خطرات سے نمٹنے کی ضرورت

بھارت کی خارجہ پالیسی خطے میں عدم استحکام اور انتشارکا باعث بن رہی ہے۔


Editorial October 08, 2020
بھارت کی خارجہ پالیسی خطے میں عدم استحکام اور انتشارکا باعث بن رہی ہے۔ (فوٹو : آئی ایس پی آر)

لائن آف کنٹرول پر خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسکردو اورگلگت کے دورے کے موقعے پر جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے گلگت میں ایس سی او کے تحت اسٹیٹ آف دی آرٹ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کیا۔

پارک سے آئی ٹی اور دفاعی مواصلات کے شعبوں میں تحقیق اور جدت کا ماحول پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ درحقیقت بھارت، پاکستانی سرحد پر تسلسل سے اشتعال انگیزکارروائیاں کرتا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں پر آباد سویلین آبادی کا وسیع پیمانے پر نقصان ہوتا ہے۔ بھارتی جارحیت کا ہمیشہ افواج پاکستان نے منہ توڑ اور دندان شکن جواب دیا ہے اور مادر وطن پر ہمارے جوانوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔

بھارت یہ سب کیوں کرتا ہے اور اس کے مذموم مقاصد وعزائم کیا ہیں۔ اس بات کو جاننے کے لیے ایک نظر تاریخ پر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بھمبر،گجرات سے لے کر گلگت، بلتستان (شمالی علاقہ جات) تک پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ جموں وکشمیرکے درمیان حد لائن آف کنٹرول واقع ہے۔ اس سرحدی لکیر پر دونوں ملکوں کے درمیان 1949 میں اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی ہوئی تھی۔

تب یہ سیز فائرلائن کہلاتی تھی، بعد میں 1972 میں شملہ سمجھوتے کے وقت اس کو لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا تھا۔ یعنی یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی ملاحظہ کیجیے کہ ورکنگ باؤنڈری کو بھی بین الاقوامی سرحد قراردینا شروع کر دیا ہے۔ تسلسل سے بھارتی جارحیت کی وجہ سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

اس وقت بھارت دنیا میں اسلحے کی درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ خطے میں سپر پاور بننے کا جنون بھارتی سرکارکے سر پرسوار ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے انھیں کچھ سُجھائی نہیں دے رہا ہے، کیونکہ یہ سوچ و فکر ایک وہمے یا جنگی خبط کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ برد باری اورسنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس تناؤکی وجہ سے دونوں ممالک میں اقتصادی ترقی کی رفتار بھی سست روی کا شکار ہے۔یہ ساری صورتحال ریڈ لائن کوکراس کر رہی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ خطے کے امن پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان ملک کے اندر اور خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہے، اورعالمی سطح پر پاکستان کی ان کوششوں کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔ بھارت کی امن دشمن پالیسیاں ان کوششوں کو شدید متاثرکر رہی ہیں۔ وہ نہ صرف لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزی کے ذریعے پاکستانی فورسزکی توجہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز سے ہٹانے کی مذموم کوشش کر رہا ہے بلکہ پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیاں کرنے کے لیے افغانستان کی سرزمین بھی استعمال کرتا ہے۔

ایک سیز فائز معاہدے کے تحت سرحدکی دونوں جانب دس کلومیٹر تک ایسی کسی فوجی چال کی تدبیر نہیں کی جا سکتی، جس کے ذریعے دوسرے ملک کا دفاع خطرے میں پڑ سکتا ہو، بھارت ایل او سی کے قریب جاسوس ڈرونز استعمال کرتا ہے، لیکن پاک فوج دشمن کی اس صلاحیت کو بھی ڈرون گرا کر ناکام بنا دیتی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح کے بھارتی اقدامات طے شدہ سازش کا نتیجہ ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان براہ راست جنگ شروع ہو جائے، اس کا جواب اثبات میں ہے۔

کیونکہ بھارت اس خطے کی ترقی و خوشحالی کے لیے اہم کردار اداکرنے کی اہلیت رکھنے والی پاک چین اقتصادی راہداری کو بھی سبوتاژکرنے پر تلا ہوا ہے اور اس کے لیے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں اس کی دہشت گرد کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ بھارت کی خارجہ پالیسی خطے میں عدم استحکام اور انتشارکا باعث بن رہی ہے۔ وہ اگر ایک طرف پاکستانی سرحد پر اشتعال انگیز کارروائیاں کرتا ہے تو دوسری طرف چین کے ساتھ بھی سرحد ی کشمکش میں مبتلا ہے۔

بھارت نے گزشتہ سال مقبوضہ جموں و کشمیر میں اوڑی حملے کے بعد پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ بھارت اگر اگلی بار ڈرامے کے بجائے حقیقی سرجیکل اسٹرائیک کرنے کی جرات کرتا ہے تو پاکستان کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کرنے میں دریغ نہیں کرے گا اور یوں ایک تباہ کن جنگ شروع ہونے کے مواقعے پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہاں پر عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کوکسی بھی شر انگیزی سے باز رکھیں اور بھارت کو مجبورکیا جائے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر متنازع معاملات کو حل کرے، لیکن اگر پھر بھی وہ باز نہیں آتا تو پاکستانی افواج بھارت کو بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

مقبول خبریں