مہنگائی اور ٹائیگر فورس

ٹائیگر فورس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھ جائے گا۔


Editorial October 13, 2020
حکام مہنگائی میں اضافہ کے بنیادی اسباب سے لا تعلق ہیں، یہ اہل تعیش کا مسئلہ ہی نہیں۔ فوٹو : فائل

وزیر اعظم عمران خان نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو جانچنے کا کام ٹائیگر فورس کو تفویض کر دیا ہے۔

اپنے قیام کے منفرد مقاصد کے اعتبار سے ٹائیگر فورس کے ذمے ایک پیچیدہ ٹاسک ہے جو ایک ایسی فورس کے حوالے کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں خود وزیر اعظم بزنس کمیونٹی، عوام، صنعتکار، تاجر اور لاکھوں دکانداروں کو آگاہی حاصل نہیں، فورس کی سربراہی کس کے ذمے ہے، اس فورس کی رضاکارانہ حیثیت کیا ہے، دوسرے پیشہ ورانہ، انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کس حد تک یہ منفرد کارکردگی دکھا سکے گی۔

اس کا عوامی رسپانس کیا ہوگا، کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ فورس کی کارروائی کا عوام خیر مقدم کریں گے یا کاروباری طبقہ کا رد عمل غیر مفاہمانہ ہوسکتا ہے اور وہ ''بیک فائر'' کریگا، پبلک رسپانس اور کاروباری ڈیلنگ کا اسے پتا نہیں کہ اسے اپنا کام کیسے اور کن اہداف کے ساتھ کرنا ہے۔

بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عوام شدید دباؤ اور مہنگائی سے تنگ ہیں، اگر ان کی ہمدردی میں آپریشن کاروباری طبقات کو ناراض کرتا ہے تو انارکی بھی پھیل سکتی ہے، بنیادی بات مہنگائی سے تنگ آئے عوام کی مجبوریاں ہیں، انھیں سستی چیزیں دستیاب نہیں، ان کا بجٹ آؤٹ ہوچکا اور کوئی ان کے دکھ کو شیئر کرنے کے لیے مارکیٹوں، پتھاروں، فوڈ اتھارٹیز، وزارت خوراک اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں میں موجود نہیں، ایک افراتفری اور بے سمتی کا سماں ہے۔

ٹائیگر فورس کے انٹرایکشن کے بارے میں بھی خاموشی ہے، دیگر انتظامی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، کاروباری طبقات، تاجروں، میڈیکل اسٹورز، دکانداروں، سبزی اور پھل فروشوں کو بھی ضروری معلومات حاصل نہیں ہیں، بادی النظر میں ٹائیگر فورس سے بے پناہ توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں مگر جب تک عوام کو اس فورس کی حقیقت، طاقت، اختیار اور دوسرے ہم عصر انتظامی اداروں سے مطابقت اور اشتراک عمل کے روڈ میپ کا پتا نہیں چلے گا، ٹائیگر فورس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھ جائے گا، یہ کاروبار اور انسانی بھوک، احتیاج اور معاشی بقا کا معاملہ ہے، ایک آدمی انصاف کے لیے کئی دن تک انتظار کرسکتا ہے مگر شیر خوار بچہ دودھ کا انتظار نہیں کرسکتا، مزدور کو بیوی بچوں کے لیے کھانا چاہیے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود ملک میں مہنگائی کا طوفان جاری ہے، گزشتہ روز برائلر گوشت کی قیمت 19روپے اضافے سے252 روپے فی کلو تک پہنچ گئی جب کہ فارمی انڈے بھی 160روپے فی درجن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں دو روز میں مجموعی طور پر 32 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے، دوسری طرف تندور مالکان نے بھی آٹا مہنگا ہونے اور اس کی مارکیٹ میں قلت کو جواز بنا کر روٹی کی قیمت بڑھا کر10روپے کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کے اس وقت لاہور میں آٹے کا شدید بحران پیدا ہوچکا ہے۔

پہلے تو آٹا ملتا نہیں، اگر مل بھی جائے تو 15 کلو کا بیگ950 روپے سے تجاوز کر گیا ہے، 20 کلو کا بیگ ملتا نہیں، فائن آٹے کی بوری6 ہزار کی کر دی گئی ہے، گیس کی لوڈشیڈنگ بھی شروع ہوچکی ہے، کراچی میں گذری کے علاقے میں کئی دنوں سے گیس کی فراہمی بند ہے، عملہ بتاتا نہیں کہ گیس لائنوں میں خرابی ہے، لائنوں میں پانی بھر گیا ہے یا کوئی اور وجہ ہے، چیک کرنے کے لیے نہیں آتا، گھریلو خواتین پریشان ہیں، ان حالات میں تندور مالکان روٹی 8 روپے میں نہیں بیچ سکتے۔

واضح رہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے روٹی کی قیمت چھ روپے مقرر کی گئی ہے لیکن فروخت آٹھ روپے میں ہو رہی ہے۔ ادھر انتظامی افسران منڈیوں کے دوروں کے باوجود سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ کمشنر کے حکم پر ڈپٹی کمشنروں نے منڈیوں کے دورے کیے لیکن بازاروں میں سرکاری ریٹس سے زائد قیمت پر پھلوں اور سبزیوں کی فروخت جاری ہے۔

گزشتہ روز آلو شوگر فری 55 روپے کلو کے بجائے80 روپے، پیاز76 روپے کلو کے بجائے100روپے، ٹماٹر تیسرے درجہ86 کے بجائے120 روپے تک فروخت ہوتے رہے، اسی طرح لہسن دیسی240 کے سرکاری ریٹ کے بجائے350 روپے کلو، ادرک چائنہ 450 کے بجائے 600 روپے، کریلے99 کے سرکاری ریٹ کے بجائے 150 روپے کلو میں فروخت ہوئے۔

پالک 44 روپے کلو کی سرکاری قیمت کے بجائے80 روپے کلو، بھنڈی 78 کے بجائے100روپے کلو، میتھی کنٹرول ریٹ 137 کے بجائے 180روپے کلو، گھیا کدو 62 روپے کے بجائے 100روپے کلو، ٹینڈے دیسی 109روپے کلو کے بجائے150روپے کلو میں فروخت ہوئے۔

مرچ اوّل124کے بجائے200 روپے کلو میں فروخت ہوئی۔ پھلوں کی قیمتیں بھی عام بازاروں میں سرکاری قیمت کی نسبت 25 سے50 فیصد زائد وصول کی جاتی رہیں۔ حکمران جانتے ہونگے کہ معاشرہ میں عدم مساوات، بیروزگاری، جرائم، دولت کے ارتکاز نے طبقاتی کشمکش کو دوچند کر دیا ہے بلکہ معاشی مسائل نے معاملات سہ آتشہ بنا دیے ہیں، خود کشی کے واقعات بڑھ گئے، لوگ مہنگائی کم کیے جانے کے نام پر مٹی کے کھلونوں سے بہلنے والے نہیں، حالات درد انگیزی کی انتہا کو چھونے لگے ہیں۔

اتوار کو اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آیندہ ہفتے کو ٹائیگر فورس سے اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ملاقات کروں گا، تب تک ٹائیگر رضاکار اپنے قرب و جوار میں باقاعدگی سے دال، آٹا، چینی اور گھی کی قیمتیں معلوم کریں اور انھیں ٹائیگر فورس کے پورٹل پر ڈالیں۔ یاد رہے ٹائیگر فورس کا ذکر حکومتی اجلاسوں میں پہلے بھی آیا تھا، لوگ اس فورس کو عملاً ان ایکشن دیکھ نہیں پائے اس لیے اشتیاق کے ساتھ ساتھ ان کے دل میں خوف بھی ہے کہ کہیں بزنس کمیونٹی، غریب دکاندار اور سبزی و پھل فروش اسے ایک نئی مصیبت نہ قرار دیں۔

مس ہینڈلنگ نے کاروبار ٹھپ کرا دیا تو بڑے مسائل پیدا ہونگے۔ اس لیے مہم جوئی کی ضرورت نہیں، لوگوں کو سستی چیزیں ملیں گی تو اس سے زیادہ خوشی کی کیا بات ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کا مسئلہ متوسط طبقہ، ملازمت پیشہ اور محنت کش عوام کے لیے حیات و موت کا ایشو بن گیا ہے۔

حکام مہنگائی میں اضافہ کے بنیادی اسباب سے لا تعلق ہیں، یہ اہل تعیش کا مسئلہ ہی نہیں، صرف اعلانات، طفل تسلیوں اور دلفریب وعدوں سے آگے جانے پر حکام تیار نہیں، محکمہ جاتی سطح پر مارکیٹوں اور سبزی منڈیوں کے چیک اینڈ بیلنس کی کسی کو پروا نہیں، دوائیں بے دردی سے مہنگی ہو رہی ہیں، بہت سی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کی حکومت خود ذمے دار ہے، بجلی، گیس کے نرخ بڑھائے، اشیائے خورونوش کی خریداری پر ڈیوٹیز، جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکسز کی بھرمار ہے، تاجر دکاندار، ریڑھی بان، پتھارے دار، بیکرز، ہوٹل انڈسٹری، کاروباری ادارے پولیس، فوڈ اتھارٹی، ایف بی آر اور بھتہ مافیا سے بیزار ہیں، زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتیں حالیہ دنوں میں یکطرفہ طور پر اس مفروضہ پر مہنگی کی گئیں کہ مہنگی قیمتیں ہوں گی تو عوام کو دوائیں آسانی سے دستیاب ہونگی۔

تھوک مارکیٹ پر حکومت کا زور نہیں چلتا، شوگر اور گندم مافیا دندناتی پھر رہی ہے، عدلیہ کو نیب سے شکایتیں ہیں، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کہہ رہے ہیں کہ ایک کو پکڑ لیا باقی کو کیوں نہیں؟ مشیر اور معاونین خصوصی اپوزیشن سے گزشتہ دو سالوں میں عوام کو درپیش مسائل پر پنگ پانگ کھیل میں مشغول رہے، ملک کو جس میرٹ، شفافیت، انصاف اور عوام دوست انتظامی سسٹم کے قیام کی ضرورت ہے اس جانب حکمرانوں کی کوئی توجہ نہیں، سنجیدگی کا یہ عالم ہے جیسے اہل اقتدار جانتے ہی نہیں کہ مفاد پرست عناصر اور مافیاز نے معاشرے میں کیسی نفسا نفسی، ہوس زر کی دیوانگی پیدا کی ہے، ایک عجیب سنگدل سماج ہمارے سامنے ہے جس میں دو سال کی معصوم بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرکے اس کی ننھی منی لاش درخت پر لٹکا دی گئی۔

ایک زینب کا قصور میں دردناک سانحہ ہوا دوسری پھول سی زینب نے خیبر پختونخوا میں درندوں کے ہاتھوں موت پائی، کیا ارباب اختیار قوم کو جوابدہ نہیں، اس بربریت اور اموات پر اہل سیاست کب اپنے ضمیروں کو ٹٹولیں گے۔ اب حکومت نے ٹھوس اقتصادی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے اور مہنگائی کم کرنے کے لیے ٹائیگر فورس کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہ جانے بغیر کہ ٹائیگر فورس کی میکنزم، اس کی ہیت ترکیبی کیا ہوگی، اس انتظامی فورس کی دیومالائی حیثیت کیا ہوگی، کیا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اس کی اتھارٹی جداگانہ ہوگی۔

اس کے سزا و جزا کے اختیارات کی رینج کیا ہے، کیا یہ فورس صرف وزیر اعظم کو جوابدہ ہوگی، اس کے پاس ملک بھر کی سبزی منڈیوں، کاروباری مقامات، مارکیٹس، مالز اور پتھاروں، گلی محلوں کے بچت بازاروں کا ڈیٹا موجود ہے، کیا رضاکار یونیفارم کے ساتھ ڈپلائمنٹ، کارروائی اور سبزی فروشوں سے پوچھ گچھ کے دوران بد نظمی، تکرار اور حراست میں لیتے ہوئے ناخوشگوار صورتحال پیدا ہونے پر دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد لیں گے یا مشکلات کا حل خود ہی تلاش کرلیں گے، ٹائیگر فورس سے دوہری حکمت عملی dyarchy کا بھی خدشہ ہے۔

کیا وزیراعظم ہاؤس سے ٹائیگر فورس کی جوائنٹ میٹنگ دیگر انتظامی اور امن وامان سے متعلق اداروں سے کبھی ہوئی، کیا ٹائیگر فورس سے متعلق صوبوں کے پولیس کے اعلیٰ افسران کو اعتماد میں لیا گیا، ان سوالات کا تعلق مہنگائی کی اندوہ ناک اور دل گرفتہ کرنے والی سماجی صورتحال سے ہے، عوام کی زندگی پیچیدگیوں اور مایوسیوں کی نذر ہوگئی ہے، ارباب اختیار عوام سے لاتعلق سے ہوگئے ہیں، یوں لگتا ہے کہ ارباب حکومت و ریاست عوام کو روزگار، رزق، خوراک اور بچوں کی غذائی ضروریات کی فراہمی کا کام بھی محض روایتی اقدامات سے کرنے پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں