مسابقتی کمیشن کاموبائل ٹیلی کام آپریٹرزکوشوکازنوٹس

بیلنس ری لوڈکے وقت اضافی چارجزکی کٹوتی دھوکااورقانون کی خلاف ورزی ہے


Business Reporter December 24, 2013
نوٹسزانکوائری رپورٹ کی سفارشات پرجاری کیے،اعلامیہ،14روز کے اندر جواب دینے کی ہدایت فوٹو: فائل

MANCHESTER: مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے ملک کے تمام سیلولر موبائل ٹیلی کام آپریٹرز (سی ایم ٹی اوز) موبی لنک، یوفون، ٹیلی نار، زونگ اور وارد کو کمپٹیشن ایکٹ2010 کے سیکشن 10 کی مبینہ خلاف وزری پر شوکاز نوٹسز جاری کردیے۔

سی سی پی سے گزشتہ روز جاری اعلامیے کے مطابق مسابقتی کمیشن نے سی ایم ٹی اوز کی جانب سے پری پیڈکنکشنز کے لیے بیلنس ری لوڈ کرنے کے وقت اضافی چارجز عائد کیے جانے کا نوٹس لیا ہے، یہ اضافی چارجز پہلی بار جولائی 2011 میں آپریشنل چارج، مینٹیننس فیس، ایڈمنسٹریٹو فیس وغیرہ کے مختلف ناموں کے تحت پہلی بار متعارف کرائے گئے جو 1 سے 1.5 فیصد کے درمیان تھے، بعد میں سی ایم ٹی اوز نے 2012 میں ان اضافی چارجز کو نظرثانی کرکے بڑھا دیا گیا اور2013 میں ایسا ایک بار پھر کیاگیا، فی الوقت یہ اضافی چارجز 3 سے 5فیصد تک ہیں۔ اعلامیے کے مطابق انکوائری رپورٹ میں پایا گیا کہ ہربار بیلنس ری لوڈ کرنے کے وقت ان اضافی چارجز کی کٹوتی بظاہرصارفین کو کسی مخصوص خدمت کی فراہمی سے تعلق نہیں رکھتی، اسی طرح ان ایڈیشنل چارجز کو سیولر ٹیلی کمیونی کیشن سروسز کے حصول کی ''چھپی'' لاگت بھی کہا جا سکتا ہے۔

 photo 4_zpsd9135f87.jpg

جس سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان خدمات کی قیمتیں حقیقی لاگت سے کم ہیں، اس طرح یہ ایک دھوکہ دہی پر مبنی مارکیٹنگ پریکٹس ہے جو کمپٹیشن ایکٹ 2010کے سیکشن10 کی خلاف ورزی ہے۔ اعلامیے کے مطابق انکوائری رپورٹ کی سفارشات اور قانون کے مطابق صارفین کے مفادات کو تحفظ کی فراہمی کے لیے موبی لنک، یوفون، ٹیلی نار، زونگ اور وارد کو شو کاز نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔اعلامیے کے مطابق کمپنیوں کو نوٹسز کے 14 روز کے اندر تمام حقائق اور اپنے موقف کے حق میں ثبوت کے ساتھ تحریری جواب کمیشن کو مجاز نمائندے کے ذریعے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا کہ واضح کیا جائے کہ کیوں نہ ان کے خلاف ایکٹ کے سیکشن 31کی شق بی کے تحت مناسب آرڈر جاری یا ایکٹ کے 38 کے تحت مذکورہ خلاف ورزیوں پر جرمانہ عائد کیا جائے ورنہ کمیشن قانون کے مطابق مزید کارروائی کرے گا۔