طالبان افغان حکومت مذاکرات نتیجہ خیز بنانے کی کوششیں

مذاکرات کے لیے فریقین کی طرف سے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔


Editorial October 08, 2020
مذاکرات کے لیے فریقین کی طرف سے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ فوٹو : فائل

افغانستان میں طالبان کے ساتھ جو مفاہمتی بات چیت ہو رہی ہے اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ایسے انتظامات کیے جا رہے ہیں کہ مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں کوئی رخنہ اندازی نہ ہو سکے۔ واضح رہے اس کئی عشرے پرانی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔

صورتحال پر جمنے والی برف کے پگھلانے میں امریکی حکام نے کامیاب دخل اندازی کی جس کے مطابق مذاکرات کرنے والے فریق زمینی حقائق کی پابندی کریں گے۔ افغان جنگجو اور طالبان کے باہمی تصادم میں لاتعداد افراد کے علاوہ عام سویلین بھی شامل ہیں تاہم اب مذاکرات کے لیے فریقین کی طرف سے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں فریق قاعدہ قانون کا اتباع کریں گے۔

مذاکرات میں شریک دیگر حکام کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کے دوحہ پہنچ کر بات چیت کرنے کے نتیجے میں مذاکرات کی راہ ہموار ہو گئی۔ مذاکرات کے اس دور میں امریکی نمایندہ خصوصی زلمے خلیل زاد بھی موجود تھے۔ باور کیا جاتا ہے کہ ایسا معاہدہ ممکن ہو چکا ہے کہ مئی 2021 تک امریکی افواج افغانستان سے نکلنے کا تعین کر لیں گی۔

واضح رہے انٹرا افغان مذاکرات امریکا اور طالبان کے درمیان فروری کے مہینے میں ہونے والے سمجھوتے کے مطابق کیے جائیں گے تاکہ مئی کے مہینے تک بیرونی فوجی افغانستان چھوڑ سکیں۔ سفارتی ذرائع اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مذاکرات کا آغاز مشکل صورتحال کا شکار تھا۔ تاہم بعدازاں بات چیت شروع ہو گئی۔

معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ان نکات کو ساتھ لے کر چلا جائے گا جن پر فریقین کا اتفاق رائے ہو چکا ہے تاہم ان سب معاملات کی کامیابی کے لیے اولین شرط یہ ہے کہ فائر بندی کو سب سے پہلے سختی کے ساتھ نافذ العمل کر لیا جائے البتہ مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان مکمل فائر بندی کے لیے ہر گز تیار نہیں ہوں گے کیونکہ اس طرح حالات ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گے جب کہ افغان حکام اور سفارتکاروں کے لیے فائر بندی کی اولین اہمیت ہے۔

واضح رہے یہ اہمیت ان مغربی سفارتکاروں کے لیے ہے جو جنگ بندی کو ممکن بنانا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں