نئے ٹیلنٹ کا آکسیجن پاکستانی بیٹنگ قدموں پر کھڑی ہونے لگی

پیس بیٹری کی طاقت بڑھانے کے لیے اچھے بولرز تلاش کرنا ہوں گے


Saleem Khaliq December 22, 2013
پیس بیٹری کی طاقت بڑھانے کے لیے اچھے بولرز تلاش کرنا ہوں گے۔ فوٹو : فائل

نئے ٹیلنٹ کی آکسیجن ملنے سے پاکستانی بیٹنگ دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑی ہونے لگی ہے۔

سری لنکا سے سیریز کے ابتدائی دونوں میچز میں ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں نے عمدہ پرفارم کیا، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دیگر پلیئرز پر دباؤ کم ہو جائے گا۔ جیسے پہلے ون ڈے میں مصباح الحق اور دوسرے میں عمر اکمل کو بیٹنگ کا موقع ہی نہ ملا، یہ خوش آئند علامت ہے، کسی ایک کھلاڑی پر انحصار کر کے میچ نہیں جیتا جا سکتا، البتہ اگر تمام پلیئرز تھوڑا بہت بھی حصہ ڈالیں تو منزل تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے، اس کی واضح مثال دوسرے ون ڈے میں سری لنکا کی فتح ہے، اگر آپ اسکور کارڈ دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ سنگاکارا کے سوا کسی نے نصف سنچری تک نہیں بنائی لیکن ٹیم 287 کے ہدف تک پہنچ گئی۔ 30،40 رنز کے کنٹری بیوشنز کافی ثابت ہوئے، ہمیں بھی ایسا کرنا ہو گا، بیٹنگ میں اتنی گہرائی لانی چاہیے کہ پتا بھی نہ لگے اور ٹیم کا بڑا اسکور بن جائے۔ دبئی میں بیشتر وقت پاکستانی ٹیم کا غلبہ رہا لیکن میچ آئی لینڈرز نے جیت لیا، اس کی وجہ بھرپور منصوبہ بندی سے ہدف کا تعاقب کرنا تھا۔

ون ڈے سیریز سے قبل پاکستانی کپتان مصباح الحق اوس کے حوالے سے بیانات دیتے رہے لیکن حیران کن طور پر پہلے میچ میں ٹاس جیت کر بیٹنگ کر لی۔ ٹیم کو اب ٹارگٹ کا پیچھا کرنے کے خوف سے نجات پانا ہوگی۔ ہمیشہ سکہ آپ کے رخ پر نہیں گرے گا، دوسری ٹیمیں بھی ہماری اس کمزوری کو جان چکی ہیں اور اس کا فائدہ اٹھائیں گی۔ سری لنکا خود ہدف کے تعاقب میں مہارت رکھتا ہے اسی لیے دوسرے میچ میں ٹاس جیت کر گرین شرٹس کو بیٹنگ کی دعوت دی، مگر ہمیں بھی موقع ملنے پر ثابت کرنا ہو گا کہ اگر 300 رنز تک بھی پہنچنا ہو تو ایسا کر سکتے ہیں۔

صہیب مقصود انتہائی باصلاحیت بیٹسمین ہیں مگر وہ عمر اکمل کی راہ پر چل نکلے۔ انہی سطور میں پہلے بھی تذکرہ کیا جا چکا کہ سیٹ ہونے کے بعد اچانک اونچا شاٹ کھیل کر وکٹ گنوانا کسی صورت مناسب نہیں،یہ خامی ان کا کیریئر تباہ کر دے گی۔ پہلے ون ڈے میں انھیں سنچری کا موقع ملا لیکن حفیظ دو رنز کی کال دے کر انھیں رن آؤٹ کرا گئے،دوسرے میچ میں صہیب نے پھر سابقہ غلطی دہرائی اور پرسنا کی گیند کو چندیمل کی جانب اچھال کر وکٹ گنوا دی،آج اگر ویرت کوہلی دنیا کے بہترین بیٹسمینوں کی فہرست میں شامل ہیں تو اس کی وجہ مسلسل عمدہ بیٹنگ بنی۔ عمر اکمل کو یکساں ٹیلنٹ کے باوجود کیوں اب تک سپراسٹار کا درجہ نہیں ملا اس کی وجہ کارکردگی میں عدم تسلسل ہے،صلاحیت کے ساتھ دماغ کا استعمال بھی ضروری ہے، صرف ٹنڈولکر کی طرح بڑے ہیڈفونز کانوں پر لگانے اور رنگین گلاسز پہننے سے کوئی عظیم بیٹسمین نہیں بن جاتا۔ عمر اکمل اور صہیب کو اپنے ٹیلنٹ سے انصاف کرنا ہو گا، انھیں غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، ورنہ پاکستانیوں کی یادداشت بڑی کمزور ہے جلد ہی سابقہ کارکردگی بھول کر ٹیم سے نکالنے کا مطالبہ کرنے لگیں گے۔

پاکستان ان دنوں عمر اکمل سے وکٹ کیپنگ کا اضافی کام بھی لے رہا ہے، ٹی ٹوئنٹی کی حد تک تو ایسا درست ہے مگر ون ڈے میں وہ بعض اوقات سنگین غلطیوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں، خصوصاً اسپنرز پر کیپنگ کرتے ہوئے بعض تیز کیچز گلوز میں محفوظ نہیں ہو پاتے، ایک روزہ کرکٹ کے لیے سلیکٹرز کو اچھا وکٹ کیپر بیٹسمین تلاش کرنا ہو گا، سرفراز احمد کو کئی مواقع دیے جا چکے اور وہ ٹیم میں جگہ مستقل نہ بنا سکے، اتنی ساری ڈومیسٹک ٹیمیں ہیں ان میں سے کسی کا تو وکٹ کیپر اس قابل ہو گا کہ قومی ٹیم کی نمائندگی کر سکے، سلیکٹرز کو اس حوالے سے سوچنا ہو گا، اس ضمن میں منیجر معین خان سے رہنمائی بھی لی جا سکتی ہے۔

گذشتہ مضمون میں شرجیل خان کے ٹیلنٹ کا کچھ ذکر کیا تھا، اوپنر نے عمدہ بیٹنگ سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ پاکستانی ٹیم کے کام آ سکتے ہیں، احمد شہزاد کی بیٹنگ میں بھی پختگی نظر آنے لگی، یہ دونوں مل کر مختصر طرز کی کرکٹ میں گرین شرٹس کے اوپننگ مسائل حل کر سکتے ہیں،خوش آئند بات حفیظ کا فارم میں واپس آنا بھی ہے، گوکہ قسمت بھی ان کے ساتھ ہے اور کئی مواقع بھی ملے لیکن ان کی بیٹنگ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اعتماد کی کمی کا مسئلہ حل ہو گیا، اس سے پہلے جب انھوں نے سنچری بنائی تو پھر اگلی 8 اننگز میں ففٹی بھی نہ کر سکے اور بُری طرح ناکام رہے، امید ہے کہ اس بار ایسا نہ ہو گا،ایک بڑی اننگز کھیلنا کمال نہیں، اصل کارنامہ کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھنا ہوتا ہے، سچن ٹنڈولکر جیسے پلیئرز کو اسی خوبی نے عظیم بیٹسمین بنایا۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اپنے دور میں کیا ''کارنامے'' انجام دیے کھیل سے علیحدگی کے بعد وہ یاد نہیں رہتے، مجھے ان دنوں ٹیلی ویژن پر ایک سابق کرکٹر کو اخلاقیات کا درس دیتے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے جنھوں نے خود ایسے ایسے کام کیے جو تحریر بھی نہیں کیے جا سکتے۔ دورۂ بھارت میں ایک اوپنر کی اہلیہ کو موصوف نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ '' کہاں تم اس بندر کے ساتھ رہ رہی ہو، میرے ساتھ آ جاؤ زندگی بدل دوں گا۔'' اس پر معاملہ دونوں کرکٹرز کی ہاتھا پائی تک پہنچ گیا تھا، پاکستانی کرکٹ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن افسوس ماضی کے بہت سے ایسے کردار اب ''دودھ کے دھلے'' بن چکے اور ہمارے نوجوان ان کو اپنا رول ماڈل سمجھ کر محمد عامر کی طرح کرپشن کی راہ پر چل کر کیریئر داؤ پر لگا دیتے ہیں۔



میرے عزیز دوست یحییٰ حسینی اکثر یہ کہتے ہیں کہ ''جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے'' میں ان سے سو فیصد متفق ہوں، ہمارے بہت سے سابق کرکٹرز میڈیا میں ان رہنے کے لیے ایسے ایسے بیانات دے جاتے ہیں کہ پھر ٹیم جیت جائے تو منہ چھپانے کی نوبت آ جاتی ہے، مگر انھیں اس بات کی داد دینا ہو گی کہ پھر بھی بے شرمی سے اگلے دن بیٹھے تبصرے کر رہے ہوتے ہیں، شعیب اختر نے تو پہلے ون ڈے کے بعد ایک نجی ٹی وی پر یہ تک کہہ دیا کہ میرے تبصروں نے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کرکٹرز یو اے ای میں میچز کھیلنے کے بجائے ٹی وی پر ان کے مشورے ہی سنتے رہتے ہیں،تنقید ضرور کریں مگر اس کی آڑ میں اپنے سابقہ حساب چکتا کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

زندگی کے کسی بھی شعبے میں اگر بغیر تیاری کے کوئی کام کریں تو اکثر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کرکٹ کھیلنا تو دور کی بات تبصروں میں بھی ایسا ہو جاتا ہے، مجھ جیسے عام صحافی کو ویسے تو ٹی وی سے دور ہی رکھا جاتا ہے مگر کبھی کوئی مہمان نہ ملے تو بلانا پڑتا ہے، ماضی میں ایک آدھ بار حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو کر بغیر تیاری کے کسی شو میں شریک ہوا تو اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ کتنی بڑی غلطی کر بیٹھا،کرکٹ میں عبدالرزاق کی حالیہ ناکامی دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بھی ایسا ہی کر گذرے، انھوں نے سوچا کہ انٹرنیشنل کرکٹ تو کھیلتا ہی چلا آ رہا ہوں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا لہٰذاگنتی کے ڈومیسٹک میچز کھیل کر ٹیم میں واپس آ گئے، ہزاروں شائقین کے سامنے جب ورلڈ کلاس جنوبی افریقی ٹیم کا سامنا کیا تو اعتماد کم ہو گیا، بولنگ میں تاثر نہ چھوڑ سکے جبکہ رہی سہی کسر عمران طاہر کی اندر آتی گیند کو لیفٹ کرنے سے پوری ہو گی، اس سے عبدالرزاق بکھر کر رہ گئے اور اب کرکٹ سے دور ہیں، ایسا کسی صورت درست نہیں ہے، وہ اب بھی پاکستان کا اثاثہ ہیں۔

مصباح الحق 40 برس کی عمر میں کھیل رہے ہیں، عبدالرزاق تو 34 سال کے ہیں، انھیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے، وہ فائٹر ہیں، اگر اس طرح کرکٹ چھوڑی تو دنیا کو ان کے کارنامے یاد نہیں رہیں گے اور کیریئر کا بدترین اختتام ہی لوگوں کے ذہنوں میں رہے گا، یہ کسی صورت درست نہیں، عبدالرزاق کو اپنی فٹنس پر کام کرتے ہوئے ڈومیسٹک میچز میں حصہ لینا چاہیے، ابھی دنیا ختم نہیں ہوئی، ان کی کرکٹ باقی ہے، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیم کو عبدالرزاق کی ضرورت محسوس ہو گی،بورڈ اور شائقین کو بھی انھیں سپورٹ کرنا چاہیے۔ اسی طرح شعیب ملک کو بھی فراموش کرنا درست نہ ہوگا، وہ اب فٹ ہو کر بگ بیش کھیلنے کے لیے آسٹریلیا پہنچ چکے، وہاں اگر ورلڈ کلاس بولرز کے سامنے اچھا پرفارم کریں تو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کھلانا مناسب رہے گا، بہترین آل راؤنڈرز کی موجودگی سے پاکستانی فتح کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

معین خان کا تقرر کالعدم قرار پانے کے بعد قومی کرکٹ سلیکشن کمیٹی ان دنوں کسی باضابطہ سربراہ سے محروم ہے،ماضی میں صلاح الدین صلو جیسے چیف سلیکٹر بھی رہے جنھوں نے چیئرمین بورڈ تک کی ڈکٹیشن ماننے سے انکار کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا، اب بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں، چیف سلیکٹر کا عہدہ اعزازی کر کے کسی بڑے نام کو سامنے لانا چاہیے، یقینا کئی سابق کرکٹرز یہ ذمہ داری انجام دینے کو تیار ہوں گے، یوں ہر ماہ ملنے والی بڑی رقم کے چیک سے محرومی اور حکام کی ناراضی کا خوف کیے بغیر وہ اہم فیصلے کر سکیں گے، بدقسمتی سے بیچارے موجودہ سلیکٹرز اتنے بڑے کرکٹرز نہیں رہے کہ اپنی اتھارٹی منوا سکیں، اسی لیے مصباح الحق، محمد حفیظ اور کبھی کبھی چیئرمین بورڈ بھی من مانی کر جاتے ہیں۔

عثمان خان شنواری کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا، انتخاب عالم جیسے مشیروں کے مشورے پر نجم سیٹھی نے انھیں قومی ٹیم میں شامل کرایا، وہاں حفیظ نے فیلڈ میں اپنے راج کا ثبوت دیتے ہوئے ڈیبیو پر انھیں ایک ہی اوور دیا، پھر دوسرے میچ سے قبل جب بازپرس ہوئی تو اپنے فیصلے کو درست ثابت کرنے کے لیے بھرپور پٹائی کے باوجود عثمان سے کوٹے کے مکمل 4 اوورز کرائے، اس وجہ سے ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، ذاتی انا کی تسکین کے لیے نہ صرف ایک نوجوان کے کیریئر سے کھیلا گیا بلکہ پاکستان میچ بھی ہار گیا، اس کی حفیظ سے بازپرس ہونی چاہیے، ویسے اگر پاکستان کو ورلڈٹی ٹوئنٹی جیتنا ہے تو شاہدآفریدی کو کپتان بنانا مناسب رہے گا، وہ ٹیم میں نئی روح پھونک سکتے ہیں،ان کی کھوئی ہوئی بیٹنگ فارم بھی واپس آ چکی اور وہ ٹیم مین ہیں، بولنگ تو پہلے سے ہی آفریدی بہترین کر رہے ہیں، ورلڈ کپ 2011 میں بھی آفریدی کی کپتانی میں ٹیم سیمی فائنل تک پہنچ گئی تھی، وہ میچ پاکستان کیوں ہارا وہ ایک الگ کہانی ہے جس پر کبھی بعد میں بات کریں گے،مگر اب ٹیم کو ایک ایسے فائٹر کپتان کی ضرورت ہے جو کھلاڑیوں کو متحرک رکھ سکے، ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کو یہ بات پسند نہ آئے لیکن ٹی ٹوئنٹی میں آفریدی کو کپتان بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

نجم سیٹھی ان دنوں یو اے ای میں بطور چیئرمین پی سی بی ملنے والے پروٹوکول سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہ اب تک یہ شکوہ کرتے ہیں کہ عدالت نے اختیارات نہیں دیے جس کی وجہ سے بڑے فیصلے نہیں کر پا رہے، معین خان کو چیف سلیکٹر کے بعد منیجر بنانا، چند کروڑ روپے کے لیے ٹیم کا دورۂ جنوبی افریقہ، عبدالقادر جیسے سابق اسٹار سمیت ملازمین کی بورڈ سے چھٹی، مصباح الحق کو ورلڈ کپ 2015ء تک کپتان مقرر کرنا، اگر وہ انھیں چھوٹے فیصلے سمجھتے ہیں تو بڑے فیصلے کیا ہوں گے؟ البتہ پی سی بی کے انتخابات کے حوالے سے بدستور خاموشی چھائی ہوئی ہے، شائد یہ عبوری سیٹ اپ ہی کئی برسوں تک قائم رہے گا۔

پاکستان کو اب اچھے پیسرز بھی تلاش کرنے ہوں گے، سہیل تنویر کی بولنگ میں وہ کاٹ نہیں جو انھیں مہلک بنا سکے، حالیہ دونوں ون ڈے میں انھوں نے فی اوور ساڑھے 6 سے زائد کے تناسب سے رنز دیے، ٹیم کو جب ضرورت تھی تو وہ رنز کا دفاع نہ کر سکے، سہیل ٹی ٹوئنٹی کے لیے ہی بہتر ہیں،اسی طرح بلاول بھٹی کو بھی ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے،اس وقت جنید خان سب سے اچھے پیسر ہیں، نئی گیند کا انہی سے استعمال کرانا چاہیے، وہ ابتدا میں وکٹیں لے کر ٹیم کے کام آ سکتے ہیں، عمر گل بھی فٹ ہو چکے اور ڈومیسٹک میچز میں اچھا پرفارم کر رہے ہیں، صحت یابی کے بعد محمد عرفان کی خدمات بھی دستیاب ہوں گی۔ دونوں کی واپسی سے پیس اٹیک مستحکم ہو گا۔

بنگلہ دیش کے سیاسی حالات ان دنوں خاصے خراب ہیں جس کی وجہ سے ایشیا کپ اور ورلڈٹی ٹوئنٹی کی میزبانی بھی خطرے میں پڑ چکی، پاکستان کے ساتھ سیاسی محاذ پر بھی بنگلہ دیش کی کشیدگی چل رہی ہے، اسی وجہ سے یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ شائد ٹیم کو وہاں نہ بھیجا جائے، پی سی بی کو اس ضمن میں جلدبازی سے گریز کرنا چاہیے، ابھی سے ایسے بیانات دے کر بُرا بننے کی کیا ضرورت ہے، موجودہ حالات دیکھتے ہوئے دونوں بڑے ایونٹس کا بنگلہ دیش میں انعقاد ممکن نہیں لگتا، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کی سینئر و جونیئر ٹیمیں وہاں سے خود دھماکوں کی آوازیں سن کر آئیں، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ بھی اپنے پلیئرز کو وہاں نہیں بھیجیں گے، ایسے میں ہمیں آگے آکر پوزیشن خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے، اس وقت ''دیکھو اور انتظار کرو'' کی پالیسی بہترین رہے گی۔

[email protected]