اقتصادی آسودگی کے اہم اہداف

برآمدات میں اضافہ قرض کے بڑھتے ہوئے حجم کو کنٹرول کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔


Editorial October 24, 2020
برآمدات میں اضافہ قرض کے بڑھتے ہوئے حجم کو کنٹرول کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ (فوٹو، فائل)

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ غریب افرادکو بینکوں سے قرضوں کے حصول میں ہر قسم کی آسانی فراہم کی جائے ۔ تمام صوبے تعمیرات کی منظوری کے عمل کو شفاف اور جلد ممکن بنانے کے لیے آن لائن پورٹل کا بھر پور استعمال کریں۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ، تعمیرات وڈیویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس ہوا۔گورنراسٹیٹ بینک نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے بریفنگ دی۔

نیشنل بینک، الائیڈ بینک، میزان بینک، بینک الحبیب، حبیب بینک اور بینک آف پنجاب کے سربراہان نے وزیر اعظم کو ''نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام'' کے تحت قرضوں کی فراہمی کے بارے میں آگاہ کیا۔وزیر اعظم کوبتایا گیا کہ مزید پرائیویٹ بینک بھی قرضوں کی فراہمی شروع کردیں گے۔

یہ امر خوش آیند ہے کہ رفتار معیشت کے درست سمت میں جانے کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں، حکومت نے اچھے فیصلے کیے ہیں، تعمیرات کے شعبے میں بڑی پیشرفت معیشت کے مفاد میں ہے، اقتصادی اشاریے بھی ایک مربوط اور نتیجہ خیز پیشرفت کے ساتھ عوام کو ثمرات دینے کی نوید سنا سکتے ہیں۔

تاہم مزید اقتصادی آسودگی عوام کے لیے مفید جب ہو گی اگر معاشی ماہرین مختلف معاشی عوامل اور حکومتی اقتصادی پالیسیوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے ایک گریٹر معاشی روڈ میپ کی طرف سفر بھی تیز تر کر دیں جس سے ایک طرف معیشت سے متعلق مایوس کن فیڈ بیک کا سلسلہ مدھم ، افواہوںکی رفتار سست جب کہ معاشی گہماگہمی کا مثبت منظرنامہ ابھرکر سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرے گا، دوسری طرف مارکیٹ میں گردش کرنے والی اطلاعات سے معیشت کے استحکام کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

مثال کے طورپر مسابقتی کمیشن نے اپنی ایک انکوائری رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں چینی بحران اور قیمتوں میں اضافہ کا ذمے دار شوگرملزکے گٹھ جوڑ کو قرار دیا اورکہا ہے کہ شوگر ملز نے70ارب کا ناجائز منافع کمایا، انکوائری رپورٹ کے مطابق بڑی ملیں گنے کی کرشنگ کے فیصلے ملی بھگت سے کرتی رہیں، اسٹاک اورڈیٹا کوسپلائی اور قیمتوں کوکنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

چینی کی برآمد کی اجازت سے گزشتہ ڈیڑھ برس میں قیمت18روپے فی کلوگرام بڑھی جس سے شوگر ملزکے ریونیو میں40ارب روپے اضافہ ہوا۔ شوگرملز کی پیداواری لاگت43 روپے فی کلو بعض کی 78روپے فی کلو ہے جب کہ مجموعی طور پر قیمتوں میں38روپے فی کلوگرام اضافہ ہوا، پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن چینی کی درآمد اور برآمد کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتی رہی۔ شوگر ملز غیر مسابقتی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

بڑی ملیں گنے کی کرشنگ کے فیصلے ملی بھگت سے کرتی رہیں۔ شوگر ملز نے ملی بھگت اورگٹھ جوڑ سے چینی کی قیمتوں پرکنٹرول برقراررکھتے ہوئے اضافہ کیا جب کہ چینی کی برآمدکی اجازت دینے سے چینی کی قیمت میں48 فیصد اضافہ ہوا، شوگرملز پرکنٹرول جے ڈی ڈبلیو گروپ کا ہے۔

فروری 2019میں چینی کی ریٹیل پرائس 60روپے کلو تھی جو ستمبر2020 میں بڑھ کر 98روپے کلو ہوگئی ، ڈیڑھ سال میں قیمت میں 63 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، پنجاب کی 15شوگر ملز نے جان بوجھ کرکرشنگ کو بند کیا، نومبر سے فروری کے دوران پیداوار کے بعد چینی کے8 ماہ کے لیے موجود اسٹاک کو برآمد کر دیا جس سے قلت پیدا ہو گئی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ کمیشن کی رپورٹ چینی بحران کے حوالہ سے چشم کشا ہے۔

اس کے صائب اثرات معیشت اور عوام کی زندگیوں پر مثبت آنے چاہئیں، رپورٹ کے مطابق شوگر ملز نے اجارہ داری کے لیے پنجاب کو غیرمتوازن اندازمیں 5 زون میں تقسیم کیا اور ہرزون میں مارکیٹ کمیٹی تشکیل دے کر چینی کی فروخت کو کنٹرول کر کے قیمتوں کو کم نہیں ہونے دیا، شوگرملز نے آپس میں گٹھ جوڑ کرکے گنے کی کرشنگ سیزن کے وقت کا بھی خود تعین کیا۔ یوٹیلٹی اسٹورز کے2010 اور2019 کے دو ٹینڈرز میں جن شوگر ملز نے حصہ لیا۔

رپورٹ کے مطابق یوٹیلٹی اسٹورز سے کہا گیا کہ ان ملز سے مساوی مقدار میں چینی خریدی جائے، اس طرح ایکٹ کے سیکشن4 (1) اور سیکشن4 ( ٹو) سی کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی، بعض شوگر ملزکی پیداواری لاگت 43روپے کلو بعض کی78روپے کلو ہے۔ ادھر چیف سیکریٹری پنجاب نے اجلاس کو بتایا کہ تعمیرات اور بلڈرز کے لیے آن لائن پورٹل کا اجرا کیا جاچکا ہے جس پر اب تک6994 درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ان میں 54فیصد کی منظوری دی جا چکی ہے۔

وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت ایف بی آر اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کے حوالے سے اجلاس میں وزیرِاعظم نے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے ٹیکس نظام کو سہل بنانے کی اہمیت پر خصوصی طور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایز کا فروغ حکومت کی اوّلین ترجیح ہے لہذا چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ معاون خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود نے وزیرِ اعظم کو ایف بی آر اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ غیرضروری ود ہولڈنگ ٹیکسز کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ٹیکس گزاروں کے لیے نظام خصوصاً گوشواروں کا نظام آسان بنایا جائے۔ بلاشبہ ٹیکس اصلاحات لانا ناگزیر ہے، ملکی معیشت کے ٹیکس نظام کی شفافیت اور قابل ٹیکس افراد میں یہ احساس اور تہذیبی ومعاشی شعور پیدا کرنا وقت کی ضرورت بھی ہے کہ ریاستی اور حکومتی کام اس مائنڈ سیٹ اور رویے کے زیر اثر ہیں جو ٹیکس دینے سے گریز پائی کے عادی بھی ہیں اور ٹیکس نہیں دیتے، اس گھناؤنے چکر کو اب ختم ہونا چاہیے، ہر شخص کو ملکی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے اپنے حصے کا ٹیکس قومی خزانہ میں شیئرکرنا چاہیے۔

حکومت بھی سرمایہ کاروں اور تاجروصنعت کار برادری کو جو ٹیکس سسٹم سے نالاں ہیں انھیں شفاف سہل ٹیکس سسٹم دے، ٹیکس کلچرکو پرکشش اور شخصی وقار سے جڑا رکھنے کی بنیاد ڈالنا اشد ضروری ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیراعظم سے ایکسپورٹرز کے وفد نے ملاقات کی، وفد نے برآمدات میں اضافے کے حوالے سے حکومتی پالیسی اور اقدامات پر وزیر اعظم اور ان کی معاشی ٹیم کو سراہا، وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے جس کے نتیجے میں معاشی عمل میں تیزی آئی ہے۔

اس حوالے سے وفد نے برآمدات میں خاطر خواہ اضافے، ایکسپورٹ آرڈرز، اندرونی طور پر سیمنٹ، اسٹیل، آٹوموبیلز کی فروخت میں خاطر خواہ اضافے کا ذکرکیا۔ وفد ممبران نے ایکسپورٹ میں اضافے اور ملکی استعداد کو بروئے کار لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز وزیرِ اعظم کو پیش کیں۔

وفد سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صنعتی شعبے کا فروغ حکومت کی اوّلین ترجیح ہے جس کی بدولت نہ صرف ملک میں معاشی عمل تیز ہوگا، نوکریوں کے مواقعے پیدا ہوں گے بلکہ اس سے دولت کی پیداوار بھی ممکن ہوگی۔ وزیرِ اعظم نے برآمدکنندگان اور صنعت کاروں کو یقین دلایا کہ ان کی جانب سے پیش کی جانے والی ہر قابل عمل تجویز پر غورکیا جائے گا۔ ملاقات میں وفاقی وزراء حماد اظہر، علی زیدی، فیصل واوڈا، مشیران عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ بھی موجود تھے ۔

پاکستان آئی لینڈز اور راوی اربن ڈویلپمنٹ منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق اجلاس کی صدارت وزیراعظم نے کی، چیئرمین پاکستان آئی لینڈز ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان آئی لینڈزکی ترقی کا منصوبہ ماحول دوست ہو گا۔ اس سلسلے میں ماحولیات کے بین الاقوامی اداروں بشمول انٹرنیشنل یونین فارکنزرویشن آف نیچرکے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین نے منصوبے کی قانونی ضروریات، سرمایہ کاری اور تعمیرات کے بارے میں بریفنگ دی۔

دریں اثنا اسٹیٹ بینک برآمدکنندگان کو ان کے فارن کرنسی اکاؤنٹس میں بچا کر رکھی گئی رقوم کو جوائنٹ وینچر، ویئرہاؤس حاصل کرنے اور ایکسپورٹ مارکیٹ میں ذیلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غورکر رہا ہے اس کا مقصد برآمدات کو فروغ دینا ہے جو اکنامک مینیجرز کے لیے برسوں سے ایک بڑا چیلنج ہے۔ برآمدات میں اضافہ قرض کے بڑھتے ہوئے حجم کو کنٹرول کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

حکومت کو بہرحال ادراک ہوا کہ برآمدات بڑھانا ضروری ہے، اسٹیٹ بینک نے برآمدکنندگان کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی برآمداتی آمدنی کا 10 سے 35 فیصد تک اپنے فارن کرنسی اکاؤنٹس میں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

بلاشبہ مذکورہ بالا اطلاعات، بزنس ملاقاتیں اور فیصلے ایک خوش آیند معاشی سیناریوکی نشاندہی کرتے ہیں مگر ضرورت اقتصادی پالیسیوں کو اولین ترجیح دینا اور ایک مجموعی روڈ میپ کی شکل دے کر عوام کو جمہوری ثمرات سے بہرہ مند کرنا بھی لازم ہے کیونکہ عوام زمینی حقائق سے جڑی معاشی آسودگی کے دیر سے منتظر ہیں اور مہنگائی ، غربت اور بیروزگاری سے بہت پریشان ہیں۔

مقبول خبریں