں دیتا۔ موسم کی یہ دھند تو ایک دو دن کی بات ہے لیکن یہ دوسری دھند تو اب دنوں کی نہیں نہ جانے کتنی مدتوں کی بات لگتی ہے۔ ہمارے فوجی تو اس دھند میں سے اپنے راستے تلاش کرتے رہے اور دشمن کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس سے لڑتے رہے لیکن ہمارے سیاستدان تو سستے پیازوں اور دوسری باسی سبزیوں پر ہی ریشہ خطمی ہو گئے۔ اب دوسری تحریک پاکستان کون شروع کرے۔ اللہ مالک ہے یا سرکار دو جہاںؐ جن کو ادھر سے ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔