مسلم لیگ کی بیل اور امیر مقام نام کا پیڑ

ماننا پڑا کہ جناب نواز شریف اگر جدی پشتی اور خاندانی سیاست دان نہیں ہیں لیکن انگور کی کاشت میں تجربہ رکھتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq December 22, 2013
[email protected]

وکوئی کچھ بھی کہے، سنے، بولے، لکھے یا سمجھے ہم تو جناب امیر مقام کے فین ہو گئے فین کیا ایئر کولر کہئے بلکہ اگر استطاعت ہوتی تو ہم پورے ڈیڑھ ٹن کے ایئر کنڈیشنر بن سکتے تھے کسی سے ڈرنے ورنے گھبرانے یا شرمانے والے تو ہم ہیں نہیں کیوں کہ خوشحال خان خٹک کے پیروکار ہیں اور انھوں نے کہا تھا

زہ خوشحال کمزورے نہ یم چہ بہ ڈار کڑم
پہ خکارہ نعرے وہم چہ خولائے را کڑہ

یعنی ''میں خوشحال کوئی کمزور تو ہوں نہیں جو کسی سے ڈروں بلکہ کھلے عام کہہ رہا ہوں کہ اس نے مجھے بوسہ دیا ہے'' اور پھر کچھ زیادہ نامی گرامی نہ سہی کچھ ماڑے ماٹھے پشتون بھی ہیں نام کے ساتھ خان کا دم چھلہ نہ سہی لیکن خو بو تو وہی ہے یعنی نہ کسی کی بدی فراموش کرنا اور نہ کسی کا احسان بھولنا ۔۔۔۔ اور یہ ہم کوئی منہ زبانی نہیں کہتے بلکہ ہمارے پاس باقاعدہ تحریری ثبوت موجود ہے کہ صنوبر نے ''گل'' کے ساتھ ایسا نہیں کیا ہو گا جیسا ہم نے اے این پی کے خود ساختہ لیڈروں، مصنوعی شیروں کے ساتھ کیا ہے، انھوں نے ہمارے ماضی کو ضایع کر دیا اور ہم نے ان کا حال و مستقبل دونوں خراب کر دیا بلکہ اب بھی چھوڑنے والے نہیں ہیں

دل میں ہمارے جو بھی ہے تلخی بھری ہو،
سر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہئے بغیر

خیر چھوڑیئے اے این پی اور ہمارا تو جنم جنم کا ساتھ ہے بلکہ سات جنموں کا کہئے کیوں کہ وہ تو بولنے اور کرنے والے تھے جو ''بول'' بھی چکے اور ''کر'' بھی چکے جو ان کے بس میں تھا اور ہم لکھنے والے ہیں اس لیے پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے اور لکھے ہوئے کے بارے میں ایک بڑا ہی دانائی بھرا ٹپہ ہے کہ

گتے قلم تہ پہ چڑا شوے
خط بہ باقی وی مونگ بہ تورے خاورے شو نہ

یعنی انگلیاں قلم کے سامنے رو پڑیں کہ ہمارا لکھا ہوا تو ''باقی'' رہے گا لیکن ہم تم خاک ہو جائیں گے، اور اب جو امیر مقام کے دل میں ہمارا مقام ہے تو ہم کیوں نہ اپنے دل میں ان کو مقام دیں گے اس لیے ان کے بلانے میں اس استقبالیہ تقریب میں چلے گئے جو مسلم لیگ والوں نے ان کے اعزاز میں بمقام پشاور منعقد کی تھی اس سلسلے میں ہمارا پہلا تاثر تو وہی تھا کہ

اٹھے تھے ہم ذرا صبح سویرے
گئے جب ہم سلیم اللہ خان صاحب کے ڈیرے
وہاں دیکھے کئی طفل پری رو
ارے رے ارے رے ارے رے اریرے

مسلم لیگ کے بڑے بڑے ممتاز رہنماء وہاں اپنی پوری پوری ہستیوں کے ساتھ براجمان تھے اور مائیک پر ایک ہی بات پکاری جا رہی تھی کہ مہربانی کر کے آگے مت آیئے آگے کی کرسیاں ساری بھر چکی ہیں اس لیے آپ اپنی تشریف پیچھے کی کرسیوں پر رکھیں، تقریب کے بارے میں تو ذرا بعد میں بات کریں گے پہلے تھوڑا سا مسلم لیگ کے بارے میں کچھ کہا جائے

زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے ہاتھ نے تھپڑ مری ''دہاں'' کو دیے

ویسے تو مسلم لیگ بڑی زبردست ''نبات'' ہے انتہائی سرسبز، سبز قدم اور ہری بھری، لیکن یہ ان پیڑ پودوں میں سے ہے جو پھلتی پھولتی تو خوب ہے جب موسم سازگار ہو، لیکن اپنی فطرت میں انگور کی طرح ہے بلکہ انگور ہی ہے بغیر کسی سہارے کے زمین پر ہی پڑی رہتی ہے بہت میٹھا میٹھا پھل دیتی جس سے کئی ادویات مرکبات اور مصنوعات بنتی ہیں سرکہ بھی انگور کی بیٹی ہے لیکن کچھ لے پالک سی ہے، اس کی پیاری لاڈلی اور خوب صورت بیٹی شراب ہے جسے شاعر لوگ ''دخت رز'' بھی کہتے ہیں اور اس کی بے راہ روی کے قصے چار دانگ عالم میں پھیلے ہوئے ہیں ویسے تو یہ طوائف ہے لیکن انتہائی اونچے درجے کی طوائف ہے
شاعر نے اس کے بارے میں کہا ہے
اس کی بیٹی نے اٹھا رکھی ہے سر پر دنیا
وہ تو اچھا ہے کہ انگور کے بیٹا نہ ہوا

ورنہ وہ نہ جانے کیا کیا حشر برپا کرتا، ہم بھی کہاں سے کہاں پہنچ گئے بات مسلم لیگ کی کر رہے تھے اور پہنچ گئے انگور اور اس کی دختر بلند اختر تک ۔۔۔ جانا تھا جاپان، پہنچ گئے چین ۔۔۔۔ انگور اور مسلم لیگ دونوں ہی ایک جیسے ہیں بغیر سہارے کے یہ نیچے زمین پر بل کہ قدموں میں پڑے رہتے ہیں، پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کی صورت میں، ہاں اگر کسی دوسرے پیڑ کی لکڑی کا سہارا ملے تو ایک دم باغ و بہار ہو کر میٹھا میٹھا پھل دینے لگتی ہے خاص طور پر وہ سہارا کرسی کی صورت میں ہو تو پھر یہ ''کرنسی'' بھی دینے لگتی ہے

کرسی بغیر جی نہ سکا لیڈر اے اسدؔ
سر گشتہ خمار ''رقوم و عہود'' تھا

بلکہ کرسی اور کرنسی بھی جڑواں ہیں صرف ایک ''ن'' کا فرق ہوتا ہے اور یہ بالکل آٹو میٹک طریقے پر ہوتا جہاں کرسی کا سہارا ملا کرنسی کی پیداوار چالو ۔۔۔ کرسی اور کرنسی کے درمیان کا رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ آج تک کوئی بھی اسے توڑ نہ سکا لیکن غلط مت سمجھئے یہ وہ ''ن'' نہیں ہے جو آج کل مسلم لیگ کے زیر استعمال ہے بلکہ یہ دوسری الگ کیٹگری کا ''ن'' ہے جو کرسی کے ساتھ جڑواں ہوتا ہے اسی لیے تو کہا جاتا ہے

جہانِ یارِ من کرسی و من کرسی نہ مے دارم
ایمانِ یارِ من کرنسی و من کرنسی نہ مے دارم

ان ساری واہی تباہی باتوں کا مطلب یہ ہے کہ کرسی کے بغیر مسلم لیگ کا انگور منڈھے چڑھتا ہی نہیں اور اپنے خیبر پختون خوا میں گذشتہ انتخابات کے بعد اس سے یہ سہارا چھن گیا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سکڑ سمٹ تو جاتی ہے مگر مرتی کبھی نہیں ہے، سرسبز بہرحال رہتی ہے صرف پھل نہیں دیتی، کیوں کہ اس کی پرورش بلی کے دودھ اور کھاد سے کی جاتی ہے اور پھر ایک دن جب سہارا ملتا ہے تو فوراً ہی نہ جانے کہاں کہاں سے اس میں شاخیں کونپلیں اور پتے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں اور اس دن ہم یہی دیکھ رہے تھے پورے ہال میں سرسبزی اور ہریالی ہی ہریالی تھی اتنی ہریالی کہ ہمیں قدم رکھنے کے لیے راستہ نہیں مل رہا تھا

ماننا پڑا کہ جناب نواز شریف اگر جدی پشتی اور خاندانی سیاست دان نہیں ہیں لیکن انگور کی کاشت میں تجربہ رکھتے ہیں، انھوں نے دیکھ لیا تھا کہ انگور پنپ نہیں رہا ہے پتے زرد ہو رہے ہیں شاخیں سوکھ رہی ہیں اور لوگ اس سے ٹہنیاں کاٹ کاٹ اپنے باغوں میں لگوا رہے ہیں اور اگر ایسا رہا تو ایک دن انگور صرف ایک ٹنڈ منڈ لکڑی ہی رہ جائے گا، آدمی ایک بہترین انگور شناس اور مالی ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین بھی ہیں اس لیے باقاعدہ چن کر بڑے زبردست اور تناور پیڑ کا انتخاب کیا جس کا نام امیر مقام ہے، جناب امیر مقام کے بارے میں کوئی کچھ بھی کہے لیکن یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ ان میں ایک مضبوط پیڑ کی تمام خصوصیات شامل ہیں اور انگور کے لیے ایک ایسے ہی پیڑ کا سہارا چاہیے ہوتا ہے اور اس دن ہم نے دیکھ لیا کہ وہ کس طرح انگور کی گری پڑی بیلوں کو اٹھا اٹھا کر اپنے گرد لپیٹ رہے ہیں، ایسا لگا جیسے کوئی معجزہ ہو گیا اور اچانک بہار نے انگور کو ایک مرتبہ پھر زندہ اور ہرا بھرا کر دیا، ہمارا تو نہ مسلم لیگ سے کوئی تعلق ہے نہ کسی اور پارٹی سے ، ایک اس بے وفا، جفا کار ستم پیشہ سے بالکل ہی جائز تعلق تھا لیکن وہ بھاگ کر امریکا کی آغوش میں چلی گئی اس لیے تارک الدنیا ہی ہو گئے لیکن اس تقریب میں گئے اور اس لیے گئے کہ ذرا دیکھیں تو سہی کہ مردہ انگور زندہ ہوتا ہے یا نہیں اور وہ واقعی زندہ ہوتا ہوا نظر آیا۔