بھارت مذاکرات کی شرائط پوری کرے

بھارت کو پاکستان کے ساتھ ڈائیلاگ شروع کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔


Editorial October 15, 2020
بھارت کو پاکستان کے ساتھ ڈائیلاگ شروع کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ فوٹو:فائل

بھارت نے مذاکرات کے لیے پاکستان سے رابطہ کرنے کا اشارہ دیا ہے تاہم ہمسایہ ملک پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ پہلے وہ پانچ شرائط پوری کرے اور جو اسی صورت ممکن ہو سکے گا جب مذاکرات سہ فریقی ہوںگے اور کشمیری اس میں بطور فریق شامل ہوں گے۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ 'دی وائر' میں 5 اگست 2019کو وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ معنی خیز مذاکرات کے لیے بھارت کو پانچ شرائط پوری کرنا ہوں گی تاکہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر سمیت تمام مسائل کو حل کیا جاسکے۔

انٹرویو کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے اور تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، تاہم سلامتی مشیر نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین کسی بھی معنی خیز بات چیت کے لیے بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجود تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا ہوگا، غیر انسانی ناکہ بندی اور پابندیاں ختم کرنی ہوں گی، نئے ڈومیسائل قانون کو ختم کرنا ہو گا جو غیر کشمیریوں کو متنازع علاقے میں آباد ہونے کی اجازت دیتا ہے، وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں اور پاکستان میں ریاستی دہشت گردی کو روکنا ہو گا۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے سے متعلق بھی بات کی گئی، انٹرویو میں بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ دسمبر 2014 میں اے پی ایس پشاور میں دہشت گرد حملے کا ماسٹر مائنڈ ''را'' کے ساتھ رابطے میں تھا، بھارت پر واضح کیا گیا کہ اس نے پاکستان کے ایک ہمسایہ ملک میں اپنے سفارتخانوں کو استعمال کر کے گوادر کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل، کراچی میں چینی قونصل خانے اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دہشت گردی کی سہولت کاری اور سرپرستی کی تھی۔

بھارت نے افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں کے انضمام کو یقینی بنانے کے لیے ایک ملین ڈالر خرچ کیے، اس کے ساتھ ہی بھارت پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ ایک طرف وزیر اعظم عمران خان پر امن ہمسائیگی چاہتے ہیں لیکن بھارت کی توسیع پسند اور ہندوتوا پالیسیاں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جب کہ دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اگر بھارت نے ایک قدم آگے بڑھایا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔

خطے کی اسٹریٹجک صورتحال کے سیاق وسباق میں بھارت کی طرف سے ممکنہ بات چیت کا عندیہ بہر حال خوش آئند ہے چونکہ مذاکرات ہی سے دو ایٹمی ہمسایہ ملکوں میں مخاصمت، بداعتمادی، کشیدگی، تناؤ اور شکوک وشبہات کا ازالہ ہوسکتا ہے اور خطے میں جنگ اور بربادی کی باتوں سے آگے بڑھ کر علاقائی سطح پر تنازعات کا دوطرفہ بات چیت سے ہی کوئی حل نکالا جاسکتا ہے، اگر بھارت مذاکرات میں مخلص ہے تو اسے پاکستان کی پیش کردہ شرائط کو قبول کرنے میں دیر نہیں کرنی نہیں چاہیے، زمینی حقائق سے بھارت منہ نہیں موڑ سکتا۔

اسے اپنے مائنڈ سیٹ، سفارتی رویے، سیاسی اور تزویراتی حقائق کی فرضی اور خود ساختہ توضیح میں وقت ضایع نہیں کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے کے دو بڑے مسئلوں، کشمیر اور دہشت گردی کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ڈائیلاگ کو موقع دیتے ہوئے پاک بھارت بات چیت کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں، اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستانی حکومت خطے کی خوشحالی کے لیے معاشی تحفظ اور رابطہ کاری کے لیے کوشاں ہے جب کہ نئی دہلی کے پالیسی ساز ہندوتوا کے نظریے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

بی جے پی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے بھارت اپنے پڑوسی کھو بیٹھا ہے، بھارت سمجھوتہ ایکسپریس، مالیگاؤں دھماکوں، بابری مسجد انہدام کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہا ''را'' کی بھارتی سفارتخانے کے ذریعہ تحریک طالبان پاکستان کو کروڑوں ڈالر کی ادائیگیوں کے بارے نئے انکشافات کیے گئے، گلگت بلتستان اور مسئلہ کشمیر پر بھارت کے تازہ ترین پروپیگنڈے کو غیر موثر کیا گیا۔ بھارتی صحافی نے یہ سوال کیا کہ بات چیت کیسے ہوگی جب وزیر اعظم نریندر مودی کو نازی ڈکٹیٹر کہا جاتا ہے تو انھیں بتایا گیا کہ بات چیت دو ریاستوں کے مابین ہوتی ہے۔

بلاشبہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور بھارت کے ساتھ کسی بھی مکالمے کا خیر مقدم کرے گا تاہم مذاکرات کی خواہش اور حقیقی ڈائیلاگ دو الگ چیزیں ہیں، اس لیے یہ صائب رائے ہوگی کہ بھارت مکالمہ کا ماحول پیدا کرے اور پھر سنجیدہ گفتگو پر آمادہ ہو جس کی شرائط بھی پاکستان پیش کرچکا ہے۔

بھارت کے پالیسی سازوں کو سوچنا چاہیے کہ انھوں نے جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے'اس کا نتیجہ بھارت ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے اچھا نہیں نکلے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ وہ کر رہا ہے 'اسے کشمیری تو تسلیم ہی نہیں کرتے 'پاکستان بھی بھارتی اقدامات کا سخت مخالف ہے جب کہ عالمی سطح پر بھی بھارت کے اقدام کو سراہا نہیں جاتا۔ اسی طرح بھارت نے چین کے ساتھ لداخ میں تنازع کھڑا کر رکھا ہے۔

جنوبی ایشیا کے ممالک پر مشتمل تنظیم سارک کو مفلوج کرنے والا بھی بھارت ہی ہے۔ اس لیے سب سے زیادہ ذمے داری بھارت پر ہی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ اگر بھارت ایسا کرتا ہے تو پاکستان اس سے ایک قدم آگے بڑھ کے اپنے حصے کا کردار ادا کرے گا۔

بھارت کو پاکستان کے ساتھ ڈائیلاگ شروع کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ بھارت کی جنتا پارٹی کے نظریات خواہ کچھ بھی ہوں لیکن بھارتی حکومت کو عالمی سیاست کے اسراررموز کو سمجھتے ہوئے حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

بھارت نے اپنی طرف سے امریکی کیمپ کا حصہ بن کر سمجھا ہے کہ شاید وہ اس خطے کی سب سے بڑی فوجی اور اقتصادی قوت بن جائے گا لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو اس پالیسی کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو گا۔ بھارت اگر اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہتر بناتا ہے ' تب کہا جا سکتا ہے کہ بھارت اقتصادی ترقی میں آگے جا رہا ہے۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ چین کے ساتھ بھارت فوجی اور اقتصادی دونوں قسم کی محاذ آرائی میں مبتلا ہے ۔کشمیر کے معاملے پر اس کے پاکستان کے ساتھ تنازعات ہیں۔ بنگلہ دیش 'سری لنکا اور نیپال کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں بھارت کے لیے یہی آپشن بچتی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے ' اپنے رویے میں لچک پیدا کرے تاکہ باہمی تنازعات کو حل کرنے کی کوئی راہ سامنے آ سکے۔

مقبول خبریں