چھوٹا تضاد بڑا بن گیا

حکمرانوں نے بغیرسوچے سمجھے’’کراچی سب کا ہے‘‘ کا نعرہ لگایا اورپہلے ہی سے لسانی تضادات کا شہرلسانی سیاست کا مرکز بن گیا


Zaheer Akhter Bedari December 25, 2013
[email protected]

کسی زمانے میں روشنیوں کا شہر اورعروس البلاد کے نام سے جانا جانے والا شہر کراچی آج لاشوں،خوف ودہشت،گریہ و زاری، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، بینک ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان، فقہی، لسانی، رنگ، نسل کی نفرتوں کا شہرکیوں بن گیا ہے؟ وہ ہنستا کھیلتا شہر جہاں آدھی آدھی رات تک گہما گہمی رہتی تھی ،خواتین دو بجے رات تک بے خوف وخطر گھومتی پھرتی نظر آتی تھیں، صدر کے ہوٹل جہاں اہل دانش اہل قلم آدھی رات تک سیاست قومی اور بین الاقوامی مسائل پر دانشورانہ بحث ومباحثے میں مصروف رہتے تھے۔جہاں رات بھر ٹریفک رواں دواں رہتا تھا جہاں دوسری شفٹ کے مزدور بے خوف وخطرکام سے فارغ ہوکر اپنے گھروں کوجاتے تھے اور تیسری شفٹ کے مزدورگھروں سے فیکٹریوں، ملوں،کارخانوں کو جاتے تھے کوئی مہاجر ہوتا نہ کوئی سندھی کوئی پٹھان ہوتا نہ کوئی پنجابی کوئی سندھی ہوتا نہ کوئی بلوچ کوئی شیعہ ہوتا نہ کوئی سنی کوئی دیوبندی ہوتا نہ کوئی بریلوی سب مل جل کر رہتے۔ آپس میں دوستی یاری ہوتی وہ کراچی کہاں گیا؟ کراچی میں رہنے والا ہر وہ شہری جو اس شہر میں امن اور بھائی چارے سے رہنا چاہتا ہے وہ ماضی کے اس کراچی کو حال کے اس کراچی میں تلاش کرتا نظر آتا ہے۔

کیا ماضی کا روشنیوں کا شہر اچانک اندھیروں کے شہر میں بدل گیا۔۔۔؟ آج ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ سوال بڑا نازک ہے اس کا جواب بھی بڑا نازک ہے کیونکہ اس سوال و جواب کے درمیان بعض ایسے نازک اور حساس مقام آتے ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں بدگمانیاں شکوک وشبہات پیدا کرسکتے ہیں اس لیے اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ہم اپنی فکری حیثیت کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم نے جب سے عملی سیاست اور قلمی سیاست میں قدم رکھا ہے۔

بلاامتیاز زبان قومیت رنگ نسل مسلک مذہب و ملت طبقاتی استحصال کے خلاف جدوجہد کی ہے اور اس استحصال کے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مظلوم انسانوں کو متحد ہونے اور متحد ہوکر اس ظلم کے نظام کے خلاف جنگ کرنے کی تلقین کی ہے ہمارے کالم ہماری سیاست ہماری صحافت ہمارے افسانوں کا مرکزی موضوع یہی طبقاتی سماج اور اس کی پیدا کردہ ناانصافیاں رہا ہے۔ آج ہم چونکہ اس مسئلے کے بعض ایسے پہلوؤں کو زیر بحث لانے جا رہے ہیں جس میں لسانی تضادات وغیرہ کا ذکر آئے گا اس لیے ہمیں اپنی فکری حیثیت کی وضاحت کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

دنیا کے ہر بڑے صنعتی شہر میں پسماندہ علاقوں سے بے روزگاروں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن اگر حکمران طبقے ملک و قوم کے بہی خواہ اور عوام کے ہمدرد ہوتے ہیں تو پسماندہ علاقوں سے ترقی یافتہ شہروں کی طرف نقل آبادی کے حساس کام کو پوری منصوبہ بندی اور موثر حکمت عملی کے ساتھ انجام دیتے ہیں باہر سے آنے والوں کی تعداد پر نظر رکھتے ہیں ان کے کردار ان کے پیشوں کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کے روزگار ان کی رہائش ان کی بنیادی ضروریات کا انتظام کرتے ہیں اور اس بات کا خاص طور پر خیال رکھتے ہیں کہ حصول روزگار کے نام پر جرائم پیشہ افراد اور گروہ شہروں کا رخ نہ کریں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے کسی حکمران نے ان احتیاطوں کا بھی خیال نہیں کیا ہمیشہ صرف اور صرف اپنے سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھا۔

سندھ میں اصل تضاد نئے اور پرانے سندھیوں کے درمیان ابھرا اس تضاد کو ختم کرنے کے لیے سندھ کے اردو بولنے والے دانشوروں نے سندھی دانشوروں سے لگاتار رابطے کرکے اس تضاد کو ختم کرنے یا کم کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ حکمران طبقات نے اس فرق کو ختم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا کیونکہ یہی ان کے مفادات کا تقاضہ تھا اس سیاست نے ایک طلبا تنظیم کو جنم دیا اور یہ تنظیم اردو اسپیکنگ آبادی میں اس تیزی سے مقبول ہوئی کہ طلبا کی یہ چھوٹی سی تنظیم ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن گئی اور سندھ کے شہری علاقے اس کے انتخابی حلقے بن گئے جہاں وہ 1988 سے 2013 تک ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہوتی آ رہی ہے۔

اس جماعت کا نام ہے متحدہ قومی موومنٹ۔ یہ جماعت کوئی فرشتوں کی جماعت نہیں بلکہ انسانوں کی جماعت ہے اس سے غلطیاں ہوسکتی ہیں لیکن کسی دانشور کسی حکمران نے متحدہ کی مقبولیت کے پس منظر کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی نہ اردو بولنے والوں کی ان محرومیوں کو ختم کرنے کا مثبت راستہ اختیار کیا جو انھیں متحدہ کی طرف لے جا رہے تھے بلکہ متحدہ کو ایک مخالف سیاسی قوت کے طور پر دیکھا اور اس کی شہری علاقوں پر بالادستی کو اپنے سیاسی مفادات کے خلاف سمجھ کر اس کی طاقت کو توڑنے کے لیے دوسری لسانی طاقتوں کو استعمال کرنا شروع کیا جس کا نتیجہ لسانی نفرتوں کی شکل میں نکلا اور سندھ کے غریب عوام شہری اور دیہی میں بٹ گئے۔ سندھ دیہی میں پی پی پی کی بالادستی قائم ہوگئی اور سندھ شہری میں متحدہ کی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان اقتداری اتحاد بھی بنتا اور ٹوٹتا رہا ان کے درمیان بے اعتمادی شکوک و شبہات بھی بڑھتے رہے لیکن ان اختلافات کو مثبت طریقوں سے حل کرنے کے بجائے منفی طریقوں سے اس تضاد کو بڑھایا گیا وہ لوگ وہ جماعتیں جو بھٹو کے سیلاب میں پہلے ہی بہہ کر طبقاتی سیاست سے معذور ہوگئی تھیں وہ اس نئی سیاست سے بالکل بے دست و پا ہوکر رہ گئیں۔

حکمرانوں نے بغیر سوچے سمجھے ''کراچی سب کا ہے'' کا نعرہ لگایا اور پہلے ہی سے لسانی تضادات کا یہ شہر لسانی سیاست کا مرکز بن گیا۔ ہماری مقتدر طاقتوں نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے ضیا دور میں مذہبی انتہاپسندوں کی جو فصل کاشت کی تھی اور جس کی پرورش دنیا کی اندھی سپرپاور نے ڈالروں سے کی تھی وہ فصل پک کر اس طرح تیار ہوئی اور بعض سیاسی جماعتوں نے اس فصل کو اپنے سیاسی مفادات کے پانی سے جس طرح سیراب کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ فصل پورے پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں لہلہانے لگی ۔کراچی چونکہ سونے کی چڑیا سمجھا جاتا ہے اس لیے یہ فصل کراچی میں اس طرح لہلہانے لگی کہ روشنیوں کا یہ شہر شہر آسیب بن گیا اور اس کا حال وہ ہوگیا جس کا ایک ہلکا سا نقشہ ہم نے کالم کی ابتدا میں کھینچنے کی کوشش کی ہے۔

''کراچی سب کا ہے'' کے فلسفے نے جہاں پسماندہ علاقوں کے بے روزگار عوام کو حصول روزگار کے لیے کراچی آنے کی راہ دکھائی وہیں اس فلسفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے صوبوں کے جرائم پیشہ افراد اور گروہ بھی اس فلسفے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور اسی فلسفے کا سہارا لے کر وہ انتہا پسند بھی کراچی بھر میں پھیل گئے۔ جن کا مقصد حصول روزگار نہ تھا بلکہ کراچی پر قبضہ تھا ،کئی سال پہلے پاکستان اور سندھ کے حکمرانوں کو اس خطرے سے آگاہ کیا گیا لیکن نہ مرکز نے اس طرف کوئی توجہ دی نہ صوبائی حکومت کو ہوش آیا، اب جب پانی گلے گلے تک آگیا ہے تو ڈوبنے سے بچنے کے لیے الٹے سیدھے پیر مارے جا رہے ہیں اور اب بھی سیاسی مفادات کو اولیت دی جارہی ہے۔

کراچی سب کا ہے کا نعرہ لگانے والوں کو غالباً اس حقیقت کا قطعی اندازہ نہ تھا کہ ان کے اس فلسفے کا وہ نتیجہ نکلے گا جو آج ہمارے سامنے ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اب بھی کراچی کے مستقبل کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے نہ کوئی بامقصد بامعنی پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں نہ نقل آبادی کو روکنے کی کوئی ٹھوس تدبیریں کی جا رہی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دوسرے علاقوں سے قافلے کراچی آ رہے ہیں ان میں بے روزگار کم جرائم پیشہ اور انتہا پسند زیادہ ہیں۔ انھیں نہ قدم قدم پر چیک پوسٹیں قائم کرکے روکا جاسکتا ہے نہ ٹارگٹڈ آپریشنوں کے ذریعے انھیں کراچی سے نکالا جاسکتا ہے۔

پسماندہ علاقوں سے بے روزگاروں کو کراچی آنے سے روکنے کا منطقی اور عاقلانہ طریقہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں روزگار کے مواقعے فراہم کرنے کے لیے صنعتوں کا جال بچھایا جائے ہر علاقے میں ایسے ترقیاتی پروگرام اور گھریلو صنعتیں شروع کی جائیں جن سے بے روزگاروں کو اپنے گھروں، اپنے گاؤں کے قریب روزگار کے مواقعے حاصل ہوں۔ اگر ان خطوط پر ترقیاتی کام شروع کیے جائیں تو نہ صرف بے روزگاروں کا سیلاب کراچی آنے سے رک جائے گا بلکہ کراچی میں محض روزگار کے لیے رہائش اختیار کرنے والے لوگ بھی اپنے علاقوں کو واپس جانے لگیں گے اگر ایسا نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں کراچی لسانی گروہوں کی جنگ کا ایسا مرکز بن جائے گا جس پر قابو پانا اتنا ہی مشکل ہو جائے گا۔ جتنا مشکل آج انتہا پسندوں پر قابو پانا ہو رہا ہے اور اس صورت حال کا تمام تر نقصان غریب طبقات ہی کو ہوگا خواہ ان کا تعلق کسی زبان بولنے والے سے ہو، کسی علاقے سے ہو اور اس کا تمام تر فائدہ ان طبقات کو ہوگا جو لڑاؤ اور حکومت کرو کی انگریزوں کی پالیسی اپناکر اپنے طبقاتی مفادات کا تحفظ کرتے آ رہے ہیں۔

مقبول خبریں